عمران خان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر کیسے انہیں اقتدار سے علیحدہ کیا گیا ؟ اوریا مقبول جان نے غیر ملکی سازش کے تانے بانے قوم کے سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عمران خان کی حکومت کو گئے ہوئے تقریباً دو ماہ مکمل ہونے کو ہیں، جبکہ پاکستان میں اس سیاسی بحران کو نازل ہوئے نوے دن کا عرصہ ہو چکا ہے۔ دُنیا بھر کے تجزیہ نگار اخبارات و رسائل

میں تبصرے شائع ہو رہے ہیں، ٹیلی ویژن چینل پر ٹاک شوز ہو رہے ۔ پاکستان کے میڈیا کو اشتہارات کی لذت حکومت کی ڈانٹ نے بہت حد تک خاموش کر دیا ہے، مگر پھر بھی آزادانہ تبصرہ برآمد ہو ہی جاتا ہے۔ لیکن اس دو ماہ کے عرصے میں پاکستان کے بدترین معاشی حالات پر بھی، ناجائز قرضوں کے خاتمے کی اسی کمیٹی (CADTM)کی ویب سائٹ پر کوئی گفتگو نہ ہوئی، لیکن اب چند دن پہلے پاکستان پر ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے جس میں عمران خان کی حکومتی تبدیلی (Regime Change) کی وجوہات، اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بھونچال (Political Turmoil) اور پاکستان پر گہرے ہوتے ہوئے قرضوں کے سائے کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مضمون میں عمران خان حکومت سے امریکہ کی ناراضگی کی تین بڑی وجوہات بتائیں گئیں ہیں جن میں سب سے اہم وجہ عمران خان کا وہ اقدام تھا جس کے تحت اس نے دُنیا بھر کے ممالک کے سرمایہ کاروں کے پاکستان کے ساتھ ہونے والے تیئس (23) معاہدوں کی منسوخی اور ان کے ساتھ نئے معاہدوں کو تحریر کرنے کا آغاز کیا تھا۔ عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی اس بات کا اندازہ کر لیا تھا گذشتہ حکومتیں پاکستان کو ایسے عالمی معاہدوں میں پھنسا گئی ہیں جن کی وجہ سے حکومت کے ہاتھ مکمل طور پر بندھ چکے ہیں اور ملک کا مفاد تباہ ہو رہا ہے۔ سرمایہ کار کا تحفظ (Investor Protection) کا عالمی تصور وہ جال ہے جس کے تحت کوئی بھی مقامی حکمران عوامی مفاد کے تحت کوئی قدم نہیں اُٹھا سکتا۔

عمران خان کے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد ہی ورلڈ بینک کے ایک ذیلی ادارے ’’انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس‘‘ (ICSID) نے تین پرائیویٹ ججوں کا ایک ٹربیونل بنایا جس کی تمام کارروائی بند کمرے میں ہوتی رہی۔ اس ٹربیونل نے اپنے اس خفیہ چلائے جانے والے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کو چھ ارب ڈالر اس آسٹریلین کمپنی کو تاوان کے طور کو ادا کرنے کے لئے کہا جس کا لائسنس اس بنیاد پر منسوخ کر دیا گیا تھا کہ اس پراجیکٹ سے ماحولیاتی آلودگی ہو سکتی ہے۔ ایک اور مقدمے میں ٹیتھیان کاپر (Tethyan Copper) کو بھی ایسے ہی ایک اور ٹربیونل نے پاکستان کو گیارہ ارب ڈالر تاوان ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ٹربیونل کی کارروائی بھی بند کمرے میں خفیہ طور پر ہوتی رہی۔ یہ ٹربیونل عالمی چیمبر آف کامرس کے تحت قائم تھا۔ عمران خان کی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف طویل قانونی جدوجہد کی۔ یہ موقف بھی اپنایا گیا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد سے ہماری غربت میں اضافہ ہو گا اور کمپنی کے لئے بھی ایسی فضا میں کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ مگر “ICSID” کے فیصلے کو نافذ کرنے والی امریکی عدالت نے پاکستان کے مقدمے کا تمسخر اُڑاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بے سروپا خواہش کے سوا کچھ نہیں۔ عمران خان نے دوست ممالک کے بیرونی مصالحت کاروں کے ذریعے ٹیتھیان سے گفتگو کا آغاز کیا اور 2022ء کے آغاز میں ہی کمپنی کے ساتھ معاہدہ مکمل کر لیا۔ اس معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد دُنیا بھر کے سرمایہ کاروں میں ایک خوف کی لہر دوڑ گئی۔

اس لئے کہ اب ICSID کو ان تمام کیسوں کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کے اس معاہدے کو بھی نظر میں رکھنا پڑنا تھا۔ اس ٹربیونل کے سامنے اس وقت میکسیکو میں او ڈیسی کمپنی کا 4 ارب ڈالر کا معاہدہ اور دیگر کئی عالمی معاہدے زیرِ سماعت تھے۔ یہ صرف ایک معاہدہ نہیں تھا جو پاکستان کے مفادات کے خلاف کیا گیا تھا بلکہ ایسے کئی معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف دس کمپنیاں عالمی عدالتوں میں جا چکی تھیں۔ ایسے تیئس معاہدے تھے جو زرداری اور نواز شریف حکومتوں نے پاکستان کے مفادات کے خلاف کئے تھے، جن کا جائزہ لینے کے لئے عمران خان نے ایک ٹربیونل بنا دیا۔ وہ دس معاہدے جن کے خلاف کمپنیاں عالمی عدالتوں میں چلی گئی تھیں ان میں سے نو کمپنیوں کے ملکوں کی حکومتوں سے پاکستان نے رابطہ کیا اور معاہدوں میں ترامیم کے لئے گفتگو شروع کی۔ ان کمپنیوں کے ساتھ حکومتوں کے ذریعے طویل مذاکرات ہوئے اور معاہدات کو ازسر نو تحریر کرنے پر اتفاق ہو گیا۔ اس تبدیلی کے لئے سمری 5 اگست 2021ء کو تیار کر لی گئی۔ اس سمری کے تحت تیئس کمپنیوں کے معاہدات دوبارہ لکھے جانا تھے اور سولہ مزید معاہدات جن پر اتفاق تو ہو چکا تھا مگر سرکاری منظوری (Ratify) ابھی باقی تھی ان کو کینسل کر دیا گیا۔ یہ ہے ’’رجیم چینج‘‘ کی کہانی کی مختصر سی جھلک۔ یہ ہے وہ ناقابلِ معافی جرم جو عمران خان کی حکومت سے سرزد ہوا۔ اگر عمران خان ایسا کر گزرتا تو نہ صرف یہ کہ پاکستان کا مالی مفاد مستحکم ہو جاتا بلکہ دُنیا بھر کے ممالک میں پھیلے ہوئے عالمی مالیاتی شکنجے کے خلاف بھی لاتعداد آوازیں اُٹھنے لگتیں۔ ایسے ’’ناخلف‘‘ اور گستاخ شخص کی حکومت کو تو برطرف ہونا ہی تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.