شوکت ترین نے پاکستانیوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے واضح کیا ہے کہ اب پاکستان کیلئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے نکلنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، ایسے موقع پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے

یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کہی۔ یہ اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کے زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔شوکت ترین نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو حاصل گرفتاری کے اختیارات سے متعلق سیکشن 203-اے کو تبدیل کرتے ہوئے اس میں درج تمام قابل اعتراض چیزوں کو ختم کر دیں گے۔وفاقی وزیر خزانہ کا اجلاس میں دیئے گئے اپنے بیان میں کہنا تھا کہ حکومت نے پاکستانی معیشت میں 2023ء تک سات فیصد اضافہ ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے الزام عائد کیا کہ حالیہ بجٹ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے تجویز کئے گئے ٹیکس اقدامات سے لبریز ہے، اگر ان پر من وعن عمل کر لیا گیا تو مہنگائی بڑھے گی اور غربت میں اضافہ ہوگا۔اس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ موجودہ صورتحال میں ہمارے لئے اس مرحلے پر ممکن نہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام کو خیر باد کہہ دیں۔ ہمیں مجبوری میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے اس بار پاکستان کو بہت سخت پروگرام دیا ہے۔شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان سے چاہتا ہے کہ ہم بجلی کے شعبے میں پائیدار اقدامات کریں تاکہ ریونیو میں اضافہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں ایسی ترقی کی اشد ضرورت ہے جو جامع اور پائیدار ہو۔ اگر ہم یہ ٹارگٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ریونیو کو بڑھانے کیلئے پیداواری شعبوں اور زراعت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.