نہانے کے دوران سر پر 2 بار شیمپو لگانے کا دنگ کر ڈالنے والا فائدہ سامنے آگیا

نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک تو زندگی کورونا کے آنے کے بعد عجیب سی ہوگئی ہے۔۔ ہر شخص ڈرا،ڈرا اور سہماسہما سے نظرآتا ہے۔۔ جسے کورونا کا خوف نہیں تو اسے معاشی خوف لے بیٹھاہے۔۔ زندگی آزمائش میں گزر رہی ہے یا عذاب میں ؟

کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔ عربی سے ترجمہ شدہ ایک تحریر ہمارے پیارے دوست نے ہمیں واٹس ایپ کی ہے۔۔ جس میں بتایاگیا ہے کہ زندگی کا نقشہ کیسا ہے؟؟۔تحریر کچھ یوں ہے کہ۔۔گدھے سے کہا گیا،تم بلا تکان صبح سے شام تک بھاری بھرکم بوجھ اٹھاتے رہو گے جو تمہاری خوراک ہوگی۔ تمہارے پاس کوئی عقل نہ ہوگی اور پچاس سال جیو گے۔گدھا بولا۔۔ٹھیک ہے میں گدھا ہوں گا لیکن پچاس سال بہت زیادہ ہیں مجھے بس بیس سال دے دو چنانچہ اس کی مراد پوری ہوگئی۔۔کتے سے کہا گیا،تم انسانوں کے گھروں کی حفاظت کرو گے۔ انسان کے سب سے اچھے دوست ہوگے اور انسان سے بچی ہوئی چیزیں کھاؤ گے اور تمہاری زندگی تیس سال ہوگی۔۔کتے نے کہا۔۔تیس سال زیادہ ہیں، مجھے پندرہ سال درکار ہیں چنانچہ اس کی مراد پوری ہوگئی۔۔بندر سے کہا گیا،تم ایک شاخ سے دوسری شاخ پر چھلانگیں لگاتے اور دوسروں کو ہنسانے کے لئے طرح طرح کے کرتب دکھاتے رہو گے اور تمہاری زندگی بیس سال ہوگی۔۔بندر بولا۔۔بیس سال زیادہ ہیں، میں صرف دس سال جینا چاہتا ہوں چنانچہ اس کی مراد بھی بھر آئی۔۔انسان سے کہا گیا،تم روئے زمین پر سب ذہین مخلوق ہو اور تم اپنی عقل کو دوسری مخلوقات کا سردار بننے، زندگی کو خوبصورت بنانے اور زمین کو آباد کرنے کے لئے کام میں لاؤ گے،تمہاری زندگی بیس سال ہوگی۔۔انسان نے جواب دیا۔۔میں صرف بیس سال جینے کے لئے انسان بنوں گا؟ یہ عمر بہت کم ہے!! مجھے وہ تیس سال درکار ہیں جو گدھے کو نہیں چاہئیں، وہ پندرہ سال بھی جن کی کتے کو ضرورت نہیں اور وہ دس سال بھی جن سے بندر نے انکار کیا۔ پس اس کی بھی مراد بھر آئی!۔۔بس اسی زمانے سے انسان بیس سال انسان کی طرح گزارتا ہے۔

اس کے بعد اس کی شادی ہو جاتی ہے۔ پھر تیس سال گدھے کی طرح جیتا ہے۔طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک پسینہ بہاتا اور کام کرتا ہے، اپنی پیٹھ پر بوجھ اٹھاتا ہے اور اسکے بعد جب اسکے بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو پندرہ سال کتے کی طرح گزارتا ہے۔ گھر کی حفاطت کرتا، دروازے اور بجلی بند کرتا رہتا ہے اور بچوں کا بچا ہوا کھانا کھاتا ہے۔۔اسکے بعد جب بوڑھا اور ریٹائرڈ ہو جاتا ہے، تو دس سال بندر کی طرح گزارتا ہے۔ ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک بیٹے کے پاس سے دوسرے بیٹے اور ایک بیٹی کے ہاں سے دوسری کے ہاں جاتا رہتا ہے اور اپنے پوتے پوتیوں کو ہنسانے کے لئے عجیب عجیب کرتب دکھاتا اور کہانیاں سناتا رہتا ہے!! اگر آپ نہانے سے پہلے یہ چند لائنیں پڑھ لیں تو برسوں کی جانے والی اپنی غلطی درست کرسکتے ہیں۔۔بالوں کو شیمپو کرتے ہوئے ہم میں سے اکثر لوگ ایک غلطی کرتے ہیں جو ایک امریکی ہیئرڈریسر نے اپنی ایک ٹک ٹاک ویڈیو کے ذریعے دنیا کو بتا دی ہے۔ اس ہیئر ڈریسر نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو میں بتایا ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ بال دھوتے ہوئے صرف ایک بار شیمپو لگاتے ہیں، حالانکہ ہمیں دو بار شیمپو استعمال کرنا چاہیے۔ہیئرڈریسر کا کہنا تھا کہ ’’جب ہم پہلی بار شیمپو استعمال کرتے ہیں تو یہ بالوں اور سر کی جلد پر لگے تیل اور دیگر میل وغیرہ کو صاف کرتا ہے اور جب دوسری بار استعمال کرتے ہیں تو شیمپو وہ کام کرتا ہے، جس کام کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔‘‘۔۔ ہیئرڈریسر نے ویڈیو میں یہ بھی بتایا کہ ہمیں ہفتے میں 2سے 3بار بال شیمپو کرنے چاہئیں۔ اس کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ بار بال شیمپو کرنے سے بالوں کو الٹا نقصان پہنچتا ہے۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔تو پھر اگر دْنیا کے غموں نے تمہیں تھکا دیا ہے تو کوئی غم نہ کریں، ہو سکتا ہے اللہ تمہاری دعاؤں کی آواز سننے کا خواہاں ہو۔ تو پھر رکھئے سر کو سجدے میں اور کہہ دیجئے جو کچھ دل میں ہے۔ اور بھول جائیے سب غموں اور مصیبتوں کو کہ وہ اللہ تمہیں کبھی بھی نہیں بھلاتا۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.