سابق آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ نے حقائق سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے سابق اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں نے کل کے کالم میں لکھا تھا کہ کامیاب ایٹمی تجربات کے بعد بھارتی حکمران اور میڈیا جارہانہ انداز میں پاکستان کو وارننگز دینے لگے۔ملک کی سلامتی پر خطرے کے سیاہ بادل منڈلاتے

دیکھ کر وزیرِاعظم نے 11 مئی کو قازقستان سے ہی اپنے پرنسپل سیکریٹری کو پاکستان میں دو اہم شخصیات سے فوری طور پر رابطہ کرکے انھیں وزیرِاعظم کی خصوصی ہدایات پہنچانے کی ہدایت کی تھی ۔جی ہاں! وزیرِاعظم نوازشریف صاحب نے سعید مہدی صاحب کو علیحدہ لے جاکر کہا کہ آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت اور ڈاکٹر عبدالقدیرسے فوراً رابطہ کریں اور دونوں کو میری طرف سے کہہ دیں، ’’پاکستان کے پاس اب ایٹمی قوّت بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں، لہٰذا آپ فوری تجربے کرنے کے انتظامات کریں‘‘۔ رابطہ کرنے پر جنرل کرامت نے کہا کہ اس مسئلے پر ڈیفنس کمیٹی میں تفصیلی بحث ہو نی چاہیے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا کہ تجربوں کے لیے چند ہفتوں کی مہلت درکار ہے۔میں نے کل کے کالم میں یہ بھی لکھا تھا کہ پرائم منسٹر نے وطن واپس پہنچتے ہی ڈی سی سی کی میٹنگ سے بھی ایک دن پہلے ایک اور اہم میٹنگ کی جس میں پرنسپل سیکریٹری اور ڈاکٹر ثمر مبارک شریک تھے، اس میں پرائم منسٹر نے ڈاکٹر ثمر مبارک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ڈاکٹر صاحب! ملکی سلامتی خطرے میں پڑچکی ہے، وطنِ عزیز کے دفاع کی ذمے داری میرے اور آپ کے کندھوں پر ہے۔ہم نے ہر قیمت پر یہ ذمّے داری نبھانی ہے ورنہ ہم اﷲ کو جواب دے سکیں گے اور نہ قوم کو۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا، سر! آپ بالکل بجا کہہ رہے ہیں ۔ پھر پرائم منسٹر نے پوچھا،’’آپ کو اس کام کے لیے کتنا وقت درکار ہے‘‘؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا،’’سر!دو ہفتے۔‘‘ اس پر پرائم منسٹر نے فیصلہ کن انداز میں

کہا،’’فوراً تیاری شروع کردیجئے اور Secracyلیک نہ ہو‘‘۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے گھر ملاقات میں یہ ساری کہانی سناتے ہوئے خود ہی وضاحت کی،’’پرائم منسٹر کا ذہن واضح تھا ، معمولی سا بھی شک و شبہ یا ابہام نہیں تھا۔ انھوں نے مجھے دو ٹوک انداز میں حکم دے دیا، جس کے بعد20مئی سے ہم نے متعلقہ سازوسامانTesting siteتک پہنچانا شروع کر دیا‘‘۔ دوہفتے کا وقت گزارنے کے لیے وزیرِاعظم نے ’’مشاورت‘‘ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اخبارات و رسائل کے مدیران کو بلاکر ان سے بھی رائے مانگی گئی۔مختلف لوگ مختلف باتیں کرتے رہے، آخر میں بزرگ صحافی مجید نظامی صاحب سے پوچھا گیا تو انھوں نے اپنا وہ مشہور فقرہ بولا ،’’میاں صاحب! ۔۔۔۔۔۔۔ کردیں ورنہ قوم آپ کا ۔۔۔۔۔ کردے گی‘‘۔اس پر بڑی تالیاں بجیں۔ پرائم منسٹر اُسی وقت یہ بتاکر کہ میں اس نیک کام کی ہدایات دے چکاہوں اور سامان بھی testing siteکی طرف روانہ ہوچکا ہے،زیادہ زور سے تالیاں بجوا سکتے تھے مگر وہ ملک کے ذمّے دار سربراہ تھے اس لیے خاموش رہے اور مسکراتے رہے۔ وزیرِاعظم کو دراصل یہ خدشہ لاحق رہتا تھا کہ خدانخواستہ بات لیک ہوگئی تو شائد اس پر عملدرآمد نہ ہوسکے اور یہ کہ امریکا اور یورپ پاکستان کے خلاف کوئی ایسا جارحانہ اقدام کردیں جو ہمیں ایٹمی قوّت بننے سے روک دے۔اُدھرپانچ کامیاب ایٹمی تجربات کرنے کے بعد بھارتی حکومت ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی۔ بھارتی حکمرانوں اور میڈیا پر ہذیانی کیفیّت طاری ہوگئی، دونوں پاکستان کو کھلم کھلا وارننگز دینے لگے۔ بھارتی مسلمانوں کے لیے جینا دوبھرکردیاگیا، انھیں کہا جانے لگا ۔ بی جے پی کے وزیروں نے کہنا شروع کردیا کہ

