وزیراعظم عمران خان کا ایک اور اعتراف

لاہور(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ رمضان بازاروں اور مارکیٹوں میں چینی مقررہ نرخ پر دستیاب ہونی چاہیے‘ ذخیرہ اندوزوں اور مہنگائی کرنےو الوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے‘چینی اسکینڈل میں احتساب کا عمل بلا تفریق آگے بڑھایا جائے گا‘مہنگائی بڑھی تو طوفان برپا ہوا لیکن قیمتیں کم ہوئیں تو کوئی تذکرہ نہیں؟

چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نظام میں موجود خرابیوں کو ختم کرنا ہوگا‘ اسٹیٹس کو سے فائدہ اٹھانے والے لوگ تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ‘پہلی بار ان پر ہاتھ ڈال کر کٹہرے میں لایاگیا ‘ یہی تبدیلی ہے‘ جس نظام میں بد عنوانی ‘ برائیاں اور رکاوٹیں آ جائیں جہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہ ہوتا ہو۔ان برائیوں کو ختم کرنا اور نظام کو بدلنا مشکل ہوتاہے ‘اس میں وقت لگتاہے ‘ بڑے بڑوں کو پہلی دفعہ قانون کے تابع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘یہ لوگ قانون کی بالادستی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں‘اب پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ملک میں غریب اور امیر کیلئے یکساں قانون کی لڑائی چل رہی ہے ‘جیسے ہی ہم قانون کی بالادستی قائم کریں گے معاشرہ آزاد ہو جائے گا۔بینکوں کی جانب سے گھروں کے لیے مورگیج کی سہولت کی فراہمی کے راستہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے عدلیہ سمیت تمام اداروں کے تعاون کے مشکور ہیں۔ وہ جمعہ کو یہاں نیا پاکستان اپارٹمنٹس کے سنگ بنیاد کی تقریب اوروزیراعلیٰ ہاؤس لاہور میں اپنی زیر صدارت اشیاءضروریہ کی قیمتوں سے متعلق اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پرانا اسٹیٹس کو تبدیلی نہیں آنے دیتا‘اسٹیٹس کو نظام میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کرے گا تو پیسہ کیسے بنائے گا‘ اسٹیٹس کو بدلنے میں وقت لگتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھاکہ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اس نظام کو خراب ہوتے دیکھا ہے، اس کو تبدیل کرنے کے لیے ایک عزم اور مصمم ارادہ چاہیے‘لوگ پوچھتے ہیں کہ نیا پاکستان اور مدینہ کی ریاست کدھر ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے جیسے قانون کی بالادستی ہوگی معاشرہ آزاد ہوگا۔نبی اکرم ﷺ انسانیت کا نظام لے کر آئے تھے، قانون کی بالادستی کی وجہ سے دنیا کی عظیم ریاست قائم کی، وہاں غربت تھی، کوئی دودھ کی نہریں نہیں تھیں، وہاں ہر طرف خطرہ، بھوک تھی لیکن قانون کی بالادستی کی وجہ سے انہوں نے یہ ریاست قائم کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.