وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کو صاف صاف انکار کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان کابل پر قابض ہوئے تو پاکستان فوجی کارروائی نہیں کرے گا تاہم وہاں بدامنی ہوئی توافغانستان سے ملحقہ اپنی سرحدوں کو بندکردیں گے ‘ہم چاہتے ہیں امریکی انخلا سے پہلے افغانستان کا سیاسی حل نکلے۔ پاکستان کابل میں عوامی ووٹ سے آنے والی منتخب حکومت

سے ہر طرح کے تعاون کیلئے تیارہے۔ افغان حکومت کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ہمیشہ پاکستان کے تعاون کو ناکافی سمجھا اور ڈومور کا مطالبہ کیا‘بدقسمتی سے پچھلی حکومتوں نے وہ مطالبات بھی پورے کرنیکی کوشش کی جو ممکن نہیں تھے‘پاکستانیوں کو لگتا ہے کہ وہ امریکا سے تعلقات کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں‘امریکا چاہتا تھا پاکستان امداد کے بدلے ہر وہ کام کرے جو امریکا کہے۔اب پاکستان امریکا کے ساتھ برابری کی سطح پر مہذب تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے‘ مسئلہ کشمیر حل ہونے تک بھارت سے معمول کے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے‘نریندر مودی کا ہندوتوا کا نظریہ اس کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممتاز امریکی اخبار ’’ نیو یارک ٹائمز‘‘ کو ایک انٹرویو میں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایسے تعلقات کا خواہاں ہے جیسے امریکا اور برطانیہ یا امریکا اور بھارت کے مابین اس وقت قائم ہیں، بدقسمتی سے بدامنی کے خلاف لڑائی کے دوران یہ تعلق برابر کا نہیں تھا۔ پاکستان نے امریکا کیلئے جو کچھ کیا اس کی اسے بھاری قیمت چکانا پڑی، پاکستان نے اس لڑائی میں بہت بڑی قربانی دی اور ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔امریکا نے پاکستان سے مزید توقعات وابستہ کئے رکھیں اور بدقسمتی سے پاکستانی حکومتوں نے وہ کرنے کی کوشش کی جس کی وہ صلاحیت نہیں رکھتی تھیں۔ ہم مستقبل میں ایسا تعلق چاہتے ہیں جس کی بنیاد اعتماد اور مشترکہ مقاصد پر ہو اور اس وقت ایسا ہی ہے یعنی افغانستان میں ہمارے مقاصد آج بالکل ایک جیسے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.