وہ دبنگ پولیس افسر جو ڈھرکی ٹرین حادثہ کے دن اپنی سگی بھتیجی کے جنازے میں شریک ہونے کی بجائے جائے حادثہ پر امدادی کاموں میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاءکو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کے بعد شکر ہے اُس جگہ نہیں پھینکا گیا جہاں ہمارے حکمران اہم عہدوں پر تعینات کچھ افسران کو بھرپور استعمال کرنے کے بعد عموماً پھینک دیتے ہیں۔

یعنی اُنہیں او ایس ڈی بنادیا جاتا ہے، اِس ضمن میں پتہ نہیں سابق آئی جی پنجاب اور موجودہ آئی جی ریلوے عارف نواز کی مثال دینا بجا ہے یا نہیں مگر بطور آئی جی پنجاب اُنہوں نے جو محنت کی، پولیس نظام میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے جس طرح اپنی صلاحیتوں کو مسلسل وہ بروئے کار لاتے رہے، اُس کا صلہ اُنہیں یہ ملا اچانک بغیر کسی وجہ کے اُنہیں اُن کے عہدے سے ہٹاکر اوایس ڈی بنادیا گیا، وہ شاید او ایس ڈی ہی ریٹائرڈ ہو جاتے اگر محترم وزیراعظم کو اُن کا کوئی دوست یہ نہ بتاتا کہ حضور ایک بہترین پولیس افسر کے ساتھ ناانصافی تو یہ ہوئی اُنہیں آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹایا گیا، دوسرا ظلم اب یہ ہے پچھلے کئی ماہ سے وہ او ایس ڈی ہیں، وزیراعظم نے اِس کا نوٹس لیا اور اُنہیں آئی جی ریلویز تعینات کردیا۔ سو وزیراعظم عمران خان فوری طورپر نوٹس نہ لیتے تو ایک سازشی ٹولے کا حصہ نہ ہونے کے باعث وہ شایدبطور اوایس ڈی ہی ریٹائرڈ ہو جاتے، …. وہ ایک عظیم پولیس افسر ہیں وہ کسی عہدے پر رہیں نہ رہیں دلوں میں ہمیشہ رہتے ہیں، اِس کے برعکس بے شمار ایسے افسران ہیں جو صرف عہدے کی وجہ سے چند لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں، کئی بدقسمت تو عہدوں پر موجود ہونے کے باوجود دلوں میں نہیں رہتے۔ اگلے روز عارف نواز کی بھتیجی انتقال فرما گئیں، اُسی روز گھوٹکی میں ریلوے کا حادثہ ہوگیا، مجھے کسی نے بتایا وہ اُس کے جنازے میں شریک ہونے کے بجائے گھوٹکی میں ریلوے پولیس کے ساتھ مل کر امدادی کاموں میں مصروف تھے،

ملک، عوام اور اپنے ادارے کے ساتھ اِس سے بڑھ کر اخلاص کیا ہوسکتا ہے؟….جہاں تک واجد ضیاءکا تعلق ہے وہ اگلے چند ماہ میں ریٹائرڈ ہونے والے تھے، اخلاقی تقاضا یہ ہے جب کوئی افسر یا سرکاری ملازم اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ہو اُسے تبدیل کرتے ہوئے ہزار مرتبہ سوچنا چاہیے، کسی شخص نے اگر واقعی اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے ادارے، شعبے یا ملک کے لیے وقف کیا ہو اُسے ریٹائرمنٹ سے عین قبل ہٹانا اگر کسی خاص مقصد کے تحت ضروری ہو تو اُسے پہلے سے بہتر پوزیشن پر تعینات کیا جانا چاہیے۔ واجد ضیاءکو کیوں ہٹایا گیا ؟اِس کی اصل وجوہات تو حکمرانوں کو ہی معلوم ہوں گی، مگر اُن کے ہٹائے جانے سے تاثر یہ قائم ہوا اُنہیں جہانگیر ترین یا شوگرکیس میں من پسند نتائج نہ دینے پر ہٹایا گیا ہے، اِس تاثر کو تقویت اگلے روز شائع ہونے والی اِن خبروں سے بھی مِلی کہ واجد ضیاءکی تبدیلی کے فوراً بعد ایف آئی اے کے تازہ ترین فیصلے کے مطابق جہانگیر ترین، اُن کے صاحبزادے علی ترین اور حمزہ شہباز وغیرہ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا، …. اُنہیں گرفتار کر بھی لیا جاتا کیا فرق پڑنا تھا؟ پاکستان میں بدعنوان لوگوں کی گرفتاری اُنہیں رہا کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے، سزا وغیرہ کے ضروری نہیں ہوتی، رہائی کے لیے ایک ادارہ اگر ”مینیج نہیں ہوگا دوسرا ہو جائے گا، جب اداروں کو یہ راز معلوم ہے اِن بدعنوان لوگوں سے وہ کوئی فائدہ نہ اُٹھا سکے اگلا کوئی ادارہ یا اُس سے وابستہ شخصیت اُٹھالے گی

