پرویز مشرف دور میں شیخ رشید اور عمران خان کا امریکہ کا ساتھ دینے کے حوالے سے موقف کیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار آصف عنایت اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ردار ہمیشہ اپنا تعارف آپ ہوتے ہیں۔ کاروباری لوگ اپنی زبان پہ اربوں کھربوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ جناب محمد رمضان شیخ ہی لے لیجیے ملک میں کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ کسی بھی شعبہ زندگی میں چلے جائیں زبان اور الفاظ پر بھروسہ

کیا جاتا ہے۔ وطن عزیز کو ایک نیا رہنما مل گیا جو یوٹرن کو سنہری اصول قرار دیتا ہے جس کی کابینہ سابقہ حکومتوں کے نیب زدوں پر مبنی ہے اور وہ سابقہ حکومتوں کو بربادی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ بے شرمی کی حد تک مہنگائی کر دی گئی، ملک میں مڈل کلاس ناپید ہو گئی۔ لوئر مڈل کلاس غریب ترین اور غریب ترین فقیر ہو گئے مگر حکمران ہیں کہ ڈھٹائی کے ساتھ Arranged Interviews دے رہے ہیں۔ اشیائے خورونوش، ملبوسات، گوشت، مرغی، سبزی نام لینا پڑ گئے، آٹا دالیں، گھی، تیل، یوٹیلیٹی بلز کوئی ایک چیز ایسی نہیں جو مہنگائی میں دن دگنی رات چگنی ترقی نہ کر گئی ہو۔ کاروبار ٹھپ صرف حکومتی گلشن کا کاروبار ہے بدعنوانی کا کاروبار ہے، دعووں،وعدوں اور دھوکوں کا کاروبار ہے۔ وہ تو اللہ کریم کاشکر ہے کہ وطن عزیز کی مربوط، مضبوط، ہر شبہ میں کامیابی سے ہمکنار ہونے والی فوج موجود جس کے حصار میں یہ حکومت اپنی مدت حیات مکمل کر رہی ہے۔ اگر وطن عزیز کی عسکری قوتیں پوری طرح چوکس نہ ہوتیں اور اس حکومت پر رہتیں تو وطن عزیز کا اس سے 100 گنا زیادہ برا حال ہو جاتا۔ جس طرح ایم آر ڈی کی تحریک اور پیپلزپارٹی کی جدوجہد میں منظور وٹو، بابر اعوان، رحمن ملک، فریال تالپور، مظفر ٹپی، ڈاکٹر سومرو کا کوئی نام تک نہیں جانتا تھا بلکہ بذات خود آصف علی زرداری بھی بھٹو خاندان سے نسبت کے بعد سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔ اسی طرح تحریک انصاف کا 22 سالہ بندوبست جسے یہ جدوجہد سمجھتے ہیں،میں شہباز گل، شیخ رشید، فواد چودھری،

بابر اعوان، عون چوہدری، مانیکا فیملی، بزدار، شہزاد اکبر کا کسی نے نام تک بھی سنا تھا؟ ہرگز نہیں، یہ کون لوگ ہیں دراصل یہ لوگ ہمارے ملک میں ایک ایسی فصل کی طرح پائے جاتے ہیں جس کا موسم حکومتوں کی ٹوٹنے اور بنتے وقت ہوتاہے یہ قوموں کی تقدیر کے بچھو ہیں۔ جو حسب جثہ آتے اور اقتدار کی اگلی بس میں سوار ہو جاتے ہیں۔ اب مقتدرہ کے پاس بھی یہی چہرے رہ گئے ہیں۔ شہباز شریف عمران خان کو اس لیے زیادہ برے لگتے ہیں کہ وہ سیدھا ان کے چھابے میں ہاتھ مارتے ہیں۔ جب مشرف دور میں پاکستان امریکہ کی افغان وار میں شامل ہوا تھا تو آج وزیراعظم کی تقریر کی تعریف کرنے والا شیخ رشید اس وقت کہتا تھا اگر پاکستان نہ مانتا تو امریکہ ہمارا آملیٹ بنا دیتا۔ انہی دنوں موجودہ وزیراعظم عمران خان جنرل پرویز مشرف کے حامی بلکہ پولنگ ایجنٹ تھے اور منتیں کر کر کے اس کو یقین دلاتے تھے کہ میں بڑا مقبول ہوں لہٰذا مجھے وزیراعظم بنا دیں۔ اس نے خفیہ اداروں سے معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے بتایا ایک سیٹ حاصل کر سکے گا جب امریکہ کی حمایت کی تو یہ مشرف کے ساتھ تھے۔ جب امریکہ خود لڑائی بند کر کے واپس جا رہا ہے تو یہ لڑائی کے خلاف بیان دے کر سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسے بیان دے رہے ہیں۔ افغان وار میں شامل ہونے والی حکومت کی پوری ٹیم سوائے مشرف کے سب ان کی کابینہ میں ہیں۔ مگر پھر بھی مقتدرہ جس کے ساتھ ہے اقتدار اس کے پاس ہے مگر مقبولیت اس کے پاس ہے جو مقتدرہ کے سیاسی کردار کے خلاف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.