قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے پیچھے کیا مقاصد ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ایک طرف وفاقی وزراء یہ ڈھول بجا رہے ہیں اچھے بجٹ کی وجہ سے اپوزیشن کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہا اور دوسری طرف اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بجٹ پر بحث کا آغاز نہیں کرنے دیا گیا اور اجلاس ملتوی کرنا پڑا،

اسپیکر کو ایک اجلاس بلا کر ضابطہئ اخلاق بنانے کی ضرورت تو پیش آئی، مگر سب جانتے ہیں کہ ایسے ضابطہ ئ اخلاق کا حشر کیا ہوتا ہے،اسپیکر اُس وقت کیوں خاموش رہے،جب لیہ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی بلو رانی بلو رانی کے آوازے کستے اور وزراء اُس پر قہقہے لگاتے رہے۔ضابطہ ئ اخلاق اُسی وقت کیوں یاد آتا ہے جب اپوزیشن بات نہیں کرنے دیتی یہ ہمیشہ سے پارلیمانی روایات اور اسمبلی کے کے طریقہئ کار کا حصہ رہا ہے کہ بجٹ پر بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر کرتا ہے۔ شہباز شریف تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو شور شرابہ شروع کر دیا گیا۔اس سے زیادہ غیر جمہوری بات کیا ہو سکتی ہے، اپوزیشن لیڈر خطاب نہ کر سکے اور اسپیکر اجلاس ملتوی کر دے، جب وزیراعظم عمران خان کی بطور قائد حزبِ اقتدار باری آئے گی تو کیا ہو گا،پھر تو یہی روایت دہرائی جائے گی اور یوں قومی اسمبلی کا ایوان مچھلی منڈی ہی بنا رہے گا۔اب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی اِس بات پر کوئی کیا کہے،جو انہوں نے شہباز شریف کے بارے میں کی اور کہا وہ کس منہ سے بجٹ پر بات کریں گے اُن کے پاس تو کہنے کو کچھ ہے ہی نہیں۔ ارے بھائی کہنے کو کچھ نہیں ہے تو پھر کہنے دو، آپ ہی عوام کے سامنے بے نقاب ہو جائیں گے، زبان بندی اور شور شرابے کا کیا مطلب ہے،اس کا تو واضح مطلب یہی نکلتا ہے کہ حکومت بجٹ پر بات نہیں کرنے دینا چاہتی اور اپوزیشن جو یہ کہہ رہی ہے

بجٹ کے اعداد و شمار جعلی ہیں،اُس میں صداقت ہے۔اُدھر وزیر خزانہ شوکت ترین نے بھی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو مناظرے کا چیلنج دے دیا ہے کہ وہ آئیں اور بجٹ کے اعداد و شمار کو جعلی ثابت کر کے دکھائیں۔چلیں یہ تواچھی بات ہے کہ وزیر خزانہ نے خود اعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے جان نہیں چھڑائی، بلکہ کھلے مناظرے کا چیلنج دیا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ ایوان میں ہلڑ بازی پر پہلے دن بجٹ پر اپوزیشن لیڈر بحث کا آغاز نہیں کر سکے، بجٹ جب پیش کیا جا رہا تھا اُس وقت بھی اپوزیشن نے بجٹ تقریر نہ سننے کی روایت برقرار رکھی۔ اسپیکر کے سامنے اکٹھے ہو کر نعرے لگائے، پلے کارڈ لہرائے اور شور شرابہ کیا، شاید اپوزیشن کے اسی رویے کا حکومتی ارکان نے شہباز شریف کی تقریر کے دوران شورو غل کر کے جواب دیا۔ اسپیکر اسد قیصر نے یہ اچھی پیش رفت کی ہے،دونوں طرف سے نمائندے بلا کر اسمبلی کی کارروائی کو بہتر انداز میں چلانے کا ایک ضابطہ اخلاق دیا ہے،مگر سوال یہ ہے ضابطہ ئ اخلاق تو پہلے سے ہی موجود ہے اُس پر عمل کیوں نہیں ہوتا۔اسپیکر کے پاس سارجنٹ ایٹ آرمز کے ذریعے کسی رکن اسمبلی کو ایوان سے نکالنے کا اختیار تو موجود ہے، لیکن اس کی کیا ضمانت ہے، اُن کے ایسے اقدام کے بعد ایوان کا ماحول سازگار ہو جائے گا، کیا سب نے ماضی میں دیکھا نہیں کہ اسپیکر سے بھی ارکان کی تو تکار ہوئی، شاہد خاقان عباسی والا واقعہ تو ابھی تازہ ہی ہے،اُس پر باوجود نوٹس دینے کے اسپیکر کچھ بھی نہیں کر سکے۔

