عاقب جاوید اور شعیب اختر آمنے سامنے ۔۔۔۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید اورسابق فاسٹ بولر شعیب اختر آمنے سامنے آگئے ۔نجی ٹی وی کے مطابق سابق فاسٹ باؤلر عاقب جاوید نے کہا کہ شعیب اختر کرکٹ ایکسپرٹ ہیں، ان کا کام تنقید کرنا ہے ،یہ کہہ دینا کہ میں

عاقب جاوید کی جگہ ہوتا تو دو ٹائٹل جتوا دیتا اپنی باتوں کی نفی ہے۔عاقب جاوید نے شعیب اختر کو مشورہ دیا کہ آپ جو کام کر رہے ہیں اس میں خود کو بہتر کریں، میں بیس سال سے کوچنگ کر رہا ہوں میں نے ہر لیول پر کوچنگ کی ہے، میں لیول فور پروفیشنل کوچ ہوں جو سب سے بڑھ کر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں کبھی ہارا کبھی جیتا یہ میرا پروفیشن ہے ، شعیب اختر نے تو ایک دن کوچنگ نہیں کی ، آپ کیسے یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ میں ہوتا تو دو ٹائٹلز جتوا دیتا؟آپ نے کوئی کام نہیں کیا ،آپ سیلف آئیڈیل ازم میں زندگی گزار رہے ہیں۔عاقب جاوید نےلاہورقلندرزکےبیٹسمینوں کوتنقید کانشانہ بناتےہوئےکہاکہ چھ میچوں میں ٹاپ فائیو بیٹسمینوں نے ایک ففٹی نہیں کی، ٹاپ فائیو رنز نہیں کریں گے تو کوئی کیسے جیت سکتا ہے؟ وہی بیٹسمین تھے جنہوں نے پہلے میچز میں رنز کیے تھے، ہماری سینئر اور تجربہ بیٹنگ فلاپ ہوئی ہے ، بیٹسمینوں کی وجہ سے مایوسی ہوئی، میچز میں کوئی چیلنج نہیں تھا لیکن پھر بھی کسی نے آغاز نہیں دیا، ہم نے کونسا 10 رنز کی اوسط سے رنز کرنا تھے، چھ کی اوسط سے رنز نہیں ہوئے،نہ سٹرائیک بڑھایا نہ وکٹیں بچائیں، بس آؤٹ آؤٹ یہی ہار کی وجہ ہےانہوں نےکہاکہ آخر میں عاقب جاوید کا ہی قصور نکلے گا،عاقب جاوید اور ثمین رانا نے ڈرافٹ میں مضبوط ترین ٹیم بنانے کی کوشش کی،میدان میں بیٹسمینوں نے کھیلنا ہے، اب سوچتے ہوں گے کیا کیا ؟ہم نے ٹیم کو سہولیات دیں ، ٹریننگ دی ، اب ساری ذمہ داری مجھ پر ڈالنی ہے تو ٹھیک ہے،ہم نے مینجمنٹ میں کئی تبدیلیاں کیں ملکی اور غیر ملکی آئے پھر بھی نہیں جیتے ، لوگ سمجھتے ہیں کہ میری شکل بدلنے سے شاید چمتکار ہو جائے گا ، اگر میں نہیں ہوں گا تو کیا ہو گا ؟ کسی نے تو یہ کام کرنا ہے نا۔عاقب جاوید نے کہا کہ میرا تو ٹیم کو فائدہ ہونا چاہیے جو سارا سال کام کرتا ہے ، شاہنواز دھانی میں انرجی ہے، وہ کرکٹ کو انجوائے کر رہے ہیں ، صہیب مقصود نے چھ سال بعد پرفارمنس دی ہے،میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ صرف ایک پی ایس ایل کی پرفارمنس پر قومی ٹیم کے فیصلے نہیں ہونے چاہئیں ، ہر پی ایس ایل میں کسی نہ کسی کھلاڑی کو پکڑا جاتا ہے، تینوں فارمیٹ میں کھلاتے ہیں ، جس کھلاڑی کو پکڑتے ہیں اس کا اگلے پی ایس ایل میں نام ونشان نہیں ہوتا،یہ ایک مہینے کا عمل نہیں ہونا چاہیے بلکہ مسلسل عمل رہنا چاہیے۔یاد رہے کہ سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے لاہور قلندرز کے پی ایس ایل 6 کے پلے آف سے باہر ہونے پر عاقب جاوید کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.