ایک دلچسپ اور معنی خیز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منصورآفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قارئین۔ اسٹینڈ اپ، کھڑے ہو کر استقبال کیجئے۔ تشریف لاتے ہیں عالمِ بالا سے اس جہانِ فانی میں اعجاز الحق اور انوار الحق کے والدِ گرامی، عینی اور زین ضیا کے چہیتے ابو، شفیقہ بیگم کے شوہرِ باوفا، سابق صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق۔

میں انہیں آپ سب کی طرف سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں۔ ’’جنرل صاحب السلام علیکم‘‘۔ ’’وعلیکم السلام‘‘۔ ’’یہاں آتے ہوئے آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟‘‘۔ ’’آنے جانے میں تکلیف خواتین کو ہوا کرتی ہے‘‘۔ ’’جی، بیچاریوں کے پائوں میں مہندی لگی ہوتی ہے مگر کچھ خواتین بےنظیر بھٹو اور مریم نواز جیسی بھی ہوتی ہیں‘‘۔ ’’مریم نواز بھی شاید وزیراعظم بننا چاہتی ہیں‘‘۔ ’’جی اب وہی آپ کی سیاسی وارث ہیں‘‘۔ ’’(تھوڑے سے سخت لہجے میں اور سوالیہ نظروں سے) میری سیاسی وراث‘‘۔ ’’یہ تو آپ کو پہلے سوچنا چاہئے تھا‘‘۔ (غصے سے) ’’تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘۔ ’’آپ نے اپنا سیاسی جانشین نواز شریف کو بنایا تھا وہ ان کی بیٹی ہیں‘‘۔ ’’ہاں! میں نواز شریف کو نہیں پہچان سکا تھا‘‘۔ ’’اور عمران خان‘‘۔ ’’اُس سے تو بہتر آدمی ثابت ہوا ہے‘‘۔ ’’اُس کے لئے کوئی مشورہ؟‘‘۔ ’’یہی کہ عوام سے براہِ راست اپنے بارے میں رائے معلوم کرنے کی کوشش نہ کرے‘‘۔ ’’وہ کیوں‘‘۔ ’’ایک بار میں نے کوشش کی تھی، مہنگی پڑی تھی‘‘۔ ’’کیا ہوا تھا؟‘‘۔ ’’ایک رات میں نے اپنے مالی کی سائیکل اور چادر لی، باہر نکلا تو پہلے ہی ناکے پر پولیس نے روک لیا کہ اتنے حساس علاقے میں کیا کرتے پھر رہے ہو۔ میں نے بڑا مسکین سا لہجہ بنا کر کہا کہ جنابِ عالی! کوئی غلطی ہو گئی ہے۔ سپاہی نے فوراً مجھے مرغا بننے کا حکم دیا۔ میں نے سزا سے بچنے کی کوشش کی تو اُس نے ڈنڈا دکھایا۔ مجبوراً کان پکڑ لئے‘‘۔ ’’آپ نے باقاعدہ کان پکڑ لئے؟

(حیرت سے )‘‘۔ ’’ہاں ایک بار پکڑ لئے مگر احساس ہوا یہ تو بہت مشکل کام ہے۔ میں نے منہ سے چادر ہٹائی اور کھڑا ہو کر کہا او بےوقوف انسان! میں جنرل ضیاء الحق ہوں۔ سپاہی قہقہہ لگا کر بولا ’ایک ضیاء الحق کا پہلے عذاب کیا کم ہے کہ تم دوسرے ضیاء الحق آ گئے ہو، کان پکڑو‘۔ دوسرا سپاہی بولا ’تم ضیاء الحق کے بارے میں کوئی مزیدار لطیفہ سناؤ تو تمہیں چھوڑ دیں گے‘۔ میں نے اپنے بارے میں لطیفہ سنانا شروع کیا ہی تھا کہ پروٹو کول اور عملہ پہنچ گیا۔ اس کے بعد میں نے اپنے بارے میں عوام سے براہِ راست رائے جاننے کی غلطی نہیں کی۔ اس لئے عمران خان کو مشورہ دیا ہے‘‘۔ ’’آپ عمران خان کو ایک پاپولر لیڈر نہیں سمجھتے؟‘‘۔ ’’پاپولر لیڈر سے یاد آیا، جب میرے خلاف بہت لطیفے بنائے جانے لگے تو میں نے آفیسرز کی ڈیوٹی لگائی کہ لطیفے بنانے والوں کو تلاش کیا جائے۔ ایک بندہ میرے سامنے لایا گیا میں نے پوچھا ’تم میرے لطیفے بناتے ہو، کیا تمہیں علم نہیں میں اس ملک کا پاپولر لیڈر ہوں‘؟ کہنے لگا ’سوری سر! لطیفے تو میں بناتا ہوں مگر یہ لطیفہ جو آپ نے سنایا ہے میں نے نہیں بنایا‘۔ ’’کسی نے لکھا ہے کہ فرانس میں آپ نے ایک بیرے کو فرانسیسی بحریہ کا ایڈمرل سمجھ لیا تھا؟‘‘ ’’(ہنستے ہوئے) کیا کرتا۔ سفید وردی میں ملبوس تھا۔ کندھے پر اسٹار اور سینے پر تمغے جگمگا رہے تھے۔ بحریہ والی پٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ سو میں نے جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھولا تو اُس کی سج دھج دیکھ کر اس سے بغل گیر ہونا پڑا۔ علیک سلیک ہوئی، خیر خیریت پوچھی، صوفے پر بٹھایا۔ فرانس اور پاکستان کے فوجی تعاون پر بات چیت شروع کی، تو کمبخت نے تب کہا کہ سر میں بیرہ ہوں‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.