آبی ذخائر میں قابل استعمال پانی ختم:منگلا ڈیم کی صورتحال ڈیڈ لیول پر آ گئی۔۔۔پانی کا سنگین مسئلہ کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے ؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک) آبی ذخائر میں قابل استعمال پانی ختم ،تربیلا اور چشمہ کے بعد منگلا ڈیم بھی ڈیڈ لیول پر آگیا . رپورٹ کے مطابق ملکی آبی ذخائر میں 79 ہزار ایکٹر فٹ پانی رہ گیا ہے ۔ارسا حکام کے مطابق منگلا،تربیلا اور چشمہ میں پانی کا مجموعی ذخیرہ79 ہزارایکڑ فٹ ہے۔ منگلا میں پانی

کی آمد 21ہزار300کیوسک اور اخراج 23 ہزار700کیوسک ہے۔ تربیلا میں پانی کی آمد 89 ہزار400کیوسک اور اخراج 88 ہزار600کیوسک ہے۔اس کے علاوہ چشمہ میں پانی کی آمد1 لاکھ 7 ہزار400کیوسک اور اخراج1 لاکھ 3ہزار100کیوسک ہے ۔ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 26ہزار800کیوسک اور اخراج 17 ہزار200کیوسک ہے۔نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 21 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 21 ہزار300 کیوسک ہے۔ جبکہ ترجمان واپڈا کا کہنا ہے کہ منگلا میں آج پانی کا ذخیرہ 79 ہزارایکڑ فٹ ہے ۔دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے اراکین اور پارلیمانی سیکریٹریز کے اجلاس میں وفاق کی جانب سے خطے کی بجٹ گرانٹس میں کٹوتی کے باعث 23-2022کا بجٹ پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی زیر صدارت اجلاس میں 16 میں سے 13 وزرا، 4 میں سے 3 مشیروں اور معاونین خصوصی اور 5 میں سے 3 پارلیمانی سیکریٹریز نے شرکت کی۔قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری انوار الحق بھی اس موقع پر موجود تھے جو ان دنوں آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اجلاس میں بجٹ میں کٹوتی کے معاملے پر اسمبلی کے اندر اور باہر موجود اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے لیے 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔الیکٹرانک، پرنٹ اور اور سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرنے کے لیے مزید 2 کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ایک سرکاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعظم سردار تنویز الیاس نے افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں پر بجٹ میں کٹوتی کر رہی ہے جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ’آزاد جموں کشمیر نہ صرف کشمیر کی آزادی کا بیس کیمپ ہے بلکہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جارحیت کے پیش نظر علاقائی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے، یہ بجٹ میں کٹوتیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم حکومتِ پاکستان کو خطے کی حساس نوعیت کے ساتھ ساتھ بجٹ میں کٹوتیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے بھی آگاہ کریں گے‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.