پنجاب حکومت کی مہربانیاں:سرکاری وزراء کو گھرالاٹ کر دیے گئے، کون کہاں رہے گا؟ تفصیلات جاری کر دی گئیں

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے صوبائی وزراء کو جی او آر ون میں سرکاری گھر الاٹ کر دیئے ۔ ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر حیدر گیلانی کو 12 ایکمن روڈ جی او آر ون ، صوبائی عزیر بلال اصغر وڑائچ کو 5 اپر مال جی او آر ون، صوبائی وزیر حسن مرتضی کو ون اے

اپر مال جی او آر ون، صوبائی وزیر اویس لغاری کو 25 ایڈمن روڈ جی او آر ون میں سرکاری گھر دیئے گئے جبکہ صوبائی وزیر ملک احمد خان کو تین پٹیالہ روڈ جی او آر ون میں گھر الاٹ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ وزراء کو وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی منظوری کے بعد گھر الاٹ کیے گئے ہیں۔ صوبائی وزراء کو کابینہ بلاک میں دفاتر بھی الاٹ کر دیئے گئے ہیں جہاں انہوں نے باقاعدہ اپنے قلمدان سنبھال کر کام شروع کر دیا ۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق فلارملز ایسوسی ایشن نے محکمہ خوراک پنجاب کے رویے کے خلاف ہڑیال کی کال دے دی۔ کل سے پنجاب کی تمام فلارملزآٹا سپلائی نہیں کریں گی، حکومت کی سبسڈائز آٹے کی اسکیم کو بھی نہیں چلائیں گے، ملز مالکان کی ناجائز پکڑ دھکڑ فوری بند کی جائے۔جیو نیو زکے مطابق فلارملز ایسوسی ایشن نے محکمہ خوراک پنجاب کے رویے کے خلاف ہڑیال کی کال دے دی ، کل سے پنجاب کی تمام فلارملزآٹا سپلائی نہیں کریں گی۔سابق چیئرمین ایسوسی ایشن طاہر ملک نے کہا کہ فیصل آباد میں فلار ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین میاں انجم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، فلارملز میں اے سی یا ڈی سی کا داخلہ قابل قبول نہیں۔ایسوسی ایشن کے عہدیدار عاصم رضا نے کہا کہ محکمہ خوراک کا عمل دخل ختم ہونے تک گندم پسائی نہیں کی جائے گی،حکومت کی سبسڈائز آٹے کی اسکیم کو بھی نہیں چلائیں گے، حکومت پنجاب کی فراہم کردہ گندم کے تمام اعدادوشمارمحکمہ خوراک کے ویب پورٹل پر موجود ہیں، گندم کی مصنوعات کی نقل وحمل پر پابندیاں آئین کے منافی ہیں، فلارز ملز مالکان کی ناجائز اور غیرقانونی پکڑ دھکڑکا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔

دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نےاسلام آباد میں بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی پری بجٹ بزنس کانفرنس میں شرکت پر خوشی ہے ، ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے ، سب مل کر مسائل پر قابو پائیں گے ، جب ہم حکومت میں آئے تو پاکستان مہنگائی میں تیسرے نمبر پر تھا ، پاکستان میں ہر سال 18 سے 20 لاکھ افراد لیبر مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں ، پچھلے 4 سال میں 2 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے ، جب ہم حکومت میں آئے تو 5600 ارب روپے بجٹ خسارہ تھا ، رواں سال بجٹ خسارہ ساڑھے تین سال بجٹ خسار ے کے برابر تھا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کہا گیا پرائمری ڈیفسٹ 25 ارب کا کریں گے ، ایک ہزار 300 ارب کا پرائمری ڈیفیسٹ ہوا ، سب وزرائے اعظم نے مل کر 24 ہزار ارب قرض لیا ، عمران خان نے اپنے دور میں 20 ہزار ارب سے زائد قرض لیا ، آئندہ سال 21 ارب ڈالر قرض واپس کرنا ہے ، اس کے باوجود ہماری حکومت رواں سال توانائی کے شعبے میں 1100 ارب کی سبسڈی دے گی ، پیٹرولیم کے شعبے میں 81 ار ب روپے کی سبسڈی دے گی اور آئندہ سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 1200 ارب لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی وزیر اعظم کے لیے بہت مشکل تھا کہ کہ دو بار 30 روپے پیٹرول کی قیمت بڑھائے ، عمران خان آئی ایم ایف سے معاہدے کے برخلاف سبسڈی دے کر گئے ، جب ان کو پتہ چلا کہ حکومت جارہی ہے تب یہ سبسڈی دے کر گئے ، اگر ہم معاہدے پر چلتے تو پیٹرول کی قیمت 300 روپے ہوتی ، حماد اظہر نے روس کو پیٹرول کے لیے خط لکھا اس کا جواب تک نہیں آیا ، آئل لینے کا ان کا کوئی چانس نہیں تھا جب کہ جب ہماری حکومت تھی تب ہم گندم اور چینی برآمد کر رہے تھے ، اب چینی اور گندم درآمد کی جارہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.