تحریک انصاف اور (ن) لیگ کی جانب سے کون میدان میں ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) 25 جولائی کو ہونے والے آزاد کشمیر کے الیکشن کے لیے حکمران جماعت تحریک انصاف,پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت آزاد امیدواروں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی قسمت آزمانے کے لیے میدان میں آ گئے ہیں اور جہاں جماعتوں کی ٹکٹوں پر الیکشن لڑنے والے اپنی اپنی

جیت کے لیے دن رات ایک کرتے ہیں تو وہیں پر آزاد الیکشن لڑنے والے بھی ان جماعتوں کے ووٹ توڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اس کی ایک مثال کچھ عرصہ قبل گلگت بلتستان کے الیکشن کی بھی موجود ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ پنجاب میں کشمیری مہاجرین کیلئے دس کے قریب نشستیں ہیں پی ٹی آی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ پنجاب کی ان دس نشستوں میں سے آٹھ نشستیں آسانی سے جیت جائے گی۔ اسی طرح سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے علاوہ مذہبی جماعتوں نے بھی اپنے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں۔اس وقت لاہور کی ایک نشست پر پی ٹی آئی کے غلام محی الدین دیوان اور حال ہی میں مسلم لیگ کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے غلام عباس میر کے مابین مقابلہ ہے اب تک کی اطلاع کے مطابق لاہور میں ن لیگ کا کون امیدوار ہو گا اس کا ابھی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے پیپلز پارٹی کا یہ دعوی ہے کہ وہ لاہور کی نشست جیت لے گی جبکہ دیوان محی الدین پہلے بھی یہاں سے جیت چکے ہیں اور وہ حکومتی امیدوار بھی ہیں اس طرح سے ان کی بھی ایک مضبوط پوزیشن بتائی جارہی ہے بتایا گیا ہے کہ ان دونوں کی قسمت کا فیصلہ پانچ ہزار کشمیری ووٹرز کریں گے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی باقی سیاسی مصروفیات کو ترک کرکے کشمیر کے الیکشن کی انتخابی مہم چلانے کے لیے کشمیر ڈیرے لگا چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی پارٹی کے دونوں سابق وزراے اعظم سید یوسف رضا گیلانی۔راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ کو بھی اپنے ساتھ الیکشن مہم میں ساتھ رکھا ہوا ہے۔اس میں کوی شک نہیں ہے کہ گلگت بلتستان کا الیکشن ہو یا پھر کشمیر کا الیکشن ہو وفاق میں جس جماعت کی حکومت ہوتی ہے اسی جماعت کو کامیابی ملتی ہے حالیہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں پی ٹی آی کامیابی حاصل کر چکی ہے۔تاہم ہار جیت کا سورج پچیس جولائی کو طلوع ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.