حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس مشکل سوال کا کیا بھر پور جواب دیا تھا ؟

کسی نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ انسان بعض انسانوں کے ساتھ کھیلتا ہے، ان کے ساتھ پڑھتا ہے، ایک محلے یا شہر میں رہتا ہے اور ان سے دوستی نہیں ہوتی مگر بعض انسانوں کو صرف دو لمحوں کے لئے ملتا ہے اور ان سے دوستی ہو جاتی ہے

حالانکہ انسان نہ ان کے ساتھ کھیلا ہوتا ہے، نہ اکٹھے تعلیم حاصل کی ہوتی ہے، نہ ہی ان کا تعلق ایک شہر، محلے یا قبیلے سے ہوتا ہے۔ علم کے دروازے نے نگاہوں کو آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا ’’یہ معاملہ آسمانوں پہ طے ہوا تھا‘‘۔ پوچھنے والا کہنے لگا وہ کیسے؟ جواباً ہتھیلی پہ کائنات دیکھنے والے نے فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ نے عالمِ ارواح میں روحوں کو جمع کیا تھا تو جو روحیں ایک دوسرے کے نزدیک تھیں وہ دنیا میں جب بھی اور جہاں کہیں بھی ملیں گی، اُن کی دوستی فوراً ہو جائے گی اور جو روحیں وہاں ایک دوسرے سے دور تھیں وہ بے شک دنیا میں ایک مدرسے میں پڑھیں، ایک میدان میں کھیلیں، ایک محلے یا شہر میں رہیں، ایک گھر میں رہیں حتیٰ کہ ایک بستر پر سوئیں، ان کی دوستی کبھی نہیں ہو سکتی‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.