چین نے جی سیون ممالک کو للکار دیا

بیجنگ (ویب ڈیسک)چین نے جی سیون ممالک کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن گئے جب ʼچھوٹے ممالک کے گروہ دنیا کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتے تھے، لندن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ʼہم سمجھتے ہیں کہ کوئی ملک چھوٹا ہوا یا بڑا،

طاقتور یا کمزور، امیر ہوا یا غریب ہر طرح کے ممالک برابر ہیں۔عالمی امور پر تمام ممالک کی مشاورت کے بعد فیصلے ہونے چاہئیے ندن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب جی سیون سربراہ اجلاس میں امریکا سمیت دیگر عالمی رہنماؤں نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی منصوبے ’’ بیلڈ بیک بیٹر ورلڈ‘‘(بی 3ڈبلیو) پر اتفاق کیا ہے۔ جی سیون اجلاس میں چین کیساتھ ساتھ روس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ،امریکی صدر جوبائیڈن نے جی سیون اجلاس موقع پر امریکی انٹیلی جنس کو حکم دیا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کریں کہ کورونا جانور سے پھیلا یا لیبارٹری میں تیار ہوا۔ جی سیون ممالک کے رہنمائوں نے غریب ممالک کو صرف ایک ارب ویکسین دینے کا اعلان کردیا جبکہ ماضی میں 11ارب ویکسین دینےکا وعدہ کیا گیا تھا۔اجلاس میں ماحولیاتی بحران کے شکار ممالک کیلئے مزید امداد دینےکا بھی وعدہ کیا گیا ہے تاہم نہ اس کی رقم بتائی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ امداد کون کون سا ملک دے گا ،دو برس بعد جی سیون ممالک کا پہلی بار براہ راست اجلاس ہوا جس میں رہنماشریک ہوئے۔امریکی صدر جوبائیڈن، اور ان کے برطانوی، کینیڈین، فرانسیسی ، جرمن، اطالوی اور جاپانی اتحادیوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ہم بڑے سوالات اور بڑے چیلنجز پر قابو پانے کیلئے جمہوریت کی طاقت، آزادی، مساوات، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے اقدار کو استعمال کریں گے۔جی سیون اجلاس میں چین کو انسانی حقوق کے معاملے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، سنکیانگ اور ہانگ کانگ میں انسانی حقوق پر سوالات اٹھائے گئے ، روس پر تنقید کرتے ہوئے جی سیون رہنمائوں نے روس سے اس کی سرزمین پر کیمیکل ایجنٹس استعمال کرنے کے معاملے پر وضاحت طلب کی ، روس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپوزیشن گروہوں اور میڈیا کیخلاف کریک ڈائون بند کرے اور انٹرنیٹ پر آن لائن سائبر وارداتوں کوروکنے میں کردار ادا کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.