جاندار سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ملتانی مخدوم شاہ محمود قریشی اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر لفظی لڑائی پہلی بار دیکھنے کو ملی۔ شاہ محمود قریشی جسے ہاتھوں سے سائز بنا کر چھوٹا سا بچہ ثابت کر رہے تھے

، اس نے ان کی عزتِ سادات خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مخدوم صاحب یہ بھول گئے ہر انسان پہلے تو ایک چھوٹا سا بچہ ہی ہوتا ہے، پھر وہ بڑا ہو جاتا ہے اب اس بڑے کو یہ کہہ کر تو چھوٹا نہیں کہا جا سکتا کہ میں اسے اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ دو سال کا بچہ تھا۔ بلاول بھٹو زرداری اب 32 سال کا کڑیل جوان ہے، پارٹی کا چیئرمین ہے، سیاست میں ”ان“ ہو چکا ہے۔ ہر فورم پر بول رہا ہے، اس کی آواز سنی جا رہی ہے، اُسے جب مخدومِ ملتان یہ کہہ کر چھیڑیں گے کہ یہ کل کا بچہ ہے، پرچی سے دیکھ کر بولتا ہے، ریموٹ کنٹرول سے چلتا ہے تو جواب میں وہی کچھ سننے کو ملے گا جو شاہ محمود قریشی کو سننا پڑا۔ بلاول بھٹو زرداری جوشِ خطابت میں بہت کچھ کہہ گئے، یہ تک کہہ گئے کہ عمران خان کو اس ملتانی نمائندے سے بچنا چاہئے کیونکہ ہم اسے عمران خان سے بہت زیادہ جانتے ہیں۔ اسے وزیر خارجہ سے اس لئے ہٹایا گیا تھا یہ دنیا میں اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف سازشیں کر رہا تھا کہ انہیں ہٹا کر مجھے وزیر اعظم بنوایا جائے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو یہ مشورہ بھی دے دیا کہ وہ شاہ محمود قریشی کا فون ٹیپ کروائیں، کئی راز فاش ہو جائیں گے۔ اب ظاہر ہے یہ سب جوابی وار تھا۔ اس میں کتنی حقیقت ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا،

البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے ملتانی مخدوم نے جان بوجھ کر آبیل مجھے مار والی صورتِ حال پیدا کی وہ یہ بھول گئے بلاول بھٹو زرداری اب ایک حقیقت ہیں اسے بچہ کہہ کر نظر انداز کرنے کے زمانے چلے گئے۔اصل میں مخالفین کو کمتر اور بچہ سمجھنے کی عادت مخدوم صاحب میں بہت پرانی ہے۔ اس کا وہ خمیازہ بھی بھگت چکے ہیں، جب 2018ء کے انتخابات ہو رہے تھے تو انہوں نے ملتان میں اپنے صوبائی اسمبلی کی نشست پر حریف سلمان نعیم کو بھی ایک بچہ ہی سمجھا تھا۔ وہ اس وقت بھی اکثر کہتے تھے اس بچے کی کیا حیثیت کہ میرا مقابلہ کرے۔ وہ اپنی مخدومی اور پارٹی کی وائس چیئرمینی کے خمار میں تھے۔ مگر جب صوبائی حلقے کا نتیجہ آیا تو وہ چاروں شانے چت پڑے تھے۔ جسے وہ بچہ سمجھتے تھے اس نے انہیں بڑے مارجن سے شکست دے دی تھی۔ ان کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے خواب چکنا چور کر دیئے تھے۔ جب یہاں سے شکست ہو گئی تو مخدوم صاحب نے دوسرے طریقے سے سلمان نعیم کو بچہ ثابت کرنے کے لئے یہ عذرداری داخل کروائی کہ شناختی کارڈ میں ان کی عمر زیادہ لکھی گئی ہے اور ان کے پاس دو شناختی کارڈ ہیں۔ وہ سلمان نعیم کی ممبر شپ معطل کرانے میں تو کامیاب رہے مگر ان کی مقبولیت کا توڑ نہیں کرسکے جو آج بھی اس صوبائی حلقے میں مخدوم صاحب سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ بچہ ان کے لئے دردِ سر بن گیا ہے۔ شاید اسی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری نے اسمبلی میں کہا کہ ملتانی نمائندہ اب اپنے حلقے میں جانے کے قابل ہی نہیں رہا ہے

آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے دستبردار ہو گیا ہے، خیر وہ تو سلمان نعیم تھا ملتان کا ایک نوجوان، جس کی کوئی جماعت تھی اور نہ سیاسی حمایت، مگر اس کے باوجود اس نے شاہ محمود قریشی کو یہ سبق دیا مخالف کو کبھی کمتر یا بچہ نہیں سمجھتا چاہئے، وہ کسی وقت بھی پلٹ کر وار کر سکتا ہے۔ مگر لگتا ہے شاہ محمود قریشی اسمبلی میں یہ سبق بھول گئے۔ وہ بلاول بھٹو زرداری کو بھی بچہ سمجھ بیٹھے۔ اسمبلی میں ان کے بچپن والے قد کا سائز بتانے لگے۔ یہ بھول گئے کہ جن دنوں کی وہ بات کر رہے تھے، ان دنوں وہ خود پیپلزپارٹی میں تھے اور بلاول بھٹو کی ماں سے سیاسی آشیر باد حاصل کرنے کے لئے آگے پیچھے پھرتے تھے۔ شاہ محمود یہ بھول گئے بلاول بھٹو ایوان میں ایک پارٹی سربراہ کے طور پر بیٹھتے ہیں اور پارٹی بھی وہ جو ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس جماعت سے انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری پہلی بار ایک پر اعتماد سیاستدان نظر آئے۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی کی اس بات کو بھی غلط ثابت کیا کہ پرچی دیکھ کر بات کرتے ہیں، انہوں نے فی البدیہہ شاہ محمود قریشی کے بارے میں ایسی باتیں کیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ شاہ محمود قریشی اور بلاول بھٹو کے درمیان نوک جھونک کا فائدہ بلاول کو ہوا کیونکہ ایک سینئر سیاستدان نے انہیں براہ راست اپنے مقابل لا کھڑا کیا۔ ہاں آصف زرداری ایوان میں موجود ہوتے

اور شاہ جی انہیں مخاطب کر کے تنقید کرتے تو جواب جو بھی آتا چوٹ مقابلے کی ہوتی۔ یہاں مخدوم صاحب نے کوئی اصولی یا اختلافی بات کرنے کی بجائے بلاول بھٹو زرداری کی عمر کو نشانہ بنایا، عمر بھی وہ جو آج سے اٹھائیس سال پہلے کی تھی۔ کچھ دن پہلے آصف علی زرداری نے کہا تھا بلاول کو سیاست سکھانے کی کیا ضرورت ہے، کبھی مچھلی کے بچے کو بھی کوئی تیرنا سکھاتا ہے۔ میرا خیال ہے آصف علی زرداری کو بلاول بھٹو کے شاہ محمود قریشی سے ٹاکرے سے خوشی ہوئی ہو گی۔ انہیں بلاول بھٹو کا قد بڑھتا ہوا نظر آیا ہوگا۔ دوسری طرف مخدوم صاحب اتنا تو سوچتے ہوں گے وہ جسے بچہ کہہ رہے تھے پھر اسے اپنے مقابل کیوں لائے؟ یہ ان سے دوسری غلطی ہوئی ہے۔ پہلی غلطی وہ ملتان میں اپنے مخالف کو بچہ سمجھ کر کر چکے ہیں، جس کا نتیجہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں اور شاید اگلے انتخابات میں انہیں اپنی قومی اسمبلی کی نشست بچانا بھی مشکل ہو جائے کیونکہ وہی نوجوان جسے وہ بچہ سمجھتے رہے ہیں صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کی نشست پر بھی مخدوم صاحب کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکا ہے اور اس کا حلقے میں ڈنکا بج رہا ہے۔ ملتانی مخدوم اپنی وزارتِ خارجہ بچانے کے لئے ”اگلی باری پھر زرداری“ کے نعرے لگاتے تھے، تو غلط نہیں کہہ رہے تھے۔ پھر مخدوم صاحب پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں اپنا سیاسی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو برا کہتے ہیں تو اس وقت بھی عجیب لگتا ہے اور جب بلاول سے کہتے ہیں میں نے تمہیں اور تمہارے باپ کو بھی دیکھا ہوا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ احسان فراموشی پر اُتر آئے ہیں۔ شاید اسی لئے بلاول بھٹو کو یہ کہنا پڑا وزیر اعظم عمران خان کو اس ملتانی بندے سے بچنا چاہئے کیونکہ جتنا ہم اسے جانتے ہیں عمران خان نہیں جانتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.