کرشمہ ہو گیا: پاکستان کا ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے کی امید پیدا ہو گئی۔۔۔حکومت میں خوشی کی لہر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایف اے ٹی ایف کا اہم اجلاس 14 سے 17 جون تک جرمنی کے شہر برلن میں ہو گا۔ پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن ہیں۔ پاکستان نے 34 میں سے 32 نکات پر عملدر آمد کرلیا۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان فیٹف کے

دو مختلف پلانز کے تحت 34 میں سے 32 نکات پر عملدرآمد مکمل کیا گیا ہے۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر جبکہ 2021 کے ایکشن پلان کے تحت 7 میں سے 6 نکات پر عملدرآمد کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کریں گی جس کے لیے وزارت خارجہ نے حکمت عملی طے کر لی ہے۔ اجلاس میں پاکستان سے متعلق امور 15 سے 16 جون کو زیر غور آئیں گے۔دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے پہلے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا۔اپوزیشن ارکان پولیس گرفتاریوں، چھاپوں اور مقدمات پر برس پڑے۔گرفتاریوں اور مقدمات کے معاملے پر بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلا س میں ملک احمد خان اور میاں اسلم اقبال کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔پی ٹی آئی رہنما اسلم اقبال نے کہا کہ ہمارے گھروں میں پولیس داخل ہوئی،گھروں میں دیواریں پھلانگ کر پولیس کیسے داخل ہو سکتی ہے، کیا ہمارے نیب کے کیس ہیں؟۔ملک احمد خان نے کہا ساڑھے تین سال ہم نے بھی یہی برداشت کیا۔میاں اسلم اقبال نے کہا اپوزیشن ارکان کے گھروں کا تقدس پامال کیا گیا۔لیگی ررہنما ملک احمد خان نے کہا ایک گھنٹے سے منت کر رہا ہوں۔ اسلم اقبال نے جواب میں کہا کہ آپ منت کر رہے ہیں آپ تو دھمکیاں دے رہے ہیں۔مراد راس بھی پولیس کی کارروائیوں پر برس پڑے۔اسپیکر چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا آئی جی اسمبلی فلور پر تمام انتقامی کاررائیوں پر معافی مانگے ۔اپوزیشن لیڈر سبطین خان نے کہا اسپیکر صاحب آپ یقینی بنائیں آئی جی اور چیف سیکرٹری اسمبلی کے سامنے پیش ہوں۔اپوزیشن نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں طلب کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پھر ہم احتجاج نہیں کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.