میڈم کی رگ ظرافت پھڑکی اور انہوں نے برجستہ کہا ۔۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عطاالحق قاسمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان بھر کی دیواروں پر ’’ہیلتھ سنٹروں‘‘ کی طرف سے تحریر کردہ عبارت ’’مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا‘‘ پڑھتے پڑھتے میں بوڑھا ہو گیا ہوں مگر اس کی معنویت آج تک سمجھ نہیں آئی۔ اگر یہ بات سچ ہے کہ

مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا تو اخباروں کو بوڑھوں کی رنگ رلیاں منانے کی خبریں کہاں سے ملتی ہیں؟ چلیں چھوڑیں مجھے اصل غصہ کسی اور بات پر ہے۔ بعض خواتین و حضرات کے جھرمٹ میں گپ شپ کے دوران اچانک کسی کونے سے کوئی بزرگ برآمد ہوتے ہیں، سفید داڑھی، سفید مونچھیں، سفید بھنوئیں، ہاتھوں میں رعشہ اور کمر میں خم، وہ نہایت احترام اور عقیدت سے مجھ سے مصافحہ کرتے ہیں اور رعشہ زدہ آواز میں کہتے ہیں ’’سر میں ایم اے او کالج میں آپ کا شاگرد رہا ہوں‘‘۔ اس پر شدید گھبراہٹ کے عالم میں، میں ان کا ہاتھ پکڑ کر ایک کونے میں لے جاتا ہوں اور کہتا ہوں، بزرگو! یہ اطلاع دینے کے لئے آپ کو یہی جگہ نظر آئی تھی؟ مگر اس نوع کے بزرگوں کو اس نوع کی کوئی بات سمجھ نہیں آتی۔ ملکہ ترنم نور جہاں کو بھی اس صورتحال کا سامنا اکثر کرنا پڑتا تھا۔ ایک دفعہ ایک کمر خمیدہ نوے سالہ بزرگ نے ایک محفل میں ان سے کہا ’’میڈم! میں بچپن سے آپ کے گانے سنتا چلا آ رہا ہوں اور اس کے لئے رات رات بھر جاگتا تھا‘‘۔ اس پر میڈم کی رگِ ظرافت پھڑکی، انہوں نے بابے کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا ’’شاباش، مگر اچھے بچے رات کو جلدی سو جایا کرتے ہیں۔ آئندہ میرا پروگرام دیکھنے کےلئے دیر تک نہ جاگنا‘‘۔ پھر ہنستے ہوئے کہا ’’بابا جی، آپ کی بات پر یقین کروں تو میری زندگی کے بس دو چار مہینے ہی باقی ہیں‘‘۔میں دیواروں پر ’’مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا‘‘

کے اشتہارات پڑھتے پڑھتے تنگ آگیا تو میں نے ایک دن سید ضمیر جعفری مرحوم و مغفور سے پوچھا ’’سید بادشاہ! آپ بتائیں کیا مرد واقعی کبھی بوڑھا نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو کس عمر میں ہوتا ہے؟‘‘ اس پر ان کی پیشانی پر سوچ کے آثار نمایاں ہوئے اور پھر کچھ توقف کے بعد انہوں نے کہا ’’عام مردوں کا تو مجھے کچھ علم نہیں لیکن مسلمان مرد کم از کم اپنے قلوں تک بوڑھا نہیں ہوتا‘‘۔ یہ سید ضمیر جعفری کی رائے تھی جس سے اتفاق ضروری نہیں کیونکہ میں نے ایسے کئی بزرگ دیکھے ہیں جن کا بظاہر چہلم بھی ہو چکا ہوتا ہے مگر وہ بانو بازار میں کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہوتے ہیں۔ ایک کاندھا ان کا اپنا ہوتا ہے دوسرا وہ خود منتخب کرتے ہیں۔میرے ایک دوست کی منگنی پشاور کی ایک معزز فیملی میں ہوئی، موصوف اس وقت بڑھاپے کی سرحدوں میں قدم رکھ چکے تھے مگر انہوں نے اپنی عمر چھپائی ہوئی تھی۔ میں نے اس کے ہونے والے سسر سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ’’خان صاحب ! میں آپ کے ہونے والے داماد کا بچپن کا دوست ہوں‘‘۔ اس پر خان صاحب نے پہلے عجیب و غریب نظروں سے اس بچپن کے دوست اور پھر اپنے ہونے والے داماد کو دیکھا اور اس کے بعد وہیں کھڑے کھڑے منگنی توڑنے کا اعلان کردیا جس کی وجہ میرے اس کم سن دوست کو آج تک سمجھ نہیں آئی۔ خود خان صاحب بھی اس کی وجہ کسی کو نہیں بتاتے۔

