سعودی عرب نے پاکستان کو تیل فراہم کرنے کی پیشکش کردی

کراچی (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے باہر نہیں آئیں گے، سعودی عرب سےقرض پر تیل کی خریداری کیلئے مذاکرات جاری ہیں، اگلے ایک دو ماہ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، اگلے سال ترسیلات زر 32سے33ارب ڈالر رہنے کی امید ہے،

ہم نے آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ اگر ہم آپ کو اپنی شرائط پر ٹیکس ہدف حاصل کرکے دکھادیں تو آپ کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام نیا پاکستان میں شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے ہمیں کہا تھا کہ آپ بجٹ پیش کردیں جس کے دوران بات چیت بھی جاری رہے گی ،شوکت ترین نے تصدیق کی کہ اس سال پیٹرولیم لیوی کا ہدف 600ارب روپے ہے۔ جس کی وجہ سے فی لیٹر پیٹرول پر پی ڈی ایل 20سے25روپے پر لے کر جانا پڑے گا۔وفاقی حکومت اس وقت فی لیٹر پیٹرول پر صرف 5روپے پی ڈی ایل وصول کررہی ہے۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ دنیا میں پیٹرولیم کی قیمت میں 120 فیصد اضافہ ہوا، ہم نے 34 فیصد اضافہ کیا ہے۔اگر پیٹرولیم کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو ہمیں بھی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نےکہا ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب سے قرض پر تیل کی خریداری کیلیے مذاکرات جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو یہ رعایت دینے کی حامی بھر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تیل دینے کے حوالے سے آفر کرچکا ہے، ہم چاہتے ہیں شرائط کچھ نرم ہوجائیں مگر ابھی یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ پاکستان کتنا تیل ادھار پر لینا چاہتا ہے۔ پروگرام میں شوکت ترین سے سوال کیا گیا کہ معاشی ترقی اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے5300ارب روپے تک تو ٹیکس اکٹھا کیا جاسکتا ہے مگر مزید 500ارب روپے ٹیکس

کیسے اکٹھا کیا جائے گا؟ جس کے جواب میں شوکت ترین نے کہا کہ حکومت 260ارب روپے ٹیکس استثنا ختم کرکے حاصل کرے گی۔ جب کہ 240ارب روپے انتظامی اقدامات سے حاصل کیے جائیں گے۔ جس میں 10لاکھ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا اور پوائنٹ آف سیل کو اس سال 11ہزار سے 80ہزار تک لے کر جانا شامل ہے جب کہ دو برسوں میں پوائنٹ آف سیل کی تعداد 5لاکھ تک بڑھا دی جائے گی۔وفاقی وزیر شوکت ترین نے کہا ہے کہ اگلے سال ترسیلات زر 32سے33ارب ڈالر رہنے کی امید ہے،جب کہ برآمدات میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔ جس سے کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 2سے3ارب ڈالر رہنے کی امیدہے۔وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام سے باہر نہیں آسکتے، آئی ایم ایف نہیں چاہتا کہ بریک ڈاؤن ہو اور ہم بھی یہ نہیں چاہتے، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات چلتے رہیں گے، پٹرولیم لیوی پانچ روپے ہے اسے بیس پچیس روپے پر لے کر جانا پڑے گا، پٹرولیم قیمتیں بڑھنے سے کچھ نہ کچھ مہنگائی میں اضافہ ہوگا،،فیٹف کی وجہ سے ہنڈی کے ذریعہ رقوم کی منتقلی بہت مشکل ہوگئی ہے۔وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مستحکم معاشی ترقی کیلئے بات چل رہی ہے، آئی ایم ایف اس کیلئے ہم سے کچھ اقدامات چاہتا ہے ،آئی ایم ایف چاہتا ہے ہم توانائی کے شعبہ میں گردشی قرضہ کم کریں اور اپنے ریونیوز بڑھائیں۔آئی ایم ایف کی خواہش ہے ہم انکم ٹیکس ہدف میں 150ارب روپے بڑھا کر اور استثنیٰ

