اب جو چاہے نگاہ کرشمہ ساز کرے:

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آصف علی زرداری اس بار کتنے بھاری ہو کر لاہور آئے ہیں اس کی خبر پنجاب کی سیاست میں ان کی دلچسپی سے ہوتی ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ وہ بلاول ہاوس کی تنہائیوں میں گم نہیں ہوئے۔ پہلے چودھری پرویز الٰہی ملنے

کو آئے‘ اگلے دن میاں منظور وٹو ملے۔ اس دوران جنوبی پنجاب کے چند الیکٹ ایبلز ملے جو (ن) لیگ سے مایوس ہیں اور اپنے اضلاع میں حریفوں کی پی ٹی آئی میں موجودگی کے باعث عمران خان کا ساتھی بننے کو تیار نہیں۔ مخدوم احمد محمود نے ایک کھانے کا اہتمام کیا جہاں جنوبی پنجاب میں نئے سیاسی امکانات تلاش کرنے والوں نے شرکت کی۔مخدوم فیصل صالح حیات،ندیم افضل چن، امتیاز صفدر وڑائچ اور کچھ دیگر شخصیات سے رابطہ کیا ۔آصف زرداری ان کو بھی واپسی کی دعوت دے رہے ہیں جن کے جانے پر کہا گیاکہ جس نے پارٹی چھوڑی وہ سیاست سے دھتکارا گیا،ایک ایک کر کے سب رخصت ہوئے ،چڑیاں چگ گئیں کھیت ۔ میاں منظور احمد وٹو اوکاڑہ کے علاقے حویلی لکھا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملنسار ہیں۔ صاحبزادیاں اور صاحبزادے ان کی سیاسی وراثت کے امین ہیں۔ بڑے زمیندار ہیں۔ کسی زمانے میں انہیں مقامی سطح پر کوئی چیلنج لاحق نہیں تھا۔ اب حالات وہ نہیں رہے۔ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی حمایت نہ ہو تو منظور وٹو یا ان کے گھر میں سے کسی فرد کا الیکشن میں جیتنا خاصا مشکل ہو۔ 2018ء کے انتخابات میں انہیں تحریک انصاف کی ٹکٹ میسر تھی لیکن وہ خود، ان کی بیٹی اور بیٹا الیکشن ہار گئے۔ اس حلقے کے کسی امیدوار کے پاس پارٹی کا ووٹ 20ہزار نہ ہو تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہاں پی ٹی آئی اور ن لیگ کا ووٹ ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر ہونے کے باوجود میاں منظور وٹو پارٹی کے لئے اجنبی رہے۔

تحریک انصاف میں آنے پر ان کے گھرانے نے پھر سے پارلیمنٹ میں جگہ بنانے کی کوشش کی،ان کو نظر انداز کئے جانے کی شکایت ہے ،پی ٹی آئی چھوڑ کر اگر وہ پیپلز پارٹی میں آئے تو پارٹی اور اس کے کارکنوں کے لئے اجنبی ہی رہیں گے۔ ہاں ان کی بطور ایک ہیوی ویٹ سیاسی اہمیت ہے جسے شاید پیپلز پارٹی کو پنجاب میں وزن داردکھانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ قومی اسمبلی میں ق لیگ کے پی پی قیادت کے ساتھ مراسم اچھے رہے ہیں۔ مونس الٰہی کی وزارت کا معاملہ کئی بار اتحادی حکومت کے لئے آزمائش کی وجہ بنا ہے۔ طارق بشیر چیمہ جنوبی پنجاب کی جگہ صوبہ بہاولپور بنانے پر متعدد بار کابینہ اور علیحدگی میں وزیر اعظم سے بات کر چکے ہیں۔ ق لیگ کے اراکین کو فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے شکایات ہیں۔ چودھری شجاعت علیل ہوئے تو وزیر اعظم عمران خان نے فون تک پر مزاج پرسی نہ کی۔ نظر انداز کرنے کی اس روش پر ردعمل مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ اس معاملے پر کئی مباحث ہوتی رہی ہیں کہ ق لیگ اگر پی ٹی آئی سے اتحاد ختم کر دے تو عمران خان کی وفاق اور پنجاب میں حکومت برقرار نہیں رہ سکتی۔ تمام نکتہ دان ابھی تک یہ نہیں جان پائے کہ پنجاب میں ق لگ اور پی ٹی آئی کے درمیان اتحاد کا معاہدہ کن شرائط پر مبنی ہے۔ چودھری پرویز الٰہی نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے۔ سینٹ الیکشن کے دوران کسی تعاون کا ذکر بھی ہوا۔

ہماری نیک تمنائیں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔پی پی ایک وفاقی جماعت رہی ہے۔ ناگہانی صدمات نے اسے سندھ تک محدود کر دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر پنجاب میں خاطر خواہ نمائندگی نہ ملے تو پیپلز پارٹی وفاق میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ پیپلز پارٹی پنجاب میں کیسے داخل ہو سکتی ہے‘ آصف علی زرداری اسی معاملے پر مشاورت کا عمل شروع کر چکے ہیں۔ پنجاب رحیم یار خان سے اٹک تک ہے لیکن پنجاب میں حکومت وہی جماعت بناتی ہے جو لاہور میں جیتے۔ جن دنوں پیپلز پارٹی وفاق کی بڑی جماعت کہلاتی تھی ان دنوں لاہور کی کم از کم نصف نشستیں وہ جیت لیتی تھی۔ حضرت مجدد الف ثانی نے کہا تھا: لاہور ہندوستان کے تمام شہروں کا قطب الارشاد ہے اور اس کی خیروبرکت ہندوستان کے تمام شہروں پر اثر ڈالتی ہے۔ یعنی جو بات لاہور میں رواج پائے گی وہ پورے برصغیر میں پذیرائی حاصل کرے گی۔ آصف علی زرداری نے ہمیشہ لاہور کو نظر انداز کیا۔ ان کی یقینا کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی۔ اب جب کہ وہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کو متحرک کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں تو ان کی توجہ جنوبی پنجاب اور دیہی پنجاب کے الیکٹ ایبلز پر ہے۔ الیکٹ ایبلز کی سیاست اس امر کی دلیل ہے کہ پارٹی عوام کی بجائے نخبئیوںکے ذریعے جوڑ توڑ کر کے اقتدار میں آنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اہل لاہور ابھی تک آصف علی زرداری یا بلاول بھٹو سے شناسا نہیں۔ وہ بے نظیر بھٹو

سے واقف تھے‘ پنجاب میں حفاظت کے خدشات بجا ہو سکتے ہیں لیکن عظیم الشان بلاول ہائوس لاہور میں بیٹھ کر اگر لوگوں سے ملاقاتیں ہو سکتی ہیں تو لاہور کی تنظیم درست کیوں نہیں ہو سکتی۔ گزشتہ 20سال کے دوران دو تین چہرے ہیں جو تنظیم کہلاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی عام آدمی کا نام ہے۔ اب اس کے مقامی اور قومی لیڈر فائیو سٹار ہوٹلوں میں بیٹھے ملتے ہیں یا صرف ٹی وی پر۔ آصف علی زرداری کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف سندھی میڈیا پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں قومی میڈیا نے انہیں ہمیشہ ولن بنا کر پیش کیا۔ اس وجہ سے وہ اپنی کسی پالیسی پر منصفانہ تبصرے کو بھی مخالفانہ پروپیگنڈہ سے جوڑ لیتے ہیں۔ طویل قیدوبند اور صعوبتوں نے انہیں ایسا بنا دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت نے اپنے پائوں پر جو کلہاڑی رسید کی ہے اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ملنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ہوا کا رخ لیکن چودھری برادران کی سیاست طے کرے گی۔ تحریک انصاف سے شکایات کے باوجود اگر ق لیگ عمران خان کی حمایت کرتی رہی تو پیپلز پارٹی رحیم یار خان سے آگے نہیں آ سکے گی۔ہاں آصفہ کے لاہور میں سرگرم ہونے سے کچھ سینئر کارکنوں کی ہمت بندھے گی لیکن پارٹی نوجوان ووٹروں کی شکل میں جو اثاثے ضائع کر چکی وہ واپس ملنا مشکل نظر آتا ہے ۔ہاں کھیل میں واپس آنے کے کچھ راستے ہیں جو دانشمندوں کے منتظر رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.