پرویز مشرف نے عمران خان کو تحریک انصاف کو (ق) لیگ میں ضم کرنے کے بدلے میں کس انعام کی پیشکش کی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خواجہ جمشید امام اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جب بجلی کا بل دیکھ کر بیوی کی شکل بیوہ جیسی ہو جائے تو سمجھ لیں کہ اس گھر کا مرد اہلِ خانہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل نہیں رہا۔موجود حالات کا ذمہ دار کون ہے اس کیلئے

ناموں کی ایک طویل فہرست درکار ہے ۔48ء میں قائد کی وفات کے بعدقائد کے سپاہیوں اوراقبال کے شاہینوں نے اس ریاست میں بسنے والوں کے ساتھ وہ سلوک کیا جو ایک فاتح سپاہ مفتوح کے ساتھ کرتی ہے۔ جس نے پاکستان کے ابتدائی مسائل کوانتہائی مسائل تک پہنچایا۔کبھی مطالعہ پاکستان میں مہاجرین کا مسئلہ پڑھا تھا اب مہاجروں کے پیدا کردہ مسائل سے نبرد آزماہیں ۔ ایوب خان نے مارشل پلان سے مستفید ہو کر پاکستان جیسے زرعی ملک کو انڈسٹریلائز کرنے کی ناکام کوشش کی تو ہم نہ زرعی رہے اور نہ صنعتی ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انقلابی ورکروں اور بغیرکسی مضبوط اور مربوط پروگرام کے نیشنلائزیشن کرکے اسے ہمیشہ کیلئے پاکستانی عوام کی نگاہوں میں مشکوک بنا دیا ۔ افغان وار کا ’’ پشت پنگا ‘‘ لینے والے جرنیل ایک ہی طیارے میں ملک ِعدم سدھار گئے اور پاکستان کو بے رحم مذہبی جنونیوں کے سپرد کرگئے ۔ضیائی بلائوں کو انجام تک پہنچانے کیلئے پرویز مشرف کو لایا گیا یعنی ایک جرنیل نے انتہاء پسند پیدا کرنے کے ڈالرلیے اور دوسرے نے انہیں ختم کرنے کے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ باری کے بخار کی طرح ملک کے اقتدار کی بلندیوں کو چھوتی رہی لیکن ہر گزرتا لمحہ پاکستانیوں کیلئے پستی کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔ ان ادوارمیں اگرکسی چیز پر عروج آیا تو وہ فقط’’ زمین اورکمین ‘‘ تھا جن کے اصل اور باقیات آج بھی پاکستان میں ہر سو لوٹ مار کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔عمران خان کی سیاست ریاست مدینہ سے شروع ہو کر کوفہ میں خیمہ زن ہوئی۔عمران کے ابتدائی موقف میں سب چور تھے لیکن پھر جی ڈی اے (گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس )میں معلوم ہوا کہ

صرف’’ نواز شریف چور اور ایم کیو ایم شرپسند ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی تو جی ڈی اے کا حصہ بن گئی تھی ۔نواز شریف کی دوتہائی اکثریت فوجی جنتا نے اپنے جوتے کی نوک پر لکھی اورملک میں پرویزی عہد شروع ہو گیا ۔ اب چونکہ تحریک انصاف کے ابتدائی دونوں سے جماعت اسلامی سے بدعنوانی کی بنیاد پر نکالے گئے لوگ اس کاحصہ تھے سو اِن حالات میں معراج محمد خان کی سوشلسٹ تنظیم پاکستان قومی محاذ آزادی کا تحریک انصاف میں ضم ہوناایک عجیب سے بات تھی کیونکہ ایسا کرنے سے تحریک انصاف ایک عجیب و غریب چوں چوں کا مربہ بنا گیا ۔معراج پارٹی کے سیکرٹری جنرل اورکراچی کے رہائشی تھے سو کراچی میں موجود تحریک انصاف کے ورکرز اورجماعت اسلامی کے سابقون کو نظریاتی طور پر معراج قابل قبول نہیں تھا۔پرویز مشرف نے عمران کو وزارتِ عظمی کا سبز باغ دکھایا تو عمران ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود مشرف کے ساتھ نہ جانے کا وعدہ کرکے ریفرنڈم میں چلا گیا اوراُس کے غیر نظریاتی ورکرز اور عمران فین کلب کے لوگ ریفرنڈم کے دن پولنگ کیمپوں میں دھمال ڈالتے دکھائی دیئے جس کی تصاویر مختلف اخبارات نے فرنٹ پیج پر شائع کیں۔ بہت سے تحریکیوں نے شیروانیا ں سلوا کررکھ لیں لیکن شرابیوں کی قسم اورجرنیلوں کے وعدے کبھی لائق ِ اعتبار نہیں ہوتے اور جمہوری سیاستدان کو یہ زیب بھی نہیں دیتاکہ وہ کسی ماتحت جرنیل کا کاسئہ لیس بنے لیکن مانگنے کی عادت بھکاری کو ہر در پر لے جاتی ہے ۔صدر بننے کے بعد مشرف نے عمران خان کو تحریک انصاف فوری طورپر

