عمران خان کا بڑا سیاسی یارکر! ندیم بابر کی جگہ کس کو معاون خصوصی برائے پیٹرولیم مقرر کر دیا گیا؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وفاقی حکومت کی طرف سے وفاقی کابینہ میں ایک اور تبدیلی کرتے ہوئے تابش گوہر کو معاون خصوصی برائے پیٹرولیم مقرر کردیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ندیم بابر کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم کا قلم دان چھوڑے جانے کے بعد ان کی جگہ وزیراعظم نے تابش گوہر کو معاون خصوصی برائے پیٹرولیم مقرر کردیا۔

بتایا گیا ہے کہ کابینہ ڈویژن نے تابش گوہر کو معاون خصوصی برائے پیٹرولیم کا اضافی چارج دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ، جس کے مطابق تابش گوہر معاون خصوصی برائے پاور و پیٹرولیم ہوں گے جب کہ ندیم بابر کو معاون خصوصی کے عہدے سے ہٹائے جانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ یاد رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے تو وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی گوہرتابش کا استعفیٰ مسترد کردیا تھا ، انہوں نے کہا کہ تابش گوہر کے تحفظات حل کیے جائیں گے، پاور سیکٹرمیں مافیا کے خلاف ضرور کاروائی کی جائے گی ، ملک اور پاور سیکٹرکو آپ جیسے ماہرین کی ضرورت ہے۔وزیراعظم عمران خان سے معاون خصوصی برائے توانائی گوہر تابش نے ملاقات کی، جس میں تابش گوہر نے اپنے تحفظات وزیراعظم کے سامنے رکھے، وزیراعظم نے ان کا استعفا منظور نہیں کیا، ان کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے تحفظات حل کروانے کی یقین دہانی کروائی ، انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹرمیں مافیا کے خلاف ضرور کاروائی کی جائے گی۔ملک اور پاور سیکٹرکو آپ جیسے ماہرین کی ضرورت ہے۔قبل ازیں وفاقی معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے وفاقی وزیر عمر ایوب کو غلط ثابت کردیا ، انہوں نے کہا کہ گردشی قرضوں میں ماہانہ 40 ارب اضافہ ہورہا ہے ، گردشی قرضہ 2300 ارب تک ہوگیا ہے ، گردشی قرضے کو اگلے سال کے آخر تک بھی صفر پر نہیں لایا جاسکتا ، جب کہ وفاقی وزیر عمرایوب نے دعویٰ کیا تھا کہ ماہانہ بڑھنے والا 35 ارب کا گردشی قرضہ دسمبر2020ء میں صفر کردیا جائے گا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے گردشی قرضے کو صفر نہیں لاسکے ، ہم کورونا سے قبل سرکلرڈیبٹ کو 14ارب ماہانہ پر لے آئے تھے۔اس پرمعاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں کورونا کی وجہ سے 100ارب کا خسارہ ہوا ہے ، مجموعی طور پر 500ارب سرکلر ڈیبٹ میں اضافہ ہوا ہے جو کہ اب 2300 ارب تک ہے لیکن یہ درست ہے کہ گردشی قرضے میں اضافہ ہو اہے ، میں یہ نہیں کہتا ہم نے گردشی قرضے پر قابو پالیا ہے ، گردشی قرضے کو اگلے سال کے آخر تک بھی صفر پر نہیں لایا جاسکتا ، ہمیں چاہیے کہ اعدادوشمار درست بتایا جائے کیوں کہ بہت سارے عوامل ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے اختیارات میں نہیں ہوتے ، اسی لیے کورونا کے باعث ہمارا بجلی کا نظام متاثر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.