بریکنگ نیوز: مذاکرات مشروط کامیاب ، ترین گروپ نے حکومت سے کس چیز کی گارنٹی مانگ لی ؟ بڑی خبر

لاہور(ویب ڈیسک) حکومت کی جہانگیر خان ترین گروپ کیساتھ افہام و تفہیم کی کوششیں جاری ہیں۔صوبے کے بعد مرکز میں بھی معاملات بہتر بنانے اور ناراض گروپ سے مفاہمت کیلئے وفاقی وزرا ء میدان میں اتر آئے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری اور عامر کیانی سر گرم ہوگئے، اس ضمن میں

گزشتہ روز وفاقی وزیرفواد چوہدری اور عامر کیانی نے ملک نعمان لنگڑیال کے گھر اپنے اعزاز میں جہانگیر ترین گروپ کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے میں شرکت کی جہاں انہوں نے جہانگیر خان ترین گروپ کے اراکان سے ملاقات کی، جس میں گروپ کے تمام تحفظات اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر پنجاب اسمبلی کے رکن چوہدری آصف، اجمل چیمہ، ایم پی اے خرم لغاری، ایم پی اے سعید اکبر نوانی، اجمل چیمہ،نیر چوہان، عمر آ فتا ب، ایم پی اے چوہدری آصف مجید سمیت جہانگیرترین گروپ کے اراکین اسمبلی ظہرانے میں شریک ہوئے۔وفاقی وزیر فواد چودھری اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عامر کیانی کی پی ٹی آئی ترین گروپ سے ملاقات کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے ترین گروپ نے فواد چودھری کو وزیر اعلیٰ کی جانب سے کیے گئے وعدوں سے آگاہ کیا اور مطالبات کی منظوری کی گارنٹی مانگی۔پی ٹی آئی ترین گروپ نے کہا وزیر اعظم کو بتائیں ہما ر ے حلقوں کے مسائل ہیں، عوام ہم سے توقعات رکھتے ہیں،ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا ہم وزیر اعظم کیساتھ کھڑے ہیں، ترین کیخلاف رپورٹ آئی تو راستے جدا کر لیں گے۔جو چور ہے اسکو پکڑیں لیکن ہمارے مسائل تو حل کریں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیصل واوڈا جیسے وزرا ء کو بیان بازی سے روکیں، باتیں ہمیں بھی بہت آتی ہیں،ملاقات میں جہانگیر ترین گروپ کے تحفظات پر تبادلہ خیال، صوبے کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق فواد چودھری نے سعید اکبر نوانی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے سارے جٹ اکٹھے کر لیے، جس پر اجمل چیمہ نے جواب دیا دھماکا ایسے ہونا ہی تھا، آپ کون سا کسی کمزور کی سنتے ہیں۔اس موقع پر فواد چودھری نے کہا آپ کے مسائل سے متعلق وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کروں گا۔ عامر کیانی اور سیف اللہ نیازی پنجاب کے معاملات پر نظر رکھیں گے، تلخ جملوں سے اجتنا ب کرنا چاہیے۔بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے جہانگیر ترین گروپ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جہانگیر ترین گروپ کا مؤقف تفصیل سے سنا، بنیادی چیزوں پر ہم سب اکٹھے ہیں، نعمان لنگڑیال اور دیگر افراد سے دوسری نسل کا تعلق ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے تجربے سے پارٹی کو استفادہ کرنا چاہیے، ہمارے درمیان روابط میں بہتری لانے کی ضرورت تھی، جہانگیر ترین کے معاملات پر پہلے بھی واضح مؤقف رکھا اب بھی اس پر قائم ہیں۔ ہر خاندان میں چھوٹے موٹے اختلافات ہو جاتے ہیں، عمران خان کی قیادت میں ہم سب اکٹھے ہیں، علی ظفر کی رپورٹ پر انہیں اور ہمیں اعتماد ہے۔ اپوزیشن کو غلط فہمی ہوجاتی ہے پی ٹی آئی میں اختلافات ہوگیا، امید ہے اب اپوزیشن کی لڈیاں ختم ہو جائیں گی، چاہتے ہیں علی ظفر کی رپورٹ پبلک کی جائے، رنگ روڈ منصوبے میں پیسے کھائے نہیں بچائے گئے، صرف عمران خان کی حکومت میں معاملات کی تحقیقات ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.