ن) لیگ کے حمایتی عالم دین کا بیان سامنے آگیا

لاہور (ویب ڈیسک)معروف عالم دین اور مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت مرکزی جمعیت اہل حدیث کے رہنما علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لباس کے متعلق بیان دینے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ وزیراعظم کا پردے کے حوالے سے بیان قرآن و سنت کی ترجمانی ہے

تاہم وزیراعظم کا کام بیان دینا نہیں غلط کام روکنے کے لئے احکامات دینا ہے جبکہ مریم نواز شریف اور مریم اورنگزیب نے سیاسی پوائنٹ سکورننگ کے لئے وزیراعظم کے بیان کی مخالفت کر کے قرآنی احکامات اور رسول اللہ ﷺ کے فرامین کو نشانہ تنقید بنایا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔تفصیلات کےمطابق سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ویڈیو بیان میں معروف دینی سکالر اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے رہنما علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان دیا کہ’ اگر عورت مختصر اور کم لباس پہنے گی تو مرد اس کی طرف متوجہ ہو گا کیونکہ مرد کوئی روبوٹ نہیں ہے‘ہم سیاسی طور پر عمران خان کے بہت بڑے ناقدین میں شمار ہوتے ہیں لیکن وزیراعظم کا یہ بیان قرآن و سنت کی عین ترجمانی ہے ،یہ بیان قرآن و سنت کا حکم ہے ،یہ بیان اللہ رب العزت اور رسول اکرم ﷺ کا بھی حکم ہے ، ایک مسلمان عورت کا پروٹوکول یہ ہے کہ جب وہ گھر سے نکلے تو ایسی اوڑھنی لے کر نکلے کہ سر سے لیکر پاؤں تک جسم کا ہر حصہ ڈھکا ہوا ہو اور چھپا ہوا ہو تاکہ کوئی اسے تکلیف نہ پہنچائے۔انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان سے کہتے ہیں کہ آپ ملک کے وزیراعظم اور ایک ریاست کے سربراہ ہیں،کیا آپ نے بھی صرف بیان دینے ہیں؟بیان دینا آپ ہم پر چھوڑ دیں ،آپ عمل کرکے دکھائیں کیونکہ آپ ریاست کے سربراہ ہیں ، فلسطین کے معاملے پر علماء نے یوم احتجاج منایا تو آپ نے کہہ دیا

کہ میں بھی یوم احتجاج مناؤں گا ،کیا حکومتیں بھی احتجاج کرتی ہیں ؟حکومتیں تو عمل کرتی ہیں، آپ نے یہ بیان دیا تو پاکستان کے مذہبی طبقے نے بغیر کسی مسلک کی تخصیص کے آپ کے بیان کو خراج تحسین بھی پیش کیا ہے اور اس بیان پر آپ کے ساتھ کھڑے بھی ہیں اور لبرل سیکولر گروہوں کو منہ توڑ جواب بھی دے رہے ہیں،آپ نے درست بیان دیا ہے لیکن آپ اس بیان پر عملدآرمد بھی کردیں ،آپ کے پاس اختیار ہے،آپ ٹی وی کے اندر آئیں اور دیکھیں کس قسم کے ڈرامے بن رہے ہیں ؟آپ کے ایک آرڈر سے غلط ڈرامے بند ہو سکتے ہیں ،آپ کے ایک آرڈر سے نیوز اینکرز اور خواتین جو زرق برق لباس پہن کر اور ستر کا خیال کئے بغیر ٹی وی پر آتی ہیں ،آپ کے ایک آرڈر پر ضابطہ خیال بن سکتا ہے کہ اس طرح کا لباس ٹی وی پر نہیں آئے گا تو نہیں آئے گا ،آپ کا کام بیان دینا نہیں ہے،آپ کا کام یہ ہے کہ آپ عملدرآمد کروائیں۔علامہ ہشام الہی ظہیر نے کہا کہ مجھے آج دکھ اور افسوس ہو رہا ہے کہ عمران خان کے بیان پر کوئی لبرل ،سیکولر، لادین،مذہب بیزار ،دین مخالف اور موم بتی گروہ تو مخالفت اور احتجاج کرتے لیکن سیاسی پوائنٹ سکورننگ کے لئے وزیراعظم کی مخالفت کس نے کی ہے؟مسلم لیگ نے جس کے ہم حلیف ہیں ،جماعت کا نام ’مسلم ‘ لیگ ہے اور اس نام کی وجہ سے دائیں بازو کے لوگ ان سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اکثر معاملات میں ہم آہنگ ہیں ،نام مسلم لیگ ہے اور ان کی رہنما مریم نواز ہوں یا مریم اورنگزیب ہو ،ان دونوں نے عمران خان کے اس بیان کو نشانہ تنقید بنایا ہے،ہم انہیں کہنا چاہتے ہیں کہ آپ نے عمران خان کے بیان کو نشانہ تنقید نہیں بنایا بلکہ آپ نے قرآنی احکامات اور رسول اللہ ﷺ کے فرامین کو نشانہ تنقید بنایا ہے، آپ کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ،آپ تو مسلم لیگ کے رہنما ہیں ،یا تو اپنی جماعت کا نام بدل دیں،آج کے بعد اس کو مسلم لیگ نہ کہا جائے ،آپ صرف سیاسی پوائنٹ سکورننگ کے لئے قرآنی احکامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ،ہم آپ کے ان بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ،آپ کے بیانات قرآن کے بھی خلاف ہیں اور حدیث رسولﷺ کے بھی خلاف ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.