حکومتی اتحادی واردات ڈالنے میں کامیاب! نیب کو کس طرح بے اثر کر دیا گیا؟ عمران ریاض خان کے تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیب ترمیمی بل میں ختم ہونے والے نیب اختیارات کی تفصیلات سامنے آگئیں،جس کے تحت صرف اثاثوں پر کیس نہیں بنے گا، پہلے کرپشن ثابت کرنا ہوگی۔تفصیلات کے مطابق نیب قانون میں ترامیم کے بعد ختم ہونے والے نیب اختیارات سے متعلق تفصیلات سامنے آگئیں۔نیب ترمیمی بل کے بعد صرف اثاثوں پر کیس نہیں بن سکے گا پہلے کرپشن ثابت کرنا ہوگی اور بارثبوت ملزم کی بجائے نیب پر ہوگا۔

اس سے پہلے نیب کا قانون تھا جس کے پاس سے مال مسروقہ برآمد ہو اسے ثابت کرنا پڑتا ہے اور یہ بتانا پڑتا ہے کہ یہ جائیدادیں، پیسہ کن ذرائع سے بنایا گیا۔اگر نیب مقدمہ ثابت نہیں کرسکتا تو مقدمہ بنانیوالے نیب افسران کو 5 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔تجزیہ کاروں کے مطابق نیب افسران کے خلاف اس اقدام سے نیب بے اثر ہوکر رہ جائے گا اور اس ترمیم سے کوئی نیب افسر طاقتور لوگوں کے خلاف کاروائی کی جرات نہیں کرسکے گا۔ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والی دستاویزات بطور شہادت عدالت میں پیش نہیں کی جاسکے گی۔ خیال رہے کہ نوازشریف کی نااہلی یواے ای سے آئی دستاویزات جبکہ نوازشریف اور مریم نواز کو سزا لندن سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر ہوئی تھی۔اگر بیرون ملک سے آنیوالی دستاویزات بطور شہادت قبول نہیں کی جاسکے گی تو اس سے سب سے زیادہ فائدہ شریف فیملی کو ہوگا اور ان شواہد میں بنک اکاؤنٹس، آفشور کمپنی کی دستاویزات وغیرہ شامل ہیں۔نیب ترمیمی بل کے مطابق ملزم کے خلاف قیاس پر سزا کی نیب قانون کی سیکشن 14 ختم کردی گئی ہے ۔مختلف صحافیوں کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ نوازشریف، آصف زرداری ، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر ملزمان کو ہوگا۔نیب ترمیمی بل میں کہا گیا کہ رجسٹرڈ کمپنی کے فراڈ پر نیب کوئی ایکشن نہیں لے سکے گا جبکہ لوگوں سے فراڈ پر 100 سے کم شکایات پر نیب کوئی ایکشن نہیں لے سکتا۔ترامیم کے مطابق نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں نیب کورٹ میں پیش کرنے پابند ہوگا، کیس دائر ہونے کے ساتھ ہی گرفتاری نہیں ہوسکے گی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ کہ نیب اب 6 ماہ کی حد کے اندر انکوئری کا آغاز کرنے کا پابند ہوگا، اس سے پہلے نیب 4 سال تک انکوائری شروع نہیں کرتا تھا۔اب نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں نیب کورٹ میں پیش کرنے پابند ہوگا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب گرفتاری سے پہلے کافی ثبوت کی دستیابی یقینی بنائے گا اور ریمانڈ 90 دن سے کم کرکے 14دن کردیا گیا۔اینکر عمران خان کے مطابق انہوں نے بالکل ہی نیب کے دانت توڑدئیے ہیں۔نیب کو مکمل طور پر ناکارہ بنادیا گیا ہے، اب کسی سیاستدان یا بیوروکریٹ کے کیسز نہیں چلائے جاسکتے۔اینکر عمران ریاض کے مطابق آمدن سے زائد اثاثوں، منی لانڈرنگ کے معاملات کو انہوں نے نیب ترمیمی بل سے بالکل نکال دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.