قاف لیگ میں ضم کرنے اورکوئی پنج یا دس ہزاری عہدہ دربارِ پرویزی میں لینے کی پیشکش کی لیکن عمران خان اس سے پہلے (بقول عمرا ن خان کے ) نواز شریف کی 32 سیٹوں کی آفرکو ٹھکرا چکے تھے سو معاملات ختم ہو گئے اور عمران خان ایک بار پھر انقلابی لیڈر بن کر عوام کے سامنے کھڑا تھا حالانکہ وہ اتنا بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 6 بی کا مرتکب ہو چکا ہے۔ ہم چند لوگوں نے ریفرنڈم میں عمران خان کے موقف کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا اور اس ریفرنڈم سے لاتعلق رہے لیکن عمران خان نے ایک بار پھر قوم سے ایک اورجھوٹ بولا کہ وہ آئندہ کسی جرنیل کے جھانسے میں نہیں آئے گا لیکن وہ اس پر قائم نہ رہ سکا اورجنرل شجاع پاشا سے پھر مات کھا کر اپنی سیاسی سپاہ لے کر اسلام آباد پہنچ گیا ۔عمران خان نے عافیہ صدیقی کیس اچھالا اور تالبان کیلئے نرم گوشہ پیدا کیا جو دراصل مشرف یا ریاست مخالف بیانیہ اور مشرف کی بیوفائی کا رد عمل تھا ۔الیکشن 2002ء کے بعد عمران کا رجحان جماعت اسلامی کی جانب بڑھتا چلا گیا جس میں اُن کے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی نے اہم کردار ادا کیا ۔پارٹی کے 10 ویں یوم تاسیس پر جب قاضی حسین احمد کو مہمان خصوصی بنا کرسٹیج پر بٹھایا گیا تو میں نے بطور سیکرٹری لاہور اپنی تقریر میں نہ صرف اس کی مذمت کی بلکہ ایل ۔ایف ۔ او کے حوالے سے مشرف کی حمایت کرنے پرانہیں عمران خان کا قول یاد دلایا کہ ’’ایل ۔ ایف۔ او

