بجٹ میں افواج پاکستان کے افسران و جوانوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا یا نہیں ؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں دفاعی امور اور خدمات کے بجٹ میں بھی اضافہ کردیا گیا۔آئندہ مالی سال 22-2021 کے بجٹ کی دستاویز کے مطابق دفاعی امور اور خدمات کیلئے 1373.275 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ گزشتہ مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں دفاع کا نظرثانی شدہ میزانیہ 1299.188 ارب روپے

رکھا گیا تھا اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاع کیلئے 74.087 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق دفاعی انتظامیہ کیلئے 3.275 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ دفاعی خدمات کیلئے 1370 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں سے ملازمین کے اخراجات کیلئے 481.592 ارب روپے، عملی اخراجات کیلئے 327.136 ارب روپے، مادی اثاثہ جات کیلئے 391.499 ارب روپے اور تعمیرات عامہ کیلئے 169.773 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ میں پاک افواج کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،، پاک آرمی کا دِفاعی بجٹ ملکی بجٹ کا7% ہے،بھارت پاکستان کی نسبت اپنے ایک فوجی پر سالانہ 4گنا زیادہ خرچ کر تا ہے،پاکستان اپنے ایک فوجی پر سالانہ12500ڈالر خرچ کر تا ہے 2019 / 20میں ملکی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر دِفاعی بجٹ منجمد رہا،2020 / 21میں بھی پاک افواج کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو ا،ان سالوں میں روپے کی قدرمیں کمی اور افراطِ زر کے باوجود دِفاعی ضروریات کو دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے پورا کیا گیا،2018ء کے بعدکولیشن سپورٹ فنڈ کی بندش کے باوجود دِفاعی اور ضروریات کو ملکی وسائل سے ہی پورا کیا گیا ،ردّالفساد کے اہداف اور دائرہ کار اور دیگر اُمور میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ ٹِڈی دَل اور کرونا کی وَبا کے خلاف قومی مہم میں پاک فوج نے بھرپور کردار ادا کیا مگر سول انتظامیہ کی معاونت میں ان فرائض کی انجام دہی کے دوران کوئی الاؤنس نہیں لیا گیا، چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایت پر گذشتہ سالوں میں دِفاعی آلات و مصنوعات کی مقامی تیاری (indigenisation)پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ملکی زرِ مبادلہ میں کمی واقع نہ ہو،پاک افواج نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس کی مَد میں سال2019-20 میں 190 ارب روپے سے زائد رقم قومی خزانے میں جمع کرائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.