تو فائدہ آگے جانے ہی نہیں دیا جاتا، پاکستان میں گرفتاری اور سزا کا خوف چھوٹی موٹی چوری چکاری کرنے والوں کو ہی رہتا ہے۔ بڑے بڑے چوروں کو کوئی خطرہ نہیں، جو جتنا بڑا چور ہے وہ خود کو اُتنا محفوظ تصور کرتا ہے، اگلے روز ایک افسر سے کسی شادی میں میری ملاقات ہوئی، اُس پر بدعنوانی کے کئی پرچے ہیں، میں نے اُس سے پوچھا ”آپ نے کروڑوں کی بدعنوانی کی ہے، آپ پر مختلف اداروں کی کئی ایف آئی آرز ہیں، آپ اِس طرح کھلے عام پھرتے ہیں۔ آپ کو کوئی خطرہ نہیں؟ ، وہ بولے ”بھیا ہم نے کوئی چھوٹی موٹی چوری کی ہے جوہمیں کسی سے کوئی خطرہ ہوگا؟ ، تب مجھے اپنا یہ ”شعری قول “ یاد آیا” اِس ملک میں جو کچھ ہے سب کچھ پیارے لُوٹ جا….رشوت لیتے پکڑاگیا ہے رشوت دے کے چُھوٹ جا “….اِن حالات میں شوگرگروہوں کو کوئی سزا ملنے کی کم ازکم مجھے کوئی توقع نہیں ہے۔ البتہ اُن کے ”باعزت بری“ ہونے کے لیے عارضی طورپر چھوٹی موٹی گرفتاریاں اُن کی شاید ہوجائیں، یا اُنہیں دوبارہ بڑے عہدوں سے نوازنے کے لیے عارضی طورپر چھوٹے موٹے عہدوں(وزارتوں) وغیرہ سے اُنہیں شاید فارغ کردیا جائے۔ جس جُرم میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھبدعنوان بیوروکریسی ”شریک جرم“ ہو اُس میں کسی کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا، آپ دیکھ لیجئے گا یہی نتیجہ پنڈی رنگ روڈ سکینڈل کا نکلے گا، وزیراعظم عمران خان کی ”بڑھکیں“ لگتی رہیں گی اور بدعنوان افسروں وسیاستدانوں کے ”داﺅ“ بھی لگتے رہیں گے۔ بڑھکیں وزیراعظم نے سابقہ چورحکمرانوں کو سزادینے کی بھی بہت لگائی تھیں،

اُن کا کیا ہوا؟، سب مزے سے اُسی طرح سیاست کررہے ہیں جس طرح وزیراعظم حکومت کررہے ہیں۔ وزیراعظم اُنہیں چور مشہور کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا، عدالتوں نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا، معاملہ ”عوام کی عدالت“ میں رہتا اتنی بڑی اکثریت سے شاید ہی کوئی الیکشن جیتتاجتنی بڑی اکثریت سے نواز شریف نے جیت لینا تھا، ساری سوسائٹی چورہے، بدعنوانی اصل میں ہمارا مسئلہ ہی نہیں ہے۔پاکستان میں نوے فی صد بدعنوانی کے خلاف وہ لوگ ہیں جنہیں بدعنوانی کے مواقع نہیں ملتے، وزیراعظم عمران خان خود کو بڑا ایماندار قرار دیتے ہیں، اِس میں کچھ غلط بھی نہیں ہے، مگر اُنہیں سوچنا چاہیے اُن کی ایمانداری کے نتیجے میں بدعنوانی خصوصاً نچلی سطح پر بدعنوانی کئی گنا بڑھ گئی ہے تو اُن کی ایمانداری کو کسی نے چاٹنا ہے ؟۔ دنیا میں بدعنوانی ہوتی ہے پاکستان میں ”چوری کا کاروبار“ ہوتا ہے، باقی سب کاروبار کو رونا ودیگر وجوہات کی بناءپر بند پڑے ہیں، صرف یہی ایک کاروبار چل رہا ہے۔ پاکستان میں بدعنوانی کی سزا ”اگر موت “ بھی ہو جائے میں پورے وثوق سے کہتا ہوں بدعنوانی ختم نہیں ہوگی ۔اس کے ریٹ بڑھ جائیں گے۔ ہمارے بدعنوان اور چور لوگ موت سے نہیں ڈرتے، زندگی سے ڈرتے ہیں۔ وہ اِس بات سے ڈرتے ہیں اربوں کھربوں روپے اُن کے پاس نہیں ہوں گے وہ زندہ کیسے رہیں گے؟ سنا ہے پنجاب میں اِسی ڈر سے بچنے کے لیے کچھ افسران مسلسل ”ٹی کے“ لگوارہے ہیں۔ جس طرح مال اکٹھا ہورہا ہے اُس طرح ”ریکارڈ“ ہورہا ہے، …. ” ہم نیک و بدحضور کو سمجھائے دیتے ہیں …. مانونہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے“ ….

Leave a Reply

Your email address will not be published.