مودی کو ہٹلر قرار دینے والے عمران خان کی سوچ اور الفاظ ایک دم کیسے بدلے ؟ ایک کشمیری صحافی نے حامد میر کو بھی سوچ میں ڈال دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک کشمیری صحافی مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے تک عمران خان کی طرف سے مودی کو ہٹلر کہا جاتا تھا، اچانک ہٹلر کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر معاہدہ ہو گیا اور ہٹلر نے نیک تمنائوں کا خط بھی بھیج دیا،

لگتا ہے پاکستان میں سب بدل گئے ہیں لیکن آپ کو یہ بتانا تھا کہ کشمیر میں کچھ نہیں بدلا میرے پاس اس کشمیری صحافی کے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔میں نے اسے کہا کہ بھائی تم تو جانتے ہو کہ پاکستان میں حب الوطنی کے علمبرداروں کی نظر میں مجھ جیسے صحافی غدار قرار دیے جاتے ہیں، میرے پاس تمہارے سوالوں کا جواب نہیں ہے، تم کسی محبِ وطن سے جواب مانگو۔ کشمیری صحافی کا آخری میسج یہ آیا کہ ’’کل ہی ایک ایس پی نے مجھے بلا کر کہا کہ آپ دیش کے غداروں سے رابطے ختم کر دیں، آپ وہاں غدار اور ہم یہاں غدار‘‘۔کسی کو اچھا لگے یا بُرا لیکن نظر آ رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کیلئے جن خاص دنوں پر اہم اعلانات کئے جا رہے ہیں ان کا مقصد کشمیریوں کو نفسیاتی جھٹکے دیکر پاکستان سے بدظن کرنا نظر آتا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے پاکستان اور بھارت میں معاہدے کے بعد 28فروری کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد لائن آف کنٹرول پر توپیں خاموش ہو جائیں گی لیکن کیا کشمیر میں جاری بدامنی بند ہو پائے گی؟‘‘ کچھ دن پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بیان دیا کہ ہمیں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ سید علی گیلانی نے 22مارچ کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر بہتر تعلقات استوار کرنا اچھی سوچ ہے لیکن یہ صرف اسی صورت میں ممکن

ہے جب تلخی پیدا کرنے کی وجہ باقی نہ رہے۔ایک طرف کشمیری عوام ظلم کی چکی میں پستے رہیں اور دوسری طرف ہم خطے میں امن کی بھی توقع رکھیں… یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ سید علی گیلانی کے اس سوال کا جواب کوئی دے سکتا ہے یا نہیں؟24 مارچ کو انگریزی اخبار ڈان میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری اور ایک بھارتی تھنک ٹینک کے سابقہ سربراہ رادھا کمار نے اپنے مشترکہ مضمون میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو امن مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے پھر شروع کرنا چاہئے جہاں پر 2007 میں پہنچا تھا۔2007 میں جنرل پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کا جو حل پیش کیا تھا وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھلا کر لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنانا تھا جسے سید علی گیلانی سمیت آرپار کے سب بڑے کشمیری لیڈروں نے مسترد کر دیا تھا۔اسی مسترد شدہ فارمولے کو دوبارہ امن کے نام پر کشمیریوں کیلئے قابلِ قبول نہیں بنایا جا سکتا۔ مودی کی طرف سے دکھائی جانے والی لچک کا مقصد مسئلہ کشمیر حل کرنا نہیں ہے۔ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ مریم اور بلاول کی لڑائی کا عمران خان کو بڑا فائدہ ہوگا اور اب وہ کشمیر پر جو چاہیں کریں گے۔ میں بڑی عاجزی سے اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔ بلاول اور مریم کی لڑائی نہ بھی ہوتی تو کشمیریوں پر مشرف فارمولا مسلط کرنے کی کوشش ختم نہ ہوتی کیونکہ اس کوشش کے پیچھے کچھ عرب ممالک سرگرم ہیں۔یہ عرب ممالک پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن دونوں کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں ہیں لیکن یاد رہے کہ 2007 میں بھی ایک این آر او ہو چکا تھا اس کے باوجود مشرف فارمولے پر عمل نہ ہو سکا۔ محب وطن ہار گئے تھے اور غدار جیت گئے تھے۔ مسئلہ کشمیر کا جو حل کشمیریوں کو قبول نہیں وہ خطے میں امن نہیں بدامنی کا باعث بنے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.