بریکنگ نیوز: ایف آئی اے نے بڑا قدم اٹھا لیا

ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔ ایف آئی اے کی ٹیمیں دیگر شوگر ملوں کیخلاف بھی تحقیقات کر رہی ہیں جن کے مالکان میں مریم نواز شریف ، حمزہ شہباز ، مخدوم خسرو بختیار اور چودھری مونس الٰہی کے خاندان کے افراد کے علاوہ نعمان شمیم خان ،

میاں راشد، میاں حنیف ، میاں طیب ، ہمایوں اختر خان شامل ہیں ،جے ڈبلیو ڈی نے متعلقہ کمپنی جے کے فارمنگ سسٹم لمیٹڈ کی زیادہ قیمت کے ذریعے خریداری کی اور اس کے ذریعے تین اعشاریہ چھ ارب روپے کا کارپوریٹ فراڈ کیا ۔جے ڈبلیو ڈی نے تین اعشاریہ ایک ارب ورپے کا کارپوریٹ فاروقی پلپ لمیٹٹد کے ذریعے کیا، جے ڈبلیو ڈی نے ڈہرکی شوگر کو 7 ارب روپے کی ناقابل منتقلی کی،انویسٹی گیشن ٹیموں کی سرکاری فائنڈنگ جیو نیوز کو خصوصی طور پر دستیاب ہیں۔ایف بی آر کے ایک اعلیٰ افسر نے راز داری کی شرط پر انکشاف کیاکہ آڈٹ ٹیم نے 2015 سے 2019 کے عرصے کاجے ڈبلیو ڈی شوگر ملز لمیٹڈ سمیت پانچ دیگر شوگر ملوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا اور اس نے 7 ارب روپے کے ٹیکس کا مطالبہ کیا ، ان ملوں کو ابھی تک ٹیکس ڈیمانڈ نوٹس نہیں دیا گیا ،آڈٹ ٹیم کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بھی یہ رقم بڑھ سکتی ہے۔ انکوائری نے یہ بھی طے کیا ہے کہ چیف آپریٹنگ آفیسر جے ڈبلیو ڈی(سابقہ ڈی سی او لاہور و سیکرٹری زراعت پنجاب) کو سب سے بڑے سہولت کار کی حیثیت میں جے ڈبلیو ڈی کے اکائونٹ سے سالانہ 600 ملین روپے کی ناجائز رقم دی گئی۔ وہ اس بھاری رقم کو تنخواہ ، بونس اور منسلک فوائد قرار دیتے ہیں۔ ایف آئی اے کے نتائج کے مطابق جے ڈبلیو ڈی کے فنڈز پر یہ ڈکیتی اس وقت کی گئی جب جے ڈبلیو ڈی گروپ (سی ای او جہانگیر خان ترین) گزشتہ پانچ سال میں نقصان بھی دکھا رہا تھا اور قومی خزانے کے لئے 2 ارب 27 کروڑ روپے کی منفی شراکت (ٹیکس کی واپسی اور سبسڈی کے دعوؤں کے بعد) بھی ظاہر کر رہا تھا۔جہانگیر خان ترین نے جان بوجھ کر اور بے ایمانی کے ساتھ کیش بوائے عامر وارث اور سی او او رانا نسیم احمد اور جے ڈی ڈبلیو کے فنانس آفیسرز کے ذریعے جے ڈی ڈبلیو فنڈز کو غبن کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.