گھر کے بھیدی نے اپنی برادری کے پول کھول کر رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یہ پہلا موقع نہیں کہ ریٹنگ بڑھانے کے لئے ٹی وی ٹاک شوز میں تھپڑ رسید اور دست و گریبان ہونے کی نوبت آنے دی گئی۔ پہلے بھی ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب پروگرام کا

میزبان اور پروڈیوسر یہ سارا منظر دیکھتے رہتے ہیں،اور شاید دانستہ طور پر معاملے کو بگڑنے دیتے ہیں،ٹی وی کیمرہ بند کرتے ہیں اور نہ مائیک، جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ اس تھپڑ و تھپڑی کے مناظر ان کے پروگرام کی ریٹنگ بڑھا سکیں۔ اکثر اوقات پروگرام دیکھتے ہوئے اینکر پرسن کی اس وقت خاموشی پر غصہ آ رہا ہوتا ہے،جب پروگرام کے دو شرکاء ایک دوسرے سے الجھ رہے ہوتے ہیں یا پھر ایک دوسرے کو بولنے نہیں دیتے۔ یہ کس قسم کے رویے کو پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں۔ کیا ان پروگراموں سے کچھ حاصل وصول بھی ہوتا ہے یا پھر یہ صرف ناظرین کو ایک تھیٹر جیسے ڈرامے کا مزہ دینے کے لئے کئے جاتے ہیں جو ماحول اسمبلیوں کے اندر پیدا ہو چکا ہے، وہی ان ٹی وی پروگراموں میں بھی نظر آتا ہے۔ دوسرے کی بات نہیں سننی اور توتکار ایسے کرنی ہے کہ معاملہ ہاتھا پائی تک آ جائے۔ قومی اسمبلی کے اندر بھی ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کے لئے ارکان اسمبلی ایسے لپکتے ہیں، جیسے گلی محلے میں کھڑے ہوں، ٹی وی ٹاک شوز میں بھی یہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں،حالانکہ وہاں ایک میزبان ہوتا ہے، ٹی وی چینل کا کنٹرول روم اور سارا تکنیکی نظام ایسے مناظر کو دکھانے سے روکنے پر قادر ہونے کے باوجود سب کچھ دکھا دیا جاتا ہے، اس کے پیچھے ضرور ایسی سوچ موجود ہے، جو کمرشل ازم کے دائرے میں آتی ہے، وگرنہ یہ سب کچھ کیسے دکھایا جا سکتا ہے؟

ایک نجی چینل پر پنجاب کی مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور کراچی سے نو منتخب رکن اسمبلی عبدالقادر مندوخیل کے درمیان جو کچھ ہوا، اسے میزبان بآسانی روک سکتا تھا، اسے اتنی سمجھ بوجھ تو ہونی چاہیے تھی کہ گفتگو کا رخ کس طرف جا رہا ہے۔ پھر جب دونوں شرکاء ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو گئے تو اسے بیچ بچاؤ کرانے کے لئے اپنی نشست سے اٹھ کر ان کے پاس جانا چاہیے تھا۔ کیمرے بند کرا دینے چاہیے تھے اور پروگرام کو وقفہ لے کر بند کر دینا چاہیے تھا، مگر اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔اب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور مندوخیل اپنے اپنے وڈیو بیانات میں اپنی پوزیشن واضح کر چکے ہیں، دونوں کا موقف یہ ہے کہ فریق مخالف نے ایسی باتیں کیں جو انگیخت کا باعث بنیں۔ حیرت تو اس پر بھی ہوتی ہے کہ اتنے اعلیٰ مناصب پر بیٹھے ہوئے لوگ کس طرح جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔ کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں جو ایک دوسرے کی کردار کشی تک چلی جاتی ہیں۔ سیاست پر گفتگو ایک علمی معاملہ ہے۔ اسے نہایت سلجھے ہوئے انداز سے کیا جانا چاہیے، مگر زمینی حقائق سے ماورا ایسی باتیں ایک دوسرے سے منوانے کی کوشش کی جاتی ہے، جن کا حقائق سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ اس میں پروگرام کے میزبان کی ذہنی کیفیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر وہ سوالات کو صرف شائستہ موضوعات تک رکھے تو کبھی ایسی نوبت نہ آئے لیکن اس کی درمیان میں مداخلت اور شرکاء

