2 پاکستانی بزرگوں کی گرما گرم بحث کا احوال ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد عرفان صدیقی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اُن دو بزرگوں کی آپس کی باتیں سن کر اندازہ ہو گیا تھا کہ عام آدمی کو قومی سطح پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے سیاسی دائو پیچ سے کوئی سروکار نہیں لیکن اُسے ریاستی

سطح پر عوامی فلاح و بہبود کی چھوٹی چھوٹی مثبت باتیں بہت بھلی لگتی ہیں۔ اس وقت وزیراعظم عمران خان بطور ریاستی سربراہ، عام آدمی کی اِس دکھتی رَگ پر مرہم رکھتے نظر آتے ہیں جس میں عوام شدید مہنگائی سمیت دیگر مشکلات کے باوجود وزیراعظم کو ہی اپنا نجات دہندہ تصور کرنے لگے ہیں۔ کچھ دیر پہلے میرے سامنے بیٹھے دونوں بزرگ ملکی سیاست پر گفتگو کر رہے تھے اور ایک بزرگ کی کوشش تھی کہ حکومت کو ناکام اور نااہل قرار دیا جائے جبکہ دوسرے بزرگ حکومت کی ناکامی کو تسلیم کرنے کے باوجود ہر دفعہ وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کا دفاع کر رہے تھے۔ اس بحث سے مجھ سمیت درجنوں دوست لطف اندوز بھی ہورہے تھے اور ان کی باتوں کی تائید بھی کررہے تھے۔ پہلے بزرگ نے ملک میں بڑھتی مہنگائی کا رونا رویا، چینی اور آٹا مہنگا ہونے کی بات کی اور اس مہنگائی کی وجہ حکومتی چوری اور بدعنوانی بتائی، دوسرے بزرگ نے جواب دیا، ٹھیک ہے، مہنگائی تو ہے لیکن قوم گواہ ہے کہ جیسے ہی وزیراعظم عمران خان کو اندازہ ہوا کہ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے میں حکومتی شخصیات کا ہاتھ ہے توانہوں نے اپنی حکومت خطرے میں ڈال کر اپنے قریبی ساتھی کے خلاف بھی سخت کارروائی کی، پورے ریاستی اختیارات استعمال کرتے ہوئے آٹے اور چینی کی قیمتوں کو کم کرنے کی کوشش کی، نیب اور ایف آئی اے کو یہ کیسز سونپے۔ پہلے بزرگ نے پھر کہا کہ ملک میں غربت بڑھتی جارہی ہے، غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے،

روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسرے بزرگ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے احساس پروگرام شروع کیا ہے، لاکھوں لوگوں کو اس پروگرام سے ماہانہ امداد ملتی ہے، غریب لوگوں کو بھوکا سونے سے بچانے کے لئے احساس پروگرام شروع کیا گیا، کورونا کے دنوں میں موبائل ریستوران تیار کیے گئے جو غریب علاقوں میں جاکر وہاں کے لوگوں کو کھانا پہنچاتے رہے، بےگھر لوگوں کو کھلے آسمان کے نیچے سونے سے بچانے کے لئے پناہ گاہیں تیار کی گئیں۔ اب پہلے بزرگ نے موضوع بدلتے ہوئے حکومت پر وار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دورِ حکومت میں ملک میں خواتین محفوظ نہیں ہیں، غریب لوگوں کی زمینوں پر بااثر افراد کے قبضے بڑھتے جارہے ہیں جس پر دوسرے بزرگ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن کبھی دیکھا ہے کہ وزیراعظم براہِ راست ایسے کیسوں کی نگرانی کرتا ہے اور جب تک ملزمان گرفتار نہیں ہو جاتے، وزیراعظم چین سے نہیں بیٹھتا۔ وزیراعظم کے پاس ایک غریب عورت کے پانچ مرلے کے گھر پر قبضے کی شکایت پہنچتی ہے تو وہ براہ راست اس مسئلے کو حل کرانے کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہے اور قبضہ ختم کراتا ہے۔ اب دوسرے بزرگ پر جوشِ خطابت حاوی ہو چکا تھا اور انہوں نے وزیراعظم کے مثبت کاموں کا نہ رکنے والا سلسلہ گنواتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کا مسئلہ ہو تو وزیراعظم ایکشن لیتے ہیں، سعودی عرب میں غریب پاکستانیوں سے زیادتیوں پر پورا سفارتخانہ تبدیل کردیا، سعودی بادشاہ کے سامنے کس درد مندی سے وہاں مقیم پاکستانیوں کے لئے نرمی کی درخواست کی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں نم ہو گئیں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے ووٹ ڈالنے کا قانون بنوایا، آج ہر اوورسیز پاکستانی اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے، اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ سفارتی افسران کی ناانصافی ثابت ہو جانے کے بعد ان کی خیر نہیں ہوتی، ماضی میں ایسا کبھی دیکھا ہے، اب اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادیں پاکستان میں محفوظ ہو گئی ہیں۔ میں سمجھ گیا کہ وزیراعظم کے پاس بےشک پچاس سے زائد وزراء اور معاونینِ خصوصی موجود ہیں لیکن عوام کو صرف وزیراعظم کی ادائیں ہی بھاتی ہیں، وہ ان ہی باتوں کا دفاع کرتے ہیں جو وزیراعظم سے متعلق ہوں اور شاید وزیراعظم بھی عام آدمی کی نبض سے واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دوسرے دن وہ ایسا اقدام کرتے ہیں جس سے بلکتا ہوا عام آدمی بھی اس امید کے ساتھ اپنے آنسو پونچھ لیتا ہے کہ ریاست اس کے دکھ سے واقف ہے اور شاید وہ اس کے دکھ کا مداوا بھی کرے گی۔ جب تک عام آدمی کی ریاست کے ساتھ یہ امید باقی ہے عام آدمی اور ریاست کا رشتہ مضبوط رہے گا۔ اسی لئے اگلے عام انتخابات میں وزیراعظم اپنی کامیابی کے لئے پر امید نظر آتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.