’’تعاون کیلئے تیار ہوں اگر۔۔۔ ‘‘شوکت ترین نے مقتدر حلقوں کے سامنے شرط رکھ دی

لاہور(نیوز ڈیسک)سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ مقتدر حلقوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے حکومت سے مل کر بات کرنے کا کہا تاہم میں نے صاف انکار کردیا،ہماری حکومت گرائی جس کی ضرورت نہیں تھی ،اگر عبوری حکومت لائیں تو تعاون کے لیے تیار ہوں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے

ہوئے انہوںنے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ بات ہوگی ،میں نے کہا کہ دیکھیں اگر میں ہوتا تو یہ نوبت نہیں آتی لیکن میں نے صاف انکار کردیا ۔انہوں نے ہماری حکومت کو باہر نکالا اگر نگران حکومت لاتے ہیں تو ہم تعاون کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ میٹنگ کچھ ہفتے قبل ہوئی تھی ابھی میٹنگ کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور جو میں نے جواب دیا تو مجھ سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا گیا۔شوکت ترین نے کہا کہ یہ حکومت دبائو نہیں لے سکتی جو ان کو سپورٹ کرتے رہے ہیں انہیں معلوم ہوگیا کہ ان کے بس کی بات نہیں ہے جو بھی فیصلہ لینا ہوگا اس میں عوام کا عمل و دخل ہوگا ،موجودہ حالات میں نئے انتخابات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما وفوکل پرسن برائے فوڈ سکیورٹی و خصوصی اقدامات جمشید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ کرپشن مارکہ حکمران ٹولے کو اپنے کل کا پتہ نہیں اس لئے نہ صرف خود روزانہ کی بنیاد پر قومی خزانے پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں بلکہ اپنے حواریوں کوبھی فیض یاب کرایاجارہا ہے ، صرف پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ(ن) نہیں بلکہ 13جماعتیں بھی انتخابی اتحاد بنالیں تحریک انصاف کے مقابلے میں ان کی ضمانتیں ضبط ہونا نوشتہ دیوار ہے ۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نےبزنس کانفرنس کےدوران گفتگو کرنے پر مفتاح اسماعیل کو ٹوک دیا۔ تفصیلات کے مطابق بزنس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل وفاقی وزیر خرم دستگیر سے گفتگو کررہے تھے کہ اس موقع پر وزیراعظم شہبا زشریف نے مفتاح اسماعیل کو ٹوک دیا۔نجی ٹی وی ٹوئنٹی فور کے مطابق وزیراعظم نے مفتاح اسماعیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘مفتاح یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے

اورہمیں اسے کرنا ہوگا۔ واضح رہے وزیراعظم کی جانب سے مخاطب کیے جانے پرمفتاح اسماعیل نے ہاتھ اٹھا کرجواب دیا اور ہدف حاصل کرنےکے عزم کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا، میثاق معیشت وقت کی اہم ضرورت ہے،غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکا،ماضی میں بھارت نے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کی، 90کی دہائی میں پاکستانی روپے کی قدر بھارتی کرنسی سے بہتر تھی، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے، ہم نے بڑے سخت فیصلے کیے ہیں جو آسان نہیں تھے۔اسلام آباد میں بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ تاجروں اور ماہرین کی خدمات قابل ستائش ہیں، حکومت دی گئی اچھی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنائے گی، کانفرنس میں دی جانے والی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ کانفرنس میں دی جانے والی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں، تاجروں اور ماہرین کی خدمات قابل ستائش ہیں، نوے کی دہائی میں پاکستانی روپے کی قدر بھارتی روپے سے بہتر تھی، ماضی میں بھارت نے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کی، معاشی اور سیاسی استحکام آپس میں جڑا ہوا ہے،سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں ہے، پاکستان کی 65 فیصد آبادی دیہاتوں پر مشتمل ہے، حکومت کو دی گئی تجاوز پر عملدرآمد کرائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز آئیں، مل کر بیٹھیں، میثاق جمہوریت پر فیصلہ کریں، میثاق معیشت وقت کی اہم ضرورت ہے،زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے

، میثاق معیشت کیتحت ایسے اہداف طے کییجائیں جنہیں تبدیل نہ کیا جاسکے، ہمارے پاس ایک سال 3 ماہ ہیں، ملکی ترقی کیلئے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہوگی، ہم لانگ ٹرم پالیسی نہیں بنا سکتے، 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو سب سے زیادہ حصہ جاتا ہے،گوادر کے شہروں کو پانی نہیں ملتا، وہاں بجلی نہیں ہے۔شہباز شریف نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین ملین ٹن گندم اس سال ہم ایکسپورٹ کر رہے ہیں، آج ہمارے پاس تیل اور گیس کیلئے پیسے نہیں ہیں، پاکستان ساڑھے 4 ارب ڈالر کا پام آئل درآمد کر رہا ہے،زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے،صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، بطور قوم باتوں کے بجائے ہمیں عملی طور پر کام کرنا ہوگا، افسر شاہی کا رونا جائز ہے،جنہوں نے کام کیا انہیں نیب کے ذریعے پکڑ کر بند کر دیا، ہم نے ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نیوکلیئر طاقت بن سکتے ہیں تو آئی ٹی انڈسٹری میں کیوں نہیں بن سکتے؟غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکا، آئیں مل کے ہم اس ویژن کو آگے بڑھائیں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ملکی پیداوار بڑھائی جاسکتی ہیں،غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے،گزشتہ حکومت نے دوست ممالک اور سرمایہ کاروں کو ناراض کیا،ہم لانگ ٹرم پالیسی نہیں بناسکے، زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، صوبوں کیساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا،معاشی حکمت عملی کی تیاری میں کاروباری طبقے سے رہنمائی لی جائے گی، ملکی ترقی میں سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.