ایک طنزیہ اور مزاحیہ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں فرانس سے آزادی کے بعد کانگو میں فرانس نے اپنا سفیر تعینات کیا۔ ایک دن فرانسیسی سفیر شکار کی تلاش میں کانگو کے جنگلات میں نکل گیا۔ چلتے چلتے فرانسیسی سفیر کو دور سے کچھ لوگ نظر

آئے۔ وہ سمجھا شاید اس کے استقبال کے لئے کھڑے ہیں۔ قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک جنگلی قبیلہ ہے۔۔ چنانچہ فرانسیسی سفیر کو پکڑ کر انہوں نے ذبح کیا، اسکی کڑاہی بنائی اور جنگل میں منگل کر دیا۔فرانس اس واقعے پر سخت برہم ہوا اور کانگو سے مطالبہ کیا کہ سفیر کے ورثاء کو کئی ملین ڈالر خون بہا ادا کیا جائے۔ کانگو کی حکومت سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ خزانہ خالی تھا۔ ملک میں غربت و قحط سالی تھی۔ بہرحال کافی غوروخوض کے بعد کانگو کی حکومت نے فرانس کو ایک خط لکھا جس کا متن کچھ یوں تھا کہ ۔۔۔کانگو کی حکومت محترم سفیر کے ساتھ پیش آئے واقعے پر سخت نادم ہے۔ چونکہ ہمارا ملک خون بہا ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، لہذا غور و فکر کے بعد ہم آپ کے سامنے یہ تجویز رکھتے ہیں کہ ہمارا جو سفیر آپ کے پاس ہے، آپ بدلے میں اسے کھا لیں۔ شکریہ۔۔۔اس واقعہ میں کتنی صداقت ہے؟؟ یہ تو نہیں معلوم، لیکن پاکستانی عوام کے لئے ایک سبق ضرور ہے اور وہ یہ کہ انہیں آئی ایم ایف کو ایک خط لکھنا چاہیے جس کا مضمون کچھ یوں ہو کہ۔۔ پچھلے ستر سال میں ہماری حکومتوں نے جو قرضے لئے ہیں، کم و بیش سارے کے سارے، ہماری اشرافیہ اور سیاست دانوں، کے ذاتی اکاؤنٹس میں آپ ہی کے بینکوں میں پڑے ہیں، لہٰذا تجویز ہے کہ ہماری اشرافیہ کے بنک بیلنس اور اثاثے جو آپ ہی کے ممالک میں ہیں، اپنے قرض کے بدلے آپ ان سب کو کھا لیں۔ شکریہ۔۔چلیں ایک کہانی اور سن لیں،

اگر سن رکھی ہے تو پھر آرام سے بیٹھیں اوروں کو سننے دیں۔۔ایک ملک میں قحط پڑ جاتا ہے اور خزانہ بھی خالی۔بادشاہ مشورہ مانگتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے تو ایک وزیر کہتا ہے کہ ملک میں داخلے پر جو پل ہے اس پر ٹول ٹیکس لگا دیں ۔بادشاہ کہتا ہے کہ لوگ تنگ ہوں گے ۔وزیر کہتا ہے کہ ان کی فکر مت کریں۔یوں پانچ روپے ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔کچھ عرصے بعد جب خزانہ کچھ سنبھل جاتا ہے تو بادشاہ کہتا ہے کہ لوگ تنگ تو نہیں؟ وزیر کہتا ہے کہ انہیں چھوڑیں ۔بادشاہ کو تھوڑا غصہ آتا ہے کہ یہ کیسی قوم ہے۔کہتا ہے کہ ٹیکس دگنا کر دیا جائے۔لو جی کچھ عرصے بعد پھر بادشاہ پوچھتا ہے کہ کیا کوئی تنگ تو نہیں؟ جواب ملتا ہے کہ نہیں بادشاہ کو اور غصہ آتا ہے تو کہتا ہے کہ وہاں بندے کھڑے کرو اور جو ملک میں داخل ہو اس سے ٹیکس بھی لو اور دس کوڑے بھی لگاؤ۔لو جی کام شروع۔کچھ عرصہ بعد بادشاہ پھر پوچھتا ہے کہ کوئی شکایت؟ جواب ملتا ہے کہ نہیں۔۔بادشاہ کہتا ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو میں خود کھلی کچہری لگاؤں گا۔کھلی کچہری لگ جاتی ہے تو بادشاہ پوچھتا ہے کہ کوئی شکایت ہو تو بتائی جائے۔ایک فرد کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ بادشاہ سلامت ، کوڑے مارنے والے بندے کچھ زیادہ کر دیں لمبی لائن لگ جاتی ہے ٹول پلازہ پر۔۔یہ مثال ہمارے حالات بڑی فٹ آتی ہے۔ہمارے ساتھ کوئی کچھ بھی کر جائے ہم نے گونگے بہرے بن کر رہنا ہے۔

