پاکستان میں جس کا داؤ لگے اس کی موجیں :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یاد آیا سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا جب 2013 ء میں سپیکر کے عہدے سے فارغ ہونے لگیں تو ایک ہفتہ پہلے فنانس کمیٹی کا اجلاس بلا کر اپنے لئے تاحیات مراعات کا پیکیج خود ہی منظور کر دیا‘

تامرگ مفت سرکاری ملازم سمیت۔ امریکہ علاج کیلئے چالیس لاکھ روپے بھی اسمبلی سیکرٹریٹ سے ادا کرائے اور جاتے جاتے 84 کروڑ کے بینک قرضے بھی معاف کرالئے جبکہ آج خبر چھپی ہوئی ہے کہ فن لینڈ کی وزیراعظم کو سرکاری خرچے پر ناشتہ کرنے پر انکوائری کا سامنا ہے اور عوام نے اس کا حشر کر دیا ہے۔ چوہدری نثار نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ ان سے پہلے وزیرداخلہ کراچی سے وزارت داخلہ کے سرکاری ہیلی کاپٹر پر نہاری منگواتے تھے اور شریف خاندان مری میں دیگیں ہیلی کاپٹر پر منگواتا تھا جبکہ عمران خان صاحب وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ ہیلی کاپٹر پر آتے جاتے رہے‘ جنہوں نے ڈچ وزیراعظم کی طرح سائیکل پر دفتر آنا تھا۔اس لیے ڈچ یا فن لینڈ کا وزیراعظم بننے میں وہ کشش نہیں نہ ہی لمبے کھابے ہیں جو مزے پاکستان میں وزیراعظم یا وزیر بن کر ہیں۔ اسی طرح جو مزہ پاکستان میں سی ایس ایس کر کے بابو بن کر رعب دبدبہ‘ ہٹو بچو اور تگڑا مال کما کر رعایا پر حاکم بن کر زندگی گزارنے میں ہے وہ بھلا کسی اور پروفیشن میں کہاں؟ہم سب بابو بننا چاہتے ہیں لیکن جس کا دائو لگ جائے وہی سکندر باقی جلتے رہیں یا اپنی قسمت کوروتے رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.