’’پاکستان کشمیر کو ہمارا حصّہ تسلیم کرلے ورنہ ہم اسے سبق سکھادیں گے، پاکستان کواب ہمارے کہنے پر چلنا ہوگا ورنہ‘‘ ۔28مئی کی دوپہر کو میں پرائم منسٹر آفس کے چوتھے فلور پر اپنے آفس میں بیٹھا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ آپریٹر نے کہا، ڈاکٹر صاحب ضروری بات کرنا چاہتے ہیں،دوسرے طرف میرے بھائی ڈاکٹر نثار احمد صاحب تھے۔ انھوںنے بے پناہ خوشی کے عالم میں بتایا ’’مجھے ابھی ابھی چاغی سے ایک آرمی افسر نے فون پرمبارکباد دی ہے اور بتایا ہے کہ پاکستان نے کامیاب ایٹمی تجربات کردیے ہیں۔الحمدللہ۔ بی بی سی پر یہی بریکنگ نیوز چل رہی ہے، پاکستانی میڈیا خاموش ہے، پتہ کرکے بتائیں‘‘میں بھاگم بھاگ پرائم منسٹر ہاؤس پہنچا تو وہاںخاموشی تھی، البتہ سعید مہدی صاحب مل گئے جنھوں نے تصدیق کی اور بتایا کہ پرائم منسٹر صاحب لباس تبدیل کرنے گئے ہیں، ابھی چند منٹ بعد وہ قوم سے خطاب کے لیے ٹی وی اسٹیشن جائیں گے۔ ملٹری سیکریٹری نے بتایا کہ پرائم منسٹر صاحب ساری رات نہیں سوئے، بس کامیابی کے لیے دعائیں مانگتے رہے ہیں۔ کچھ دیر بعد مشاہد حسین سیّد اور الطاف گوہر بھی پہنچ گئے۔سب ایک دوسرے کو مبارکیں دے رہے تھے ۔اتنے میںگھنٹی بجی، سب الرٹ ہوگئے، وزیرِاعظم رہائشی حصّے سے نمودار ہوئے تو ان کا چہرہ مسرّت و افتخار سے دمک رہا تھا۔ میں نے مبارکباد دی توکہنے لگے،’’اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے سب کچھ کامیابی سے ہوگیا ہے۔ پھر کہا،’’ٹی وی اسٹیشن چل رہے ہیں، ساتھ ہی آجائیں‘‘۔ دو تین منٹ میں ہم پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہوگئے۔اور اس کے کچھ ہی دیر بعد پاکستان کے کروڑوں شہریوں اور دنیا بھر کے اربوں افراد نے ٹیلی وژن اور ریڈیو پر وزیرِاعظم میاں نواز شریف کی آواز سنی، ’’ہم نے ہندوستان کے پانچ کے مقابلے میں چھ کامیاب ایٹمی تجربات کرکے حساب چکا دیا ہے، پاکستان اب اﷲ کے فضل و کرم سے ایٹمی قوّت بن چکا ہے، اب انشاء اﷲ کوئی دشمن وطنِ عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرسکے گا‘‘۔وزیرِاعظم کے یہ الفاظ سنتے ہی پاکستانیوں کے چہرے خوشی اور فخر سے چمک اُٹھے۔ وہ ایک دوسرے سے بغلگیر ہوکر مبارکبادیں دینے لگے، لاکھوں نوجوان سڑکوں پرنکل آئے، ملک بھر کے شہر اوردیہات نعرۂ تکبیر اﷲ اکبر سے گونج اُٹھے۔ ٹنوں کے حساب سے مٹھائیاں بانٹ دی گئیں۔ کراچی سے چترال تک اور مہران سے بلوچستان تک ایک جیساجوش و جذبہ تھا۔ ایک جرأتمندانہ فیصلے نے قوم کو متحد کردیا۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں (جہاں عربی شیخ پاکستانیوں کو مسکین کہتے اور حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے)تیس تیس فٹ لمبی گاڑیوں سے اتر کر کھرب پتی عرب امرائٔ پاکستانی مزدوروں سے بغلگیر ہوتے رہے۔ پوری دنیائے اسلام میں فخر و انبساط کی لہر دوڑ گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.