سائن کرنے والے غدار ہیں ۔‘‘اس کے بعد جماعت اسلامی کے ساتھ عمران خان کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا جوقاضی صاحب کی وفات تک جاری رہا ۔غالباً 2004 ء کی بات ہے کہ عمران نے معراج محمد خان کوکراچی سے اسلام آبادبلایا لیکن جب معراج بنی گالہ پہنچے تو ملازمین نے بتایا کہ’’ عمران اپنے کتوں کے ساتھ شکار پر گیا ہوا ہے آپ انتظار کرلیں ۔‘‘ معراج محمد خان جیسے عظیم انسان کو تقریبا 6 گھنٹے انتظارکرنا پڑا اورجب عمران خان گندی ٹی شرٹ اور ٹروزر پہنے کمرے میں داخل ہوا تو معراج کو دیکھتے ساتھ بولا :’’ معذرت خان صاحب میرے ذہن سے نکل گیا تھا ۔‘‘ معراج نے کھڑے ہوتے ہوئے برجستہ جواب دیا :’’ عمران آج کے بعد تمہارے کتے ہی تمہارے ساتھ رہیں گے ۔‘‘اورپھر معراج محمد خان تحریک انصاف کو عمران خان کے کھیل تماشوں کیلئے کھلا چھوڑ گئے ۔انہوں نے پاکستان قومی محاذ آزادی کا احیاء بھی نہ کیا جس کی وجہ سے معراج کے نظریاتی ساتھیوں کو تحریک انصاف میں ہی رہنا پڑا شاید اس کی بڑی وجہ معراج کی مسلسل خراب رہنے والی طبیعت یا پھر بڑھتی ہوئی عمرنے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہ دی ۔ستمبر2011 ء کے بعد عمران خان آہستہ آہستہ ہیوی ویٹس کی جانب کھسکتا چلا گیا ۔ مختلف جماعتوں سے آئے لوگ اسے یہ باور کروانے میں کامیاب ہو گئے کہ ’’ آپ کو ابھی تک اقتدار نہ ملنے کی وجہ آپ کے پرانے انقلابی ساتھی ہیں ۔‘‘اور پھر عمران نے 2018 ء کے انتخابات تک ورکروں کو استعمال کرنے کیلئے

رکھا لیکن اقتدار میں آتے ہی اُس نے اپنے پرانے جانثاروں پرجتنی پابندیاں لگائیں اُتنی پابندیاں ایٹمی تجربات کے بعد امریکہ نے بھی پاکستان پرنہیں لگائیں تھیں لیکن اب وہ گلہ کرتا ہے کہ لونگ مارچ میں پنجاب سے لوگ نہیں نکلے توجناب عمران خان صاحب! یہ سوال آپ بزدار پنجاب سے منتخب صوبائی و قومی وزیروں مشیروں محکموں میں سیاسی بھرتی کیے جانے والے چیئرمینوں اوردوسرے من پسند تنظیمی عہدیداروں سے کریں ۔ پنجاب کے ورکروں پر تو آپ نے اعتماد ہی نہیں کیا ۔آپ کہتے ہیں کہ پنجاب سے زیادہ لوگ لوٹے ہوئے ہیں آ پ کو یاد ہو گا کہ آپ نے الیکشن سے پہلے کے پی کے کے 40 لوٹوں کو تحریک انصاف سے فارغ کیا تھا۔ پنجاب کو آپ نے گلو بٹوں کا صوبہ قرار دے رکھا ہے ۔آپ نے پی ٹی آئی کو’’ پختون تحریک انصاف ‘‘بنا کررکھ دیا تھا ۔پنجاب کی نئی نامزدگی تنظیم میں جن لوگوں کو شوکاز ہونا چاہیے تھا عمران خان نے ایک بار پھر انہیں لوگوں پر اعتماد کیا جو ساڑھے تین سال اپنی نالائقی کی وجہ سے پاکستانیوں اورتحریک انصاف کے ورکروں پرعذاب بنے بیٹھے تھے ۔ غیرت مند آدمی کی گنجائش تو آپ نے تحریک انصاف میں اپنے رویے سے ختم کردی تھی لیکن ان نامزدگیوں میں چھپی نالائقی ایک بار پھر آپ کے غلط فیصلے کا منہ چڑا رہی ہے۔ مجھے اب تحریک انصاف سے صرف لاتعلقی کا اعلان کرنا ہے جس کیلئے ساتھیوں سے مشورے جاری ہیں سو آپ جو بھی کریں اُس سے مجھے اورمیرے ساتھیوںکو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن تحریک انصاف اکرام اللہ نیازی مرحوم وراثت میں چھوڑ کر نہیں گئے اس پر غریب ورکروں کی زندگی انوسٹ ہوئی ہے اس لئے ایک ہی ضلع سے سینٹرل پنجاب کا صدر اورجنرل سیکرٹری لینا دوسرے اضلاع پرعدم اعتماد ہے جو آپ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.