پشاور میں کیا انوکھا واقعہ پیش آیا تھا ؟ تاریخ کا ایک ورق

لاہور (ویب ڈیسک) سابق اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ماضی میں ایسے بھی پولیٹیکل ایجنٹ رہے ہیں جو پشاور سے جہاز چارٹر کرکے جایا کرتے تھے مگر ایسے بھی افسر رہے ہیں کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں،ایسے ہی ایک باکردار PAکا ذکر ایک کتاب میں پڑھا

مصنف لکھتے ہیں کہ 1971 میں بھٹوصاحب کی زرعی اصلاحات کے تحت چارسدہ اور مردان کے بڑے بڑے خوانین کی زمینیں کاشتکاروں کے حصے میں آگئیں اور ان کے نام لگ گئیں۔ عبدالعزیز بھی ایک مزارع تھا جو مہمند ایجنسی سے آکر چارسدہ کی تحصیل تنگی میں کاشتکاری کرتا تھا۔اصلاحات پر عمل ہوا تو پٹواری نے آکر عبدالعزیز کو مبارک دی کہ ’’اب تم خان ہوگئے ہو۔ اب زمین کے مالک تم ہو‘‘۔ چند روز بعد عبدالعزیز اصل مالک کے پاس پہنچ گیا۔ خان نے کہا ’’بہت اچھا ہوا کاکا جی۔ زمین تو حکومت نے لینی ہی تھی، آپ کو مل گئی ہے تو ہمیں خوشی ہے‘‘۔ عبدالعزیز بولا ’’بھٹو کون ہوتا ہے پرائی زمین مجھے دینے والا، اگر اس نے دینی ہے تو لاڑکانہ سے اپنی زمین دے‘‘۔دونوں میں بحث ہوتی رہی اور دونوں اپنی بات پر قائم رہے۔ عبدالعزیز اس پر زور دیتا رہا کہ زمین آپ کی ہے، میں آپ کے نام کرانے آیا ہوں۔ خان نہ ماناتو عبدالعزیز اپنے کنبے سمیت ’اپنی زمین‘ چھوڑ کر تنگی سے چلا گیا اور اصل خان کو پیغام بھیجا کہ ’’ آپ پر میرا بس نہیں چلتا، اپنے اوپر تو چلتا ہے۔ میں آپ کے پاس خالی ہاتھ آیا تھا، اپنی زمین لے کر نہیں آیا تھا۔ کوئی صدر یا وزیرِاعظم پرائی جائیداد نہیں بخش سکتا۔ آپ کی زمین آپکو مبارک ہو۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.