شاہ محمود قریشی کونسا فارمولا جیب میں لیے پھر رہے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عرفان اطہر قاضی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اسرائیل کی غزہ پر حالیہ جارحیت کے خلاف فلسطینیوں کی حمایت میں امت مسلمہ کو متحد کرنے میں اہم کردار، عالمی فورمز پر اس حوالے سے دو ٹوک مو قف اختیار کرنا اور کویت کا دس سال بعد

پاکستانیوں کے لئے ویزے کی بحالی جیسے اقدامات خانِ اعظم کی شاندار کامیابیاں قرار دی جاسکتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خان اعظم کے ہاتھ الٰہ دین کا ایسا کون سا چراغ لگ گیا ہے کہ راتوں رات کرامات رونما ہونے لگی ہیں۔ وہ اتنے بااعتماد انداز میں اپوزیشن کو کھلے عام للکار رہے ہیں کہ آئندہ حکومت بھی ان کی ہی ہوگی اور پاکستان پہلے سے زیادہ ترقی کرے گا۔ اِدھر ان کے ترجمان خاص فوادچودھری ہماری غربت کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ جہاں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے وہاں عام آدمی کی قوت خرید بھی بڑھی ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کے یہ ریمارکس ’’آئی ایم ایف سے قرضے لے کر سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی خطرناک ہے۔‘‘ پڑھتا جا شرماتا جا کہ کرامات یونہی رونما نہیں ہوتیں، ایسا اعتماد بلاوجہ پیدا نہیں ہوتا، ان خوش خبریوں کے پیچھے چھپے کچھ راز، سمجھوتے بدخبریوں کا پیغام دے رہے ہوتے ہیں۔ ماضی کے حکمران بھی ہمیں ہاتھ کی صفائی کے یہ کرتب دکھاتے رہے ہیں جن کی قیمت کسی اور نے نہیں پوری قوم کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ افغان جہا د ہو یا نائن الیون جیسے سانحات ان کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں۔ امریکہ کو فوجی اڈے دینے کی صرف افواہوں کی بنیاد پر افغان وارننگز دے رہے ہیں۔ انتشار پسند پھر متحرک ہو چکے ہیں۔ اپنے آپ کو ’’فاتح فلسطین‘‘ قرار دینے والے ملتانی شاہ مسئلہ کشمیر کا ایک ایسا مبہم حل اپنی جیب میں لئے پھر رہے ہیں کہ جس سے امریکہ سے کچھ لو دو کی بنیاد پر خانِ اعظم کو ”فاتح کشمیر“ قرار دلوا کر آئندہ انتخابات میں ایک نئے نعرے کے ساتھ اتارا جائے گا۔ پھر سمجھ آئے گی کہ سیاسی کرامات کیسے رونما ہوتی ہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.