بحریہ ٹاؤن حکومتی خزانے میں ہر ماہ کس ضمن میں قسط جمع کرواتا ہے اور اب اس میں کیا رعایت مانگ لی گئی ؟ تفصیلات آگئیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان کی وفاقی حکومت نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس میں پاکستان کے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران وہ حکومت کے اس مؤقف کی حمایت کریں کہ اگر عدلیہ قسطوں کی ادائیگی کے معاملے میں بحریہ ٹاؤن کو کوئی رعایت دیتی ہے

تو اس پر وفاق کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔بحریہ ٹاؤن کے وکیل اور حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر کی طرف سے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کورونا کی وجہ سے ان کے مؤکل کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے لہٰذا اس بنیاد پر انھیں قسطوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سنہ 2018 میں بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے خلافِ قواعد زمین کے حصول کے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کو سات سال کی مدت میں 460 ارب روپے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کو یہ پیشکش کی تھی کہ اگر وہ قومی خزانے میں ایک ہزار ارب روپے جمع کروا دیں تو ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیے جائیں گے۔ایک ہزار ارب روپے سے شروع ہونے والا یہ معاملہ 460 ارب روپے میں طے پا گیا۔اس عدالتی فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کی طرف سے یہ درخواست دی گئی تھی کہ وفاق کو یہ رقم خرچ کرنے کا اختیار دیا جائے تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی تھی۔بحریہ ٹاؤن کے وکیل کے مطابق ان کا کلائنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اب تک 58 ارب روپے سپریم کورٹ میں جمع کروا چکا ہے۔ انھوں نے کہا کورونا کی صورت حال کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح ان کے مؤکل کا کاروبار بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.