ختم کر کے 200 ارب روپے کا ریونیو میں اضافہ کریں، ہم ٹیکس نیٹ میں اضافہ کریں گے، ہمارے پالیسی ایکشنز سے 264ارب جبکہ 240ارب روپے انفورسمنٹ سے آجائیں گے، ہم نے ابھی تک صرف دس ہزار پوائنٹ آف سیلز سسٹمز استعمال کیے ہیں مارکیٹ میں پچاس ساٹھ ہزار مزید موجود ہیں، میں اسے دو سال میں پانچ لاکھ پر لے کر جاناچاہتا ہوں۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنا پلان آئی ایم ایف سے شیئر کیا ہے، آئی ایم ایف نے ہم سے کہا ہے آپ بجٹ کا اعلان کردیں گفتگو جاری رکھیں گے، ہم نے بجلی ٹیرف میں اضافے سے بھی منع کردیا ہے کیونکہ اس سے غریب آدمی پر بوجھ بڑھے گا، بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے کرپشن اور کاروباری لاگت بڑھ جاتی ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات چلتے رہیں گے، آئی ایم ایف کی جولائی کی بورڈ میٹنگ میں ایک ارب ڈالرز جاری نہیں ہوں گے یہ معاملہ ممکنہ طور پر اگست یا ستمبر تک جاسکتا ہے۔ شوکت ترین نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام سے باہر نہیں آسکتے، آئی ایم ایف نہیں چاہتا کہ بریک ڈاؤن ہو اور ہم بھی یہ نہیں چاہتے، اس سال ہم سوا تین لاکھ نئے ٹیکس دہندگان لائے تھے جس سے ہمیں 54ارب ڈالر آئے تھے، ، رواں مالی سال ایک ملین ٹیکس دہندگان نیٹ میں لائیں گے۔ وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اگلے سال نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 600 ارب روپے ہے، پٹرولیم لیوی پانچ روپے ہے اسے بیس پچیس روپے پر لے کر جانا پڑے گا،

ڈیڑھ ماہ تیل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں اب بڑھانی پڑیں گی، پٹرولیم قیمتیں بڑھنے سے کچھ نہ کچھ مہنگائی میں اضافہ ہوگا، عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتوں میں 120فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہم نے صرف 34فیصد اضافہ کیا، نان ٹیکس ریونیو میں اضافے کیلئے پٹرولیم لیوی کے علافہ دیگر چیزیں بھی ہیں۔ شوکت ترین نے کہا کہ ہم نے اگلے سال کیلئے برآمدات کا کنزرویٹو ٹارگٹ رکھا ہے، ٹیکسٹائل کے شعبہ نے مراعات دینے کی صورت میں 20ارب ڈالرز کی برآمدات کا وعدہ کیا ہے، ٹیکسٹائل سیکٹر ہمیں 4ارب ڈالرز کی مزید برآمدات دیتا ہے تو یہ ٹارگٹ کنزرویٹو ہی ہوا۔ شہزاد اقبال کے سوال برآمدات کا ٹارگٹ کنزرویٹو رکھنے کی وجہ کیا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ عبدالرزاق داؤد ذرا کنزرویٹو آدمی ہے وہ ایسا ہی سوچتا ہے، I guess this is the way he thinks ، آئی ٹی ایکسپورٹ پچاس فیصد ترقی کررہی ہے ایک ارب ڈالر وہاں سے آئیں گے جبکہ ٹیکسٹائل سے مزید تین چار ارب ڈالرز آجائیں گے، میرے خیال میں ہماری برآمدات 30ارب ڈالرز تک پہنچنی چاہئیں۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی مقامی فروخت متنازع ہے، ٹیکسٹائل والے کہتے ہیں ان کی مقامی فروخت 16فیصد ہے جبکہ ہم سمجھتے ہیں 40فیصد ہے ہم اس پرا نہیں کیوں ریبیٹ دیں گے، برآمدی شعبہ کے تمام ریفنڈز اگلے تین چار مہینے میں کلیئر کردیں گے، ہم ان کو بانڈز دیں گے جس کے بعد یہ مسئلے سے نکل جائیں گے، میں چاہتا ہوں ریفنڈز براہ راست اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں ڈیبٹ ہوجائیں۔ شوکت ترین نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ڈھائی سے تین بلین ڈالرز ہوسکتا ہے، اگلے سال براہ راست سرمایہ کاری زیادہ ہوگی، ترسیلات زر بھی بڑھ کر 32ارب ڈالرز ہوجائیں گی، روشن ڈیجیٹل پاکستان کی مارکیٹنگ کر کے اسے تین چار ارب ڈالرز پر لے کر جائیں گے۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبہ کو دیا گیا استثنیٰ ابھی تک چل رہا ہے ، 900ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ خرچ کرنے کا ٹارگٹ حاصل کریں گے، ایسے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دیں گے جو ایک دو سال میں مکمل ہوجائیں، معاشی گروتھ کیلئے بڑا عنصر پی ایس ڈی پی ہوگا۔ بینکنگ ٹرانزیکشن پر نان فائلرز سے ودھ ہولڈنگ ٹیکس واپس لینے سے متعلق شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے پیسے بینکوں سے نکل رہے تھے اور کیش میں رکھے جارہے تھے، پیسوں کی سرکولیشن میں کیش کا کمپونینٹ ڈپازٹس کا 42فیصد پہنچ گیا ہے جو بہت خطرناک بات ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.