یہ معاملہ اُس وقت تک حل نہیں ہو سکتا تھا جب تک دونوں طرف سے کشادہ دِلی کا آغاز نہیں کیا جاتا۔اسمبلی کے فلور پر دوسرے کو بات نہ کرنے دینے کی روایت تبھی ختم ہو سکتی ہے، جب سب کو بات کرنے دی جائے اور ہر ایک کی رائے کو سنا جائے۔ارکانِ اسمبلی کو بھی اپنی تقریروں کا معیار شخصی مخالفت کی بجائے،ایشوز کی بنیاد پر بنانا ہو گا۔ شخصی حملے سوائے ماحول کو پراگندہ کرنے کے اور کچھ بھی نہیں دیتے، حزبِ اختلاف عموماً یہ تو کہتی ہے وزیراعظم عمران خان اِس لئے زیادہ ترا ایوان میں نہیں آتے کہ اپوزیشن کارویہ توہین آمیز ہوتا ہے۔سوال یہ ہے حکومتی بنچوں سے اپوزیشن لیڈروں پر جو حملے کئے جاتے ہیں،اُن کا جواز کیا ہے۔اگر حزبِ اقتدار اپوزیشن کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کر لے تو اپوزیشن کے لئے بھی یہ ضروری ہو جائے گا وہ وزیراعظم کی تقریر کے وقت تحمل کا مظاہرہ کرے، لیکن سوال اس نکتے پر اڑا ہوا ہے کہ بلی کے گلے میں پہلے گھنٹی کون باندھے؟ ابھی تو صرف تقریروں کا مرحلہ ہے اور اسمبلی میں انتشار بڑھ رہا ہے، جب بجٹ کو شق وار پاس کرانے کی نوبت آئے گی تو کیا ہو گا۔اُدھر ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ شہباز شریف کے ٹیلی فونک رابطے کے بعد نواز شریف نے شہباز شریف کو اجازت دے دی ہے وہ اسمبلی کے اندر پیپلزپارٹی اور اے این پی سے مل کر چلیں۔گویا اب ایک طرح سے کم از کم قومی اسمبلی کی

حد تک پی ڈی ایم ایک ہو گئی ہے۔ اس کا دباؤ حکومتی حلقے اِس لئے محسوس کر رہے ہیں اور بجٹ پاس کرانے میں مشکلات بھی پیش آ سکتی ہیں۔ شہباز شریف کی یہ پہلی جیت ہے، وہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اپوزیشن کو اکٹھا کرنے میں کامیاب رہے،اِس سے پہلے بلاول بھٹو زرداری اُن کے ساتھ ملاقات کر کے اعلان کر چکے ہیں وہ شہباز شریف کے ساتھ ہیں اور بجٹ اجلاس میں پیپلزپارٹی اُن کے ہر فیصلے کی تائید کرے گی۔میرا اب بھی یہی خیال ہے وفاقی وزراء اور بعض مشیر ماحول کو تلخ کرنے میں اپنے الٹے سیدھے اور جذباتی بیانات سے گہرا کردار ادا کر رہے ہیں۔یہی وزراء اگر یہ کہتے شہباز شریف کے خیالات کا احترام کریں گے اور اُن کی مثبت تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا،تو بات آگے نہ بڑھتی،اس کے برعکس یہ کہنا شہباز شریف کے پاس کہنے کو رہا ہی کچھ نہیں،کیونکہ بجٹ ہے ہی اتنا اچھا، تو یہ چیلنج دینے والی بات ہے۔بجٹ کے بارے میں جو مثبت تاثر پھیلایا گیا تھا وہ رفتہ رفتہ اس لئے زائل ہو رہا ہے کہ بجٹ تجاویز میں ٹیکسوں کے ردوبدل اور خفیہ ٹیکسوں کی جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں اُن سے یہ بات کھل رہی ہے تقریباً تین کھرب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ یہ باتیں اپوزیشن کی بھرپور تیاری کے بعد بجٹ پر اظہارِ خیال سے سامنے آ سکتی ہیں اسی لئے وفاقی وزراء پہلے سے ایک ماحول بنا رہے ہیں کہ بجٹ نہایت اعلیٰ معیار کا ہے، جس پر اعتراض کی کوئی گنجائش ہی موجود نہیں، حالانکہ گنجائش تو ہر وقت موجود رہتی ہے اور یہ عوام کا حق بھی ہے کہ بجٹ کی اصل حقیقت اُن کے سامنے آ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.