سرکاری ملازمین کی دعائیں رنگ لائیں : تنخواہوں میں اضافے کے بعد حکومت نے ایک اور ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے تنخواہ داروں پرمزید ٹیکس لگانے کی آئی ایم ایف کی تجویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تجویز پر مذاکرات ہورہے ہیں‘ ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی کرینگے ‘آئی ایم ایف نے اس مرتبہ پاکستان

کیساتھ سخت رویہ اپنایا ‘مہنگائی کم کر نا اولین ترجیح ہے ‘امیر اورغریب کیلئے مساوی ترقی ہونی چاہیے‘وفاقی بجٹ جون کے اوائل میں ہی پیش کیا جائے گا‘امید ہے جون تک ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکل جائیں گے‘اگلے سال 5 فیصد معاشی گروتھ ہوسکتی ہے، اس سے اگلے سال جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے‘ترقی کے حکومتی اعدادوشمار پر کسی کو شک ہے تو تصدیق کرلے ‘ادارہ شماریات وزارت خزانہ کے ماتحت نہیں اور معاون خصوصی برائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹر وقار مسعود نے قطعاً بھی ایسا نہیں کہا کہ معاشی گروتھ 4فیصد تک دکھانی ہے، یہ بات درست نہیں‘رئیل اسٹیٹ ایمنسٹی جون میں ختم ہو رہی ہے‘ آئی ایم ایف کے ساتھ بات کریں گے کہ اس میں مزید توسیع دی جاسکے‘جب تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محصولات نہیں بڑھیں گے تب تک مشکلات رہیں گی‘ این ایف سی ایوارڈ کے اہداف پورے نہیں کئے گئے ‘کوشش ہے کہ اتفاق رائے سے اس پرنظرثانی ہو ‘ اس کے لیے وفاق اور صوبوں نے ملکر کام کرنا ہوگا‘اگلے سال سے ٹارگٹڈ سبسڈی شروع کریں گے، گردشی قرضے کو بتدریج کم کیا جائے گا۔بجلی ٹیرف میں اضافہ نہیں کریں گے، بجٹ میں لوگوں پر بوجھ نہیں ڈالیں گے‘ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں رعایتیں دیں گے، ریونیو میں ایک ہزارارب روپے اضافہ کیا جائے گا‘ اگر حکومت مقروض رہے گی تو مالی خسارہ کم نہیں ہوگا۔عمران خان بڑی پیش رفت کرنے جارہے ہیں اور عام آدمی کےلیے ایک بڑا پلان لے کر آئیں گے۔

اتوار کو میڈیا بریفنگ میں شوکت ترین نے کہا کہ رواں مالی سال کےمعاشی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.94 فیصد بڑھی ہے لیکن اس کو متنازع بنانے کی ناکام کوششیں کی گئیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ ادارہ شماریات منصوبہ بندی کمیشن کے تحت کام کر رہا ہے اور یہ اعدادوشمار پلاننگ کمیشن کے ہیں وزارت خزانہ کے نہیں ہیں۔ زوم پر ملک کی معاشی صورتحال اور اس حوالہ سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس مرتبہ 2008 کے مقابلہ میں آئی ایم کی شرائط بھی سخت تھیں لیکن ملک میں معاشی استحام ضروری تھا اسلئے یہ فیصلہ کیا گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت کے شعبہ کی ترقی اور فروغ کیلئے متعدد قلیل المدتی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے اس مرتبہ پاکستان کیساتھ سخت رویہ اپنایا اور کووڈ- 19 بھی ملکی معیشت پر اثرا انداز ہوا ہے۔ حکومت قومی معیشت کے مختلف 12سیکٹرز میں طویل اور قلیل مدتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ پوری دنیا میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں بھی فوڈ انفلیشن بڑھا لیکن ہم ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات اور قومی زرعی پیداوار میں اضافہ سے قیمتوں میں کمی لائیں گے ۔ ان کا کہناتھاکہ ہم معیشت میں بڑی تبدیلیاں لا رہے ہیں ۔ زراعت، صنعت اور برآمدات پر کام کررہے ہیں۔ ہم ہر آدمی کو اپنا گھر دینا چاہتے ہیں۔ زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے کسانوں کو قرضے دینا ہوں گے۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ گردشی قرضے میں کمی لانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ریونیو بڑھانے کیلئے بھی جامع پروگرامز لے کر آ رہے ہیں جس سے مالیاتی خسارہ کو کم کرنے اور نجی شعبہ کو قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر علاقہ کی سیونگز کو اس علاقہ میں ہی خرچ کیا جائے گا جس سے مساوی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.