باتوں ہی باتوں میں مچھیرے نے کیسے مالدار شخص کو لاجواب کیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ایک سلطان نے شادی کا ارادہ کیا تو اس نے تمام شہزادیوں کو جمع کر کے ان کو کچھ بیج دیئے اور کہا کہ تم میں سے جوبھی 6 ماہ بعد گلاب کا پھول لے کر آئے گی

وہی میری زوجہ اور سلطنت کی ملکہ ہوگی 6 ماہ گزرنے کے بعد تمام شہزادیاں ہاتھوں میں پھول اٹھائے محل میں حاضر ہو گئیں،کچھ کے ہاتھ میں سرخ، کچھ کے ہاتھ میں پیلے غرض ہر ایک کے ہاتھ میں الگ ہی رنگ کے پھول تھے، سوائے ان میں سے ایک کے کہ جس کے ہاتھ میں کوئی بھی پھول نہیں تھا۔۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا کہ تمہارے پھول کہاں ہیں؟ تو اس نے جواب دیا۔۔ سلطان معظم،آپ نے ہمیں جو بیج دیئے تھے وہ گلاب کے نہیں تھے۔۔ سلطان کو شہزادی کا جواب اور اسکی صداقت پسند آئی اور اس سے شادی کر کے اسے ملکہ سلطنت کے خطاب سے نواز دیا۔۔۔اور جہاں تک لاہورکا معاملہ ہے تو یقین جانیے اس کے بارے میںہ میں کچھ پتہ نہیں اور ساری زندگی اس بارے میں کوئی کہانی سنی بھی نہیں۔۔اس کے بعد تو گویا ڈرائنگ روم میں قہقہوں کی برسات ہونے لگی۔۔اس ذہین قوم کی ذہانت کا ایک اور قصہ سن لیجئے۔۔ایک کروڑ پتی تاجرکو مچھلی کے شکار کا بہت شوق تھا، ایک دن وہ اپنے تام جھام کے ساتھ مچھلی کے شکار پر گیا تو ایک مچھیرے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا جو مچھلیاں پکڑنے کی بجائے اپنی کشتی کوکنارے پرلگائے سگریٹ سُلگائے بیٹھا تھا۔۔تاجر نے اس سے پوچھا۔۔ تم مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ رہے؟مچھیرے نے کہا۔۔ کیونکہ آج کے دن میں کافی مچھلیاں پکڑ چکا ہوں۔۔ تاجر نے اس سے کہا۔۔ تو تم مزید کیوں نہیں پکڑ رہے؟مچھیرے نے کہا۔۔مزید مچھلیاں پکڑ کر کیا کروں گا؟تاجر نے اسے سمجھایا۔ تم زیادہ پیسے کما سکتے ہو، پھر تمہارے پاس موٹر والی کشتی ہوگی جس سے تم گہرے پانیوں میں جاکر مچھلیاں پکڑ سکو گے،تمہارے پاس نائیلون کے جال خریدنے کے لئے کافی پیسے ہوں گے۔ اس سے تم زیادہ مچھلیاں پکڑو گے اور زیادہ پیسے کماؤ گے۔ جلد ہی تم ان پیسوں کی بدولت دو کشتیوں کے مالک بن جاؤ گے۔ ہوسکتا ہے تمہارا ذاتی جہازوں کا بیڑا ہو۔ پھر تم بھی میری طرح امیر ہو جاؤ گے۔۔مچھیرے نے کروڑپتی تاجر کو سے پیر تک دیکھا اور سگریٹ کا ایک لمبا سا کش لگا کرکہنے لگا۔۔ اس کے بعد میں کیا کروں گا؟تاجر بولا۔۔ پھر تم آرام سے بیٹھ کر زندگی کا لُطف اُٹھانا۔۔مچھیرے نے سگریٹ کی ’’گل‘‘ جھاڑتے ہوئے کہا۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے، میں اس وقت کیا کر رہا ہوں؟۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.