دلیپ کمار نے فون کرکے نواز شریف کو کیا کہا تھا ؟

ممبئی (ویب ڈیسک) دلیپ کمار مرحوم پاکستان اور انڈیا کے درمیان امن کے خواہاں تھے جس کیلئے انہوں نے زندگی میں کئی کوششیں کیں۔دلیپ کمار نے پاک بھارت امن کی خاطر ہندو انتہا پسندوں کی تمام تر مخالفت کے باوجود پاکستان کا سب سے بڑا سویلین اعزاز نشانِ امتیاز وصول کیا اور کارگل کی

لڑائی شروع ہونے کے باوجود اسے واپس نہیں لوٹایا۔پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قریشی کے مطابق مسلمانوں اور ہندوؤں میں نفرتوں کو کم کرنے کیلئے دلیپ کمار نے دو بار پاکستان کا خفیہ دورہ بھی کیا تھا۔سابق وزیر خارجہ نے اپنی آپ بیتی ” نیدر اے ہاک، نور اے ڈوو” میں کارگل لڑائی کے آغاز پر بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی، دلیپ کمار اور نواز شریف کے درمیان ہونے والی گفتگو کا بھی ذکر کیا ہے۔خورشید قصوری کے مطابق سنہ 1999 میں کارگل لڑائی شروع ہوئی تو اٹل بہاری واجپائی کے اے ڈی سی کا فون آیا کہ واجپائی نواز شریف کے ساتھ فوری بات کرنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف نے جب بات کی تو واجپائی نے کہا کہ ایک طرف تو آپ لاہور میں گرم جوشی سے استقبال کر رہے تھے لیکن دوسری طرف آپ کی فوج کارگل میں ہماری سرزمین پر قبضہ کر رہی تھی۔ واجپائی کی اس بات پر نواز شریف نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سے پوچھ کر بتاتے ہیں۔اسی دوران واجپائی نے نواز شریف سے کہا کہ آپ میرے پاس بیٹھے ہوئے تیسرے شخص سے بات کیجیے جو کہ میری اور آپ کی باتیں سن رہا ہے ۔ نواز شریف نے فون کان سے لگایا تو آگے دلیپ کمار بول رہے تھے۔دلیپ کمار نے ٹیلی فونک گفتگو میں نواز شریف سے کہا ” میاں صاحب ہمیں آپ سے یہ امید نہیں تھی کیونکہ آپ انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کے بہت بڑے حامی ہیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان تناؤ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو انڈین مسلمان اپنے آپ غیر محفوظ ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے گھروں سے بھی بار نہیں نکل سکتے، صورتحال پر قابو پانے کے لیے کچھ کریں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published.