ایسی تحریر کہ آپ ہنس ہنس کر دوہرے ہو جائیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونئیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی سائنسی مضمون میں جب ہم نے پڑھا کہ انسانوں کو نرمچھر نہیں بلکہ مادہ مچھر نشانہ بناتی ہیں تو ہمیں کافی حیرت ہوئی کہ۔۔مچھر تو مچھر،ان کی بیویاں بھی کاٹتی ہیں،بے شرم کہیں کی۔۔باباجی کو جب ہم نے یہ بتایا تو

اگلے ہفتے وہ ہمیں بتانے لگے کہ اب انہوں نے مچھروں کو ختم کرنا چھوڑ دیا ہے، وجہ دریافت کی تو بڑی معصومیت سے بولے۔۔اب عورتوں پر کون ہاتھ اٹھائے۔۔آپ کے لئے یہ اطلاع بھی حیرت سے کم نہیں ہوگی کہ۔۔دْلہن کو تقریب مین سب سے آخر میں ایسے لایا جاتا ہے جیسے ویڈیو گیم میں سب سے بڑی بلا کو آخر میں چھوڑا جاتا ہے۔۔ کہتے ہیں کہ قہقہہ دو انسانوں کے درمیان سب سے کم فاصلہ ہوتا ہے۔ اگر ایک دوسرے پر اور ان کے ساتھ، ہنسیں گے نہیں تو فاصلہ کیسے کم ہو گا۔ اور اگر فاصلہ نہیں کم ہو گا تو قربتیں کیسے بڑھیں گی۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر ہنسنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے تو کریڈٹ پر ہنس لیں۔ اس کی بات مان لیں، یقین کیجئے کچھ نقصان نہیں بلکہ الٹا افاقہ ہو گا۔ تنے رہنے سے دماغی مسائل ہی بڑھتے ہیں۔ہماری بات پر یقین نہیں تو ان کی طرف دیکھئے جو تنے رہتے ہیں۔میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ’’وہ میرے خواب پر ہنستی رہتی ہے اور میں اس کی ہنسی کے خواب دیکھتا رہتا ہوں“۔ہمارے پیارے دوست فرماتے ہیں، ایک سروے میں پتہ لگا ہے کہ اکثر بیویاں اپنے شوہر کے دوستوں سے شدید نفرت کرتی ہیں، جوابی سروے میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ،اکثر شوہر اپنی بیوی کی سہلیوں کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں۔۔شوہر نے جب بیوی کو اداس دیکھاتو پوچھا، کیا بات ہے تم اتنی گم سم اْداس بیٹھی ہو کیا سوچ رہی ہو؟بیوی نے اداس لہجے میں کہا،نہیں ایسی تو کوئی خاص بات نہیں،مگر کچھ دنوں سے مجھے یہ

پریشانی ستا رہی ہے کہ آخر میری کوششوں میں کہاں کسر رہ گئی ہے کہ تم شادی کے اتنے سال بعد بھی مسکرا لیتے ہو۔۔ کہتے ہیں کہ شوہر وہ واحد ہستی ہے، جسے اسلام کے ارکان کا کچھ پتہ ہو یا نہ ہو، یہ ضرور پتہ ہوتا ہے کہ چار شادیاں ان کا حق ہے۔۔۔ ایک صاحب بڑی خوشی خوشی اپنے گھر میں داخل ہوئے، بیوی کو تلاش کیا تو وہ کچن میں مصروف ملی، وہ بھی کچن میں داخل ہوگیا اور بیوی سے پوچھنے لگا۔۔ ہمارے چار بچوں میں سے تمہیں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟؟اس نے جواب دیا، سارے۔۔شوہرنے کہا، تمہارا دل اتنا کشادہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔بیوی نے کہا، یہ اللہ کی تخلیق ہے، ماں کے دل میں سارے بچوں کے لئے کشادگی ہوتی ہے۔۔شوہر نے مسکرا کر کہا۔۔اب تم سمجھ سکتی ہو، مرد کے دل میں چار بیویوں کی کشادگی بیک وقت کیسے ہو سکتی ہے۔کیونکہ یہ بھی اللہ کی تخلیق ہے۔۔بیوی نے بیلن سے دھاوا بولا اور شوہر ہسپتال پہنچ گیا۔۔اللہ شوہربے چارے پر رحم فرمائے۔اس کا اسلوب بھی اچھا تھا اورتکنیک بھی مزیدار۔بس کچن کی جگہ غلط چُن لی اس نے۔۔ سیانے کہتے ہیں۔۔کسی بھی میدان جنگ میں اترنے سے پہلے میدان کے محل وقوع اور جغرافیائی صورتحال کو لازمی ذہن میں رکھنا چاہیے۔۔۔ایک دراز قد لڑکی سے منگنی کیلئے گئے ہوئے لڑکے کو جب اس کے ہونے والے سسر نے حق مہر ایک لاکھ ریال بتایا تو وہ بول ہی پڑا۔۔ بابا، کتنے کی میٹر لگائی ہے تو نے اپنی لڑکی؟۔۔کنجوسی کے حوالے سے جیسے پنجاب میں شیخ مشہور ہیں اسی طرح کراچی میں میمن برادری بڑی شہرت رکھتی ہے۔۔شیخ صاحب نے اپنی بیگم سے خوش ہوتے ہوئے پوچھا۔۔ بتاؤ کیا تحفہ لینا ہے، نقد پیسے یا پھر میرا نیا موبائل؟۔۔ بیگم صاحبہ جانتی تھی کہ شیخ صاحب سے پیسے مانگ لئے تو بات سو دو سو سے زیادہ نہیں بڑھنے والی، سوچ سوچ کر کہا۔۔ تم مجھے اپنا نیا موبائل دیدو۔۔ شیخ صاحب نے کہا۔۔ لکھ لو، صفر تین سو، سات تین چار۔۔(شیخ صاحب کا نیا موبائل نمبر۔۔)۔۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اپنے لیے وقت نکالیں،اپنے آپ کو اہمیت دیں۔۔زندگی کی تلخیوں کو چائے کی چسکیوں کے ساتھ ختم کریں اور اگر پھر بھی سکون نہ آئے تو اس خالی کپ کو دیکھیے جس طرح اس کپ میں دوبارہ چائے بھرنے کی گنجائش ہے اسی طرح آپکے اندر بھی زندگی اور خوشی بھرنے کی گنجائش باقی ہے۔۔۔ اپنے اندر کی خالی جگہوں کو پْر کرنا سیکھئے۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.