سہیل وڑائچ کا عمران اینڈ کمپنی کو مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیاست کی دنیا ہو یا ہمارا سماج ، جب بھی کسی سے مذاکرات کئے جاتے ہیں تو اس وقت ماحول کو خوشگوار اور سازگار بنایا جاتا ہے۔ حکومت اس حوالے سے پیش رفت کرنے کو تیار نہیں، اصولی طور پر تو

اگر مذاکرات کرنے ہیں تو حکومت کو گرفتار اپوزیشن رہنمائوں کو رہا کرنا چاہئے اور پھر جا کر اپوزیشن لیڈرز سے درخواست کرنی چاہئے کہ وہ قانون سازی کے معاملے میں تعاون کریں۔ فی الحال حکومت نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس کی وجہ سے قانون سازی پر مذاکرات میں تاخیر ہو رہی ہے۔سیاست کے ساتھ ساتھ ریاستی معاملات میں بھی اپوزیشن کو شریک نہیں کیا جا رہا۔ ہمارے پڑوس، افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا بہت بڑا واقعہ ہے جس کے نہ صرف افغانستان بلکہ اس پورے خطے پر اثرات پڑیں گے۔ گاہے گاہے یہ خبر پڑھنے کو ملتی ہے کہ افواج پاکستان نے افغانستان کے معاملات پر صلاح مشورہ کیا، یہ خبر بھی شائع ہو چکی کہ وزیراعظم کو افغان صورتحال پر بریفنگ دی گئی، ہونا تو یہ چاہئے کہ افغانستان کے مسئلے پر اپوزیشن لیڈرز کو بھی بریفنگ دی جائے تاکہ انہیں بھی یہ احساس ہو کہ وہ بھی ملکی معاملات کے مشورے میں شریک ہیں۔اپوزیشن رہنما بھی حکومت کی طرح ملک کے منتخب لوگ ہیں جنہیں عوام نے منتخب کر کے پارلیمان میں بھیجا ہے۔ ریاست اور حکومت کو اگر ملک کے اندر سیاست میں بہتری لانی ہے تو اپوزیشن کو اس کا جائز مقام دیں، ریاستی بریفنگز میں اسے بلایا جائے اور اسے قومی ڈائیلاگ کا حصہ بنایا جائے۔کسی ملک کی مجموعی ترقی اور خوشحالی دیکھنی ہو تو معاشی اشاریوں کے علاوہ انسانی وسائل، جمہوری حقوق، آزادیٔ اظہار اور غربت کے پیمانوں کو دیکھا جاتا ہے۔ گو ابھی پاکستان میں معیشت بہتر ہو رہی ہے لیکن سیاست کے فرنٹ پر فی الحال بہتری کا امکان نظر نہیں آ رہا۔

اگر تو ملک کی مجموعی صورتحال میں بہتری لانی ہے تو پھر سیاست اور معیشت سمیت تمام محاذوں پر بہتری لانا پڑے گی۔وزیراعظم عمران خان اس وقت بہت پراعتماد ہیں، معیشت میں بہتری کی خبروں نے انہیں اور مضبوط بنا دیا ہے۔ ان کے لئے اب ضروری ہوگیا ہے کہ وہ سیاست کے پھٹے ہوئے دل کو بھی سینے کی کوشش کریں، حکومت اور اپوزیشن کا اختلاف تو ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن بھی لڑنا ہے۔ ضرورت اس بات ہے کہ اختلافات کے باوجود قانون سازی کے لئے ماحول بنایا جائے۔اپوزیشن کے مذاکرات کی میز پر نہ آنے کی وجوہات سمجھ میں آتی ہیں لیکن انہیں بھی چاہئے کہ وہ قومی ضرورتوں کا خیال کریں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ایک ٹیکنالوجی ہے ،بھارت میں انتخابات کے دوران یہ ٹیکنالوجی کامیابی سے استعمال کی جا رہی ہے، ہمیں ٹیکنالوجی کو رد نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیں ٹیکنالوجی کو دوست بنانا چاہئے۔ اپوزیشن نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کو رد کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس پر نظرثانی کرنی چاہئے اور انتخابی نظام کو جن جن طریقوں سے بہتر کیا جا سکتا ہے اس کی بہتری میں تعاون کرنا چاہئے۔قانون سازی اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے پہل البتہ ہمیشہ کی طرح حکومت کو ہی کرنی پڑے گی حکومت اس کے لئے سی بی ایم یعنی اعتماد سازی کے اقدامات کرے۔ ایک وزارتی ٹیم مقرر کرے جو اپوزیشن اور حکومتی اتحادیوں سے مذاکرات کرے، قانون سازی کی تفصیلات کو اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا کو جاری کیا جائے۔ ان قوانین پر قومی بحث ہو اور اس کے بعد ان کو پارلیمان لے جایا جائے۔یاد رکھا جائے کہ اگر سیاست اسی طرح تار تار رہی تو معیشت میں حاصل ہونے والی کامیابیاں کسی بھی احتجاج، جلوس، تحریک یا لانگ مارچ کے نتیجے میں ضائع ہو سکتی ہیں۔ معاشی کامیابی برقرار رکھنی ہے تو سیاست کو بھی بہتر کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.