اگر عمران خان کی حکومت میں مہنگائی پر بولو تو پٹواری ہونے کا فتویٰ لگتا تھا، موجودہ حکومت میں مہنگائی پر احتجاج کرو تو یوتھیا ہونے کا طعنہ ماراجاتا ہے۔جب پٹرول اضافے کی سمری وزیراعظم صاحب کے سامنے پیش کی گئی تو وزیراعظم نے زاروقطار رونا شروع کردیا۔وزیراعظم کی ہچکی بندھ گئی۔رو رو کے وزیراعظم کی آنکھیں لال ہو گئیں۔اپنی خادم اعلیٰ والی وردی کے کفوں سے بار بار آنکھیں پونچھنے کی وجہ سے کف مکمل بھیگ گئے۔مصدق ملک بھاگ کر گئے اور ٹشو کا ڈبہ اٹھا لائے۔میں ٹشو نکال نکال کے وزیراعظم کو دیتی رہی اتنا روئے اتنا روئے کے ٹشو کا ڈبہ بھی خالی ہوگیا۔مفتاح صاحب وزیراعظم کا ہاتھ پکڑ کر دستخط کروانے لگے تو ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔ ضد کرنے لگے کہ کسی صورت دستخط نہیں کرونگا اپنے عوام پر بوجھ نہیں ڈالوں گا۔مفتاح نے دوبارہ ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تو اٹھ کر بھاگ نکلے۔مصدق ملک، مفتاح، خرم دستگیر اور میں پیچھے بھاگے۔ محبوب لیڈر وزیراعظم ہاؤس کی راہداریوں میں بھاگ رہے تھے اور روتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ سمری پر دستخط نہیں کرونگا۔بڑی مشکل سے پکڑا تو مفتاح نے کھینچ کر لگائی اور کہا (شوبازیاں چھڈ تے دستخط کر، آئی ایم ایف نے قرضہ نہ دتا تے ،دھیلے دی چوری کیویں کریں گا؟) تب جا کہ وزیراعظم نے دستخط کیے۔۔مریم اورنگزیب کی کتاب’’پکھا میرے ول کر دیو‘‘سے اقتباس۔۔ نوٹ: یہ واٹس ایپ پر موصول ہواتھا، اچھا لگا تو آپ لوگوں سے شیئر کردیا، پٹواری حضرات دل پہ نہ لیں تو مناسب ہوگا۔۔چاچا شکور نے ووٹ ڈالنے کے لیے اپنا شناختی کارڈ آگے بڑھایا اور پوچھا کہ کیا میری بیگم ووٹ ڈال گئی ہے؟ایجنٹ نے لسٹ چیک کرکے بتایا کہ ہاں جی وہ ووٹ کاسٹ کر گئی ہیں۔چاچا شکورے نے ایک آہ بھری اور کہا کہ کاش چند منٹ پہلے آجاتا تو ملاقات ہو جاتی۔ایجنٹ نے افسوس کا اظہار کیا اورپوچھنے لگاکہ۔۔۔کیا کافی عرصہ سے ناراضگی چل رہی ہے؟۔۔چاچاشکور نے جواب دیا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔دراصل اسے فوت ہوئے پورے 15 سال ہو چکے ہیں مگر وہ ہر دفعہ ووٹ باقاعدگی سے کاسٹ کرنے آتی ہے۔۔واقعہ کی دُم: حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے ووٹنگ کافیصلہ منسوخ کردیا ہے اب وہی پرانے طریقے سے ووٹ ڈالے جائیں گے۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔وہ وقت دور نہیں جب بیگم آپ سے کہے گی،آپ تانگہ نکالیں میں تیار ہوکرآتی ہوں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.