مگر ایک دن آئے گا برداشت کا پیمانہ لبریز ہو گا اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسانی ذہن کا معاملہ عجیب ہے۔ پرواز کرتاہے تو حدود باقی نہیں رہتیں۔ چوہدری بڑا سیانا ہے، بہت ہی سیانا۔ بہت ہی کم دانا ہیں، سیاست کی بھول بھلیوں کا جو اس قدر ادراک رکھتے ہوں۔ چھوٹی چھوٹی جزئیات سے لے کر

عہدِ آئندہ کے امکانات تک، یکساں انہماک سے وہ غور کرتاہے۔ اکثر اس کے اندازے درست ہوتے ہیں مگر بالآخر وہ حساب کتا ب ہی کا آدمی ہے۔ دو جمع دو کے شیخ رشید ایسوں کے ساتھ گواس کا موازنہ موزوں نہیں۔ نہ ان کے ساتھ،فقط اپنے لہجے کی تمکنت سے جو لطف اٹھاتے اورہمیشہ اپنے ہی خیالات کے سحر کا شکار ۔ نام نہاد رہنما اکثر ایسے ہیں کہ وضع داری نبھا نہیں سکتے اور زبان پہ قابو نہیں رکھ سکتے۔ حسابی کتابی چوہدری بھی بہت ہے۔ کسی پرانے منیم کی طرح گوشوارہ مرتّب کرنے والا۔ نون لیگ سے تب وہ شیر و شکر تھا، جب ایک بار اس نے مجھ سے کہاتھا: بہت سی کامیابیاں میں دیکھ چکا۔ اس قدر اطمینان ضرور ہے کہ جرائم اور مجرموں کی سرپرستی میں نہیں کرتا۔ اشارۃًیہ کہا کہ روحانی جہت کی آرزو البتہ تشنگی کا احساس دلاتی ہے۔ دلاتی ہی رہے گی۔ روحانیت ایک بہت برتر چیز ہے بلکہ ایک الگ طرز احساس جو ایک الگ طرز حیات تک لے جاتا ہے۔ پڑھنے کو تو سیالکوٹ کے خواجہ صاحب بھی برسوں دعائیں پڑھتے رہے مگر حاصل کیا؟ ایک دن خود اپنے صاحبِ علم اور پاک باز استاد سے الجھ پڑے۔ نثار علی خان کا سیاسی سفر تھم گیا ہے۔برسوں سے وہ اور ان کے سابق ہم نفس مخمصے کا شکار ہیں۔ بس میں ہو تاتو ایک دوسرے سے نجات پالیتے مگر یہ ہو نہ سکا۔ناقابلِ عمل، موہوم آرزوؤں کی فریب کار دنیا۔ زندگی یہی ہے وما الحیاۃ الدنیا الا متاعِ الغرور۔ زندگی ایک دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ غالب نے کہا تھا:

ہستی کے مت فریب میں آ جائیواسدؔ عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے عمران خان اصرار کرتے رہے، ایک کے بعد دوسری پیشکش کی لیکن چوہدری کا مزاج اور ذوق نئی مقتدر جماعت سے وابستگی پر آمادہ نہ ہو سکا۔ بظاہر نون لیگ میں چوہدری کا اب کوئی مستقبل نہیں۔ جو بات کھل کر کوئی نہیں کہتا، نون لیگ کے ساتھ یہ سہولت کی شادی تھی۔دونوں کا جلال اور مفاد باہم وابستہ تھے لیکن پھر شریف خاندان کی نئی نسل ا ٹھی اور معاملات بتدریج مختلف ہوتے گئے۔ وضع داری سے ہاتھ اٹھا سکتے اورجراتِ رندانہ کا مظاہرہ کر سکتے تو ایک نعرہء مستانہ کے ساتھ چوہدری صاحب نون لیگ سے الگ ہو جاتے مگر وہ مختلف آدمی ہیں۔ آدمی کی افتادِ طبع ہی اس کی تقدیر ہے۔ ایک چیز ہے، قائداعظم جسے Politics Pure کہا کرتے۔ مقصد کو ملحوظ رکھ کر، پوری حقیقت پسندی سے حکمتِ عملی وضع کرنا۔ چوہدری میں صلاحیت بے پایاں تھی مگر اخلاقی اور روحانی جہت معمولی۔ مالک کے دروازے پر آدمی جھک جائے تو یکا یک اللہ کی رحمت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ جیسے جناح ؒ۔بن مانگے تو گاہے مالک گھاس بھی نہیں دیتا؛چہ جائیکہ عظمت و رفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ اقتدار کا انبساط دنیا کا سب سے تباہ کن چیز ہے۔ عزتِ نفس اور شان و شوکت کاایک سطحی سا تصور۔ مجبوری کی یہ مصالحت اب تماشہ سابن چکی، بکھر جائے گی۔ عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری لڑائی لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہی زرداری اینڈ کمپنی تو سو بار الحذر! جرات ہی نہیں، جسارت ہی نہیں۔حسن کردار کا ایک ذرّہ نہیں،تدبیر اور فقط تدبیر۔فی الحال اسٹیبلشمنٹ نے ڈھیل دے رکھی ہے کہ وہ خود ابتلا میں ہے، سبھی ابتلا میں ہیں اور اپنی ’’دانش‘‘کے طفیل۔ ایک دن سب یہ غبارے پھٹ جائیں گے۔ ساری متاع نذر کرنا پڑتی ہے، تب قوم کی تقدیر بدلتی ہے۔ نہیں، یہ ان میں سے کسی کے بس کا نہیں۔ ابتلا بہت‘ امتحان بہت مگر کچھ آثار تو ہیں کہ تاریکی کا جگر چاک ہو۔ شاید کوئی اٹھے، شاید کوئی کہہ سکے۔ حاصلِ عمر نثارِ رہِ یارے کردم شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم

Leave a Reply

Your email address will not be published.