میں جذباتیت ابھارنے کی کوشش ماحول کو پراگندہ کر دیتی ہے، یہ شائد ملکی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک ٹی وی پروگرام میں ایک خاتون نے کسی مرد کو سب کے سامنے تھپڑرسیدکیا ہے۔ ایسا تو عام حالات میں بھی بہت انہونی اور معیوب بات سمجھی جاتی ہے، چہ جائیکہ ایک ٹی وی چینل کے لائیو پروگرام میں اسے دکھایا جائے۔ دونوں کو احساس ہو گیا ہے کہ ان کی یہ حرکت عوامی سطح پر پسند نہیں کی گئی۔ یہ بات ہماری تہذیب و شائستگی کے خلاف ہے اور اسے ایک جاہلانہ عمل سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس لئے دونوں شخصیات نے اپنی اپنی وضاحت بیان کی ہے، مگر تیر کمان سے نکل چکا اور تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔یہ فیصلہ دینا مشکل ہے کہ اس سارے واقع کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ شرکاء میں سے کوئی ایک، یا پروگرام کے میزبان اور پروڈیوسر، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پروگرام کا جو وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا، وہ ادھورا ہے، پورا پروگرام دیکھ کر ہی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قصور کس کا تھا اور کس نے بات کو اس حد تک بڑھایا کہ معاملہ یہاں تک پہنچا، یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔یہاں بھی یہ سوچ کار فرما نظر آتی ہے کہ پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ایک ایسے کلپ کو سوشل میڈیا کے ذریعے عام کیا گیا، جو ایڈٹ شدہ تھا۔ اس کی کیا منطق تھی اور کیوں سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک کلپ بنایا گیا،

اس بارے میں پیمرا کو تحقیق کرنی چاہیے۔ ٹی وی ٹاک شوز کا مقصد کامیڈی سرکس نہیں، بلکہ سنجیدہ قومی معاملات پر ملک کے صاحب الرائے لوگوں کی گفتگو پیش کرنا ہے تاکہ عوام کی رہنمائی ہو سکے۔ایک عام آدمی کو بھی سامنے بیٹھے لوگوں کی گفتگو سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے وہ کس سمت کو جارہی ہے اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ کیا وجہ ہے کہ اتنی سی بات ٹی وی ٹاک شوز کے اینکرز کو سمجھ نہیں آتی اور وہ ماحول کو گرم ہوتا دیکھنے کے باوجود خاموشی سے منظر دیکھتے رہتے ہیں اور بعدازاں ان کے وڈیوز کلپس بنا کے سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں، تاکہ ہر طرف ان کے پروگرام کا چرچا ہونے لگے۔میری اب بھی یہی رائے ہے کہ یہ واقعہ ایک اضطراری عمل کا نتیجہ ہے۔ جب ان دونوں میں توتکار بڑھ رہی تھی تو اس پر تیل نہیں پانی ڈالنا چاہیے تھا۔ بعض اوقات جذبات کی رو میں انسان بہہ جاتا ہے، جسے روکنا دوسروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس واقعہ میں بہت سے سبق پوشیدہ ہیں۔ نہ صرف ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور عبدالقادر مندوخیل کے لئے بلکہ دیگر تمام سیاست دانوں کے لئے بھی کہ بات دلیل سے نہ کی جائے تو اس کا انجام بخیر نہیں ہوتا، نہ صرف قومی اسمبلی کے اندر بلکہ کہیں بھی اگر دلیل کی بجائے ذاتیات پر اتر کر کچھ کیا جائے گا تو اس سے غصہ جنم لے گا، ناشائستگی پیدا ہو گی جو شرمندگی کا باعث بنے گی۔ ایسے ہی واقعات سیاسی کارکنوں میں اشتعال پیدا کرتے ہیں۔ وہ بھی ایک دوسرے کی بات سننے کی بجائے ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔ یوں ایک پراگندہ ماحول ہماری سیاست کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ ان سیاسی ٹاک شوز سے عوام کبھی اتنے متاثر نہیں ہوتے کہ ان میں بیان کی گئی باتوں سے اپنی سوچ بدل لیں۔اس لئے ان شوز کے شرکاء کو بھی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی بات کو کھلے دل سے سنیں اور اپنا جواب دیں۔ پروگرام کے میزبان کی ان شاطرانہ حرکتوں سے بچیں جو وہ اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لئے روا رکھتا ہے، اس کا کچھ نہیں جاتا، بدنام سیاستدان ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.