پاکستانی پارلیمنٹ سو رہی ہے کیا ۔۔۔؟؟ انصار عباسی بھڑک اٹھے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔گھریلو سطح پر زدوکوب کرنے کے خاتمہ کے نام پر بنایا جانے والا Bill شدید تنازع کی وجہ بننے کے سبب اب اسلامی نظریاتی کونسل کو نظرثانی کے لئے بھیجا جائے گا تاکہ دیکھا جائے کہ آیا یہ قانون اسلامی تعلیمات کے خلاف تو نہیں

اور اگر ایسا ہے تو اس کی کون کون سی شقیں خلافِ اسلام ہیں؟ اب حکومت یہ فیصلہ کر چکی کہ اس معاملے کو آگے بڑھانے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے معلوم کر لی جائے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ کونسل اس معاملہ میں اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی تجاویز دے گی جس کا سب کو انتظار کرنا چاہیے۔ لیکن ایک عام فرد کی طرح جب آپ اس بل کو پڑھتے ہیں تو اس میں قابلِ اعتراض بات کیا ہے؟ جہاں تک زدوکوب کرنے کی بات ہے تو اس کو روکنے پر تو کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا لیکن اس بل میں زدوکوب کرنے کی تعریف میں’’جذباتی،ـ نفسیاتی اور زبانی‘‘ عمل کو بھی شامل کر دیا گیا ہے ۔ زدوکوب کرنے کی اس لامحدود تعