قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا ، حکم اوپر سے آیا تھا ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیصلہ اوپر سے آیا تھا کہ اب محمود و ایاز میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ اب یہ نہیں ہوگا کہ فرنٹ سیٹوں پر بیٹھے وزیر معزز بن کر بیٹھے رہیں گے اور بیک بینچرز شہباز شریف کوتقریر نہیں کرنے دیں گے۔

اس دفعہ سب سے بڑا ٹاسک وزیروں کو ہی دیا گیا کہ انہیں سب سے آگے نظر آنا چاہئے ورنہ ان کی خیر نہیں۔ اور داد دیں وزیروں کو کہ ان میں سے کسی میں جرأت نہ تھی کہ وہ وزیراعظم کو کہہ سکے کہ یہ جارحانہ پالیسی ہمیں اپوزیشن کے ٹریپ میں پھنسا رہی ہے۔ اپوزیشن یہی چاہتی ہے کہ ہاؤس نہ چلے اور جیسے تین سال ہنگاموں میں گزرے ہیں اس طرح بقیہ دو سال بھی گزاردیں۔ عمران خان بھی اپوزیشن کے دنوں میں پانچ سال تک پارلیمنٹ کے باہر اپنے جلوس لے کر بیٹھے رہے تاکہ پارلیمنٹ چل نہ سکے۔ اب وہی کام اپوزیشن کررہی ہے اور اب تک بڑی کامیاب ہے۔ وزیراعظم کو پہلے دن اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد تقریر نہ کرنے دینے سے لے کر آج تک اپوزیشن کی حکمت عملی یہی رہی ہے جس سے خان صاحب کا غصہ بڑھا ہے۔ اور یہی اپوزیشن چاہتی ہے۔ اب اگر دیکھا جائے تو وزیرخزانہ شوکت ترین کی تقریر میں خلل ڈال کر اپوزیشن نے پٹرول کو آگ دکھائی تھی‘ نتیجہ وہی نکلا جو اپوزیشن چاہتی تھی کہ لوگ بجٹ کو بھول جائیں کیونکہ حکومت دعوے کررہی تھی کہ معاشی ترقی بہتر ہوئی ہے اور لوگ بھی تعریف کررہے تھے کہ پچھلے تین سالوں کی نسبت بہتر بجٹ ہے۔ اب حکومت چاہتی تو وہ شوکت ترین والے ہنگامے کو اگنور کر کے شہباز شریف کو بولنے دیتی تاکہ اس کے اپنے ارکان بھی کھل کر بجٹ کے اچھے پہلو عوام کو سمجھا سکتے۔ لیکن ہوا اس کے الٹ۔

شہباز شریف کی جو تقریر زیادہ سے زیادہ تین گھنٹے چلتی وہ تیسرے دن تک مکمل نہیں ہوئی۔ اپوزیشن چاہتی بھی یہی تھی کہ حکومت اس بجٹ کے کچھ اچھے پہلو اجاگر نہ کرسکے۔ دو تین حکومتی اراکین سے بات ہوئی تو وہ بھی یہی کہتے پائے گئے کہ اس دفعہ وہ خوش تھے کہ بجٹ پر بات کریں گے۔میں نے کہا: شہباز شریف کو تقریر کرنے دیتے کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا۔ بولے: وزیراعظم کو لگتا ہے کہ اگر پنجاب میں شریفوں کو ہرانا ہے تو پھر مولا جٹ والا انداز اختیار کرنا ہوگا۔ پنجاب کے لوگوں کو یہ نہ لگے کہ وہ کمزور اور شریف ڈاہڈے ہیں۔ رہی سہی کسر ضمنی انتخابات میں مسلسل شکستوں نے پوری کردی ہے کہ پنجاب سے ووٹ نہیں پڑ رہا۔ اس لیے جارحانہ انداز کا فیصلہ کیا گیا ۔ میں نے کہا: لیکن اس پورے کھیل میں نقصان تو آپ لوگوں کو ہورہا ہے‘ بجٹ پیچھے رہ گیا ہے۔وہ صاحب بولے: آپ بھول رہے ہیں کہ ہم نے پٹرول کی قیمت ڈھائی روپے فی لٹر تک اسی ہنگامے کے دوران چپکے سے بڑھا دی۔کہیں سے چوں کی آواز نکلی کہ پٹرول مہنگا ہوگیا؟عوام بھی پٹرول کی مہنگائی کو بھول گئے۔اس لیے دیکھا جائے تو شور شرابا اور ہنگامہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سوٹ کرتا ہے۔اپوزیشن خوش ہے کہ وہ ہاؤس کو نہیں چلنے دے رہی جبکہ حکومت خوش ہے کہ اس نے ان ہنگاموں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی ہوشیاری سے پٹرول کی قیمت کے نام پرعوام کی جیب کاٹ لی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.