یہ خوش فہمی صرف مرد حضرات کو نہیں بہت سی خواتین کو بھی لاحق ہوتی ہے کہ وہ کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں۔ میں ایک ایسی ساٹھ سالہ خاتون کو جانتا ہوں جو روزانہ اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت نئی نسل کے خلاف واویلا کررہی ہوتی ہیں کہ نئی نسل کی آنکھوں میں حیا نہیں رہی۔ میں رکشے پر گھر آ رہی تھی، رنگ محل سے ایک نوجوان نے موٹر سائیکل پر میرا پیچھا شروع کیا، میں نے اسے بہت لعنت ملامت کی کہ میں تیری ماں کی عمر کی ہوں مگر وہ بدبخت بےشرمی سے ہنستا اور سیٹیاں بجاتا ہوا یہاں گھر تک آیا ہے۔ لعنت ہے اس نئی نسل پر! اس واویلے میں بھی سننے والوں کے لئے یہ پیغام ہوتا ہے کہ ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ لیکن جو پیغام دیواروں پر درج ہوتا ہے یا جو پٹھان بھائی مجمع لگا کر بزرگوں کو جوانی کی نوید سنا رہے ہوتے ہیں، اس کی نوعیت غالباً مختلف قسم کی ہے۔ چنانچہ اپنی یہ الجھن دور کرنے اور اس پیغام کی ماہیت جاننے کے لئے میں نے ایک ہیلتھ سنٹر والے سے پوچھا ’’جناب! یہ جو آپ کہتے ہیں کہ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا تو اس کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے؟‘‘ بولا ’’کیا آپ نہیں جانتے؟‘‘ میں نے کہا ’’اگر میں جانتا ہوتا تو آپ کی خدمت میں حاضر کیوں ہوتا‘‘ اس نے پوچھا ’’آپ خود کو بوڑھا سمجھتے ہیں؟‘‘ میرا جواب تھا ’’نہیں‘‘۔ وہ بولا ’’کیوں؟‘‘ میں نے کہا ’’اس لئے کہ میں بوڑھا نہیں ہوں، میں گنا چوس سکتا ہوں، وزن اٹھا سکتا ہوں، دوڑ لگا سکتا ہوں‘‘۔ اس پر ہیلتھ سنٹر والے نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا اور بولا ’’جب انسان گنا چوس سکتا ہو، وزن اٹھا سکتا ہو، دوڑ لگا سکتا ہو، اسے ہم واقعی بوڑھا نہیں کہہ سکتے لیکن اسے اپنی یہ جوانی برقرار رکھنے کےلئے ہمارا کورس کرنا پڑتا ہے۔ اس صورت میں وہ کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ آپ مجھے دیکھیں میں اس وقت ستر سال کا ہوں اور خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کر رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ….‘‘ ان کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ساتھ والے کمرے سے جو ان کے گھر کا حصہ تھا ایک خاتون کی آواز آئی ’’بہن اس بڈھے سے شادی کرکے میرے تو نصیب پھوٹ گئے ہیں، یہ اپنی آدھی کمائی دیواروں پر یہ اشتہار لکھوانے پر خرچ کردیتا ہے کہ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا، اس جھوٹے شخص نے میری زندگی برباد کردی ہے‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.