نہر سویز میں ٹریفک بحال ۔۔۔۔۔۔۔۔

قاہرہ (ویب ڈیسک) گذشتہ منگل کو دو لاکھ ٹن وزنی ایون گیون نامی مال بردار بحری جہاز اس وقت سوئز کنال کے کناروں میں پھنس گیا جب تیز ہوائیں اور وہاں پر ایک ریت کا طوفان آ گیا۔جہاز کو نکالنے کے لیے ہالینڈ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے 13 ٹگ بوٹس (ایسی طاقتور کشتیاں جو بڑے جہازوں

کو ہلانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں) استعمال کیں تاکہ ایور گرین کو ہلایا جا سکے۔اس کے علاوہ کینال کے کنارے پر جہاز کا نچلا حصہ پھنسا تھا وہاں سے تیس ہزار کیوبک میٹر کیچڑ اور ریت کو کھود کر نکالا گیا۔گذشتہ ہفتے اختتام ہفتہ پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ اس مال بردار جہاز پر لدے اٹھارہ ہزار کنٹینرز کو جہاز کا وزن کم کرنے کے لیے اتارنا پڑے۔ایور گیون جہاز 400 میٹر طویل ہے اور گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اسے نہر میں 200 میٹر تک اطراف کی جانب ہلایا جا چکا تھا۔ اس کام میں کھدائی کے لیے میشنری کے علاوہ ٹگ بوٹس (جہاز کهینچنے یا دھکیلنے والی کشتی) استعمال کی گئی ہیں۔پیر تک بحری جہاز کی ٹریکنگ کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کے مطابق جہاز کو کامیابی سے مغربی کنارے کی طرف دھکیلا جا چکا تھا۔ تاہم جہاز کے اگلا حصہ یا ’بو‘ مشرقی کنارے پر پھنسا رہا۔ٹگ بوٹس، جن کی مدد سے جہاز کو کھینچا یا دھکیلا جاسکتا ہے، اس بحری جہاز کے اردگرد موجود تھیں۔ یہ جہاز میں حرکت پیدا کرنے کے لیے تاریں استعمال کر رہی تھیں یا براہِ راست پھنسے ہوئے جہاز کو نکالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ٹگ بوٹس کے علاوہ ڈریجرز (کھدائی کی مشینری) کی مدد سے جہاز کے اگلے حصے کے نیچے سے ریت ہٹائی گئی تاکہ یہ باآسانی حرکت کر سکے۔بحری امور کے ماہر سال مرکو گلیانو کا کہنا ہے کہ نہر سوئز پر ڈریجرز ہونا غیر معمولی نہیں۔ انھیں پانی کا راستہ صاف رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔’بڑی مشینوں کی مدد سے پانی میں سے مٹی اور کیچڑ کو نیچے سے ہٹا کر کنارے پر پھینکا جاتا ہے۔‘تاہم پانی کی تیز رفتاری نے اس جہاز کو نکالنے میں مدد کی اور پیر کی صبح جہاز کا سٹئرن (یعنی جہاز کا پچھلا حصہ) کنارے سے رہا کروا لیا گیا اور پورا جہاز مڑنا شروع ہو گیا۔ چند گھٹنوں بعد جہاز کا بو (اگلا حصہ) بھی گھوم کر نکل گیا اور ایور گرین روانہ ہونے کے قابل ہو گیا۔ایور گیون کو اب گریٹ بٹر جھیل پر لے جایا گیا ہے۔ یہ جھیل سوئز کینال کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان موجود ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.