تم آصف زرداری ہو تو ہم بھی بچے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔ مولانا فضل الرحمٰن نے نیا ایکشن پلان پیپلز پارٹی کے سامنے رکھ دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے پی ڈی ایم اتحاد کو توڑنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں لیکن ہم بچے نہیں ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے، اپنا نفع نقصان نہ سمجھ سکیں تو ہمیں سیاست کرنے کا حق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے آصف علی زرداری اور نواز شریف سمیت سب سے رابطے ہیں، پیپلز پارٹی نے سی ای سی کا اجلاس بلا لیا ہے، ان سے مثبت جواب کی امید ہے۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا تجویز ہے کہ پہلے مرحلے میں صرف قومی اسمبلی سے استعفے دیے جائیں، دوسرے مرحلے میں صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے کی تجویز ہے، سندھ اسمبلی سے سب سے آخر میں مستعفی ہونے کی تجویز ہے۔انہوں نے بتایا کہ طے ہے ہمارے پاس احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، اگر صرف ایوانوں میں لڑنا ہے تو پھر پی ڈی ایم کیوں بنائی؟ ہمیں اسمبلیوں میں یا عوام میں جانے میں سے ایک راستہ منتخب کرنا ہے۔دوسری طرف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پیپلزپارٹی کو پہلے مرحلے میں صرف قومی اسمبلی، پھر صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن دیدیاجبکہ پیپلزپارٹی کے بغیر بھی لانگ مارچ اور دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کے درمیان دووبارہ ٹیلی فونک رابطہ ہوا ۔مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف کو آصف زرداری سے رابطے کے متعلق اعتماد میں لیا اور بتایا کہ لانگ مارچ ہر صورت ہو گا،آصف علی زرداری کو پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی، پھر صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن دیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا ہے کہ پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی کو ساتھ لیکر چلنے کی خواہش ہے لیکن اگر پیپلز پارٹی نے ساتھ نہ بھی دیا تو لانگ مارچ اور دھرنا ہو گا۔انہوں نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم سے تمام جماعتیں چھوڑ بھی گئیں تو بھی حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا، حکومت مخالف تحریک زور و شور سے جاری رہے گی۔ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کے ہر فیصلے کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا کہ مسلم لیگ نآ پ کو کسی موڑ پر تنہا نہیں چھوڑے گی۔مولانا فضل الرحمن نے کہا تمام جماعتیں چھوڑ بھی گئیں تو جدوجہد جاری رکھوں گا۔ نواز شریف نے کہا جب کہیں گے ہمارے اراکین کے استعفے آپ کے پاس جمع کرا دیں گے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا پیپلز پارٹی استعفوں پر رضا مند ہوئی تو ہی تحریک میں شامل کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.