انکی بیوی نے دیکھا تو بولی ، ہمیں بھی چکھائیں کیسا مزا ہے، سنتا نے ایک رس گلا دے دیا، وہ بولی بس ایک۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) پیارے وزیراعظم فیر اسی ناں ای سمجھئے، جیون جوگیا اب سکون کیلئے ہمیں قبرکا انتظار کرنا پڑے گا۔ گود سے گور تک کے سفر میں بہت تکلیفیں سہتے ہیں ہم پاکستانی،یہ تو بتا دیتے کہ ہمیں اور ہماری حسرتوں کو کفن کی سہولت بھی میسر ہوگییا نہیں،

نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جو بے سرو سامانی ہے۔ یہ بے برکتی ہے جو بھوک ہے کیا کریں؟ اگر اجازت دیں تو تھوڑا سا چنامنا سا گھبرالیں، سنتا سنگھ مزے لے لے کر رس گلے کھا رہا تھا۔ اس کی بیوی بولی ہمیں بھی چکھائیں کیسا مزا ہے۔ سنتا نے ایک رس گلا دے دیا۔ وہ بولی بس ایک، سنتا سنگھ بولا باقی رس گلیاں دا وی ایہو سواداے۔ سردی اپنے عروج پر تھی سردار بنتا سنگھ دودھ والے کے آنے پر بیگم کی شال چہرے تک لپیٹ کے دروازے پر گئے، ہاتھ بڑھا کر دودھ کا برتن دیا واپس مڑے تو دودھ والا بولا ڈارلنگ آج لفٹ نہیں کرا رہیں۔ بنتا سنگھ بستر پر لیٹ کر ہنسنے لگے بیگم نے پوچھا تو بولے لگتا ہے دودھ والے کی بیگم کی شال بھی تمہاری شال جیسی ہے۔ سردار سنتا سنگھ سے کسی نے پوچھا محبت ایک طرفہ ہونی چاہئے یا دو طرفہ وہ بولے یکطرفہ، کیونکہ دو طرفہ ہونے سے شادی ہون دا خطرہ ہوندا اے، نہ بچیں شادی دے خطرے توں دو طرفہ محبت کر کے تو دیکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.