بریکنگ نیوز: حکومت اور ایف بی آر کا بڑے سیاستدانوں کی شوگر ملز کو بڑا جھٹکا دینے کا فیصلہ ۔۔۔ مزید تفصیلات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایف بی آر نے 81شوگر ملوں سے 469؍ارب روپے کی ٹیکس ڈیمانڈ تیار کرلی ہے۔ 20شوگر ملیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) سے وابستہ سیاست دانوں کی ہیں۔ کثیر تعداد میں شوگر مل مالکان نے عدالتوں سے رجوع کرلیا جبکہ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے

کہ ان کی ملوں کے خلاف کوئی ٹیکس ڈیمانڈ تیار نہیں ہوا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی خصوصی آڈٹ ٹیموں نے مذکورہ ٹیکس ڈیمانڈ تیار کئے ہیں، ان خصوصی آڈٹ ٹیموں نے مہینوں پر محیط مشق کے بعد شوگر ملوں کا فارنزک آڈٹ کیا ہے۔ ایف بی آر کی ایک آڈٹ ٹیم نے جہانگیر ترین کی ملکیت جے ڈبلو ڈی شوگر ملز اور دیگر 5ملوں کے 2015تا 2019ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد تقریباً 7؍ارب روپے ٹیکس عائد کیا۔ تاہم انہیں ڈیمانڈ نوٹس ابھی تک نہیں بھیجے گئے ہیں۔ آڈٹ ٹیم کی کارروائی مکمل ہونے پر ٹیکس کی مالیت میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ مخدوم خسرو بختیار، مخدوم ہاشم جہاں بخت اور مخدوم عمر شہریار کے خاندانوں کی ملکیت رحیم یار خان گروپ میں شامل شوگر ملز پر مذکورہ چار سال کے عرصہ میں ٹیکس ڈیمانڈ کی مالیت 9؍ارب روپے ہے۔ معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہونے کے باعث انہیں بھی ٹیکس نوٹس نہیں بھیجے گئے۔ شریف خاندان کی ملکیت چوہدری اور رمضان شوگر ملز پر ٹیکس ڈیمانڈ کی مالیت 8؍ارب روپے ہے۔ مئی 2020میں ایس آئی سی نے وزیراعظم کو حتمی رپورٹ پیش کرتے ہوئے سفارش کی تھی کہ ایف بی آر گزشتہ 5سال کے عرصہ میں تمام شوگر ملوں کا جامع ٹیکس آڈٹ کرسکتا ہے۔ ایف بی آر ٹیم نے فاطمہ شوگر مل کے خلاف 25؍ارب، اشرف ملز کے خلاف 18؍ارب، عبداللہ ملز کے خلاف 6؍ارب، ہدیٰ ملز کے خلاف 4؍ارب، کشمیر ملز کے خلاف 7؍ارب، رسول نواز ملز کے خلاف 3؍ارب ، حسیب وقاص ملز کے خلاف 4؍ارب، اتفاق شوگر ملز کے خلاف 5؍ارب، پتوکی ملز کے خلاف 7؍ارب، تھل انڈسٹریز کے خلاف دو ارب، نون ملز کے خلاف ایک ارب 40کروڑ، شکرگڑھ کے خلاف دو ارب، ایس جی ایم کے خلاف 47کروڑ، حسین ملز کے خلاف 14کروڑ 70لاکھ، ٹی ایم کے، کے خلاف دو کروڑ 90لاکھ اور وینگارڈ کے خلاف 30لاکھ روپے کے ٹیکس ڈیمانڈ تیار کئے گئے۔ آڈٹ ٹیموں کے مطابق کنسالیڈیٹڈ، گھوٹکی، نوری، سدرن، سندھڑی، نجمہ، پیر جوگوٹھ اور ایس جے شوگر ملز پر ٹیکس واجبات نہیں ہیں۔ دوسری جانب پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے صدر اسکندر ایم خان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایف بی آر ٹیم گیلری میں کھیل رہی ہے۔انہوں نے ٹیکس ڈیمانڈ نوٹسوں کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ ایف بی آر وزیراعظم عمران خان کو گمراہ کررہا ہے۔ جہانگیر ترین کے مطابق ان کی ملز کے خلاف کوئی ٹیکس ڈیمانڈ تیار نہیں کیا گیا جبکہ ایف بی آر کو مطلوب تفصیلات کی فراہمی میں مکمل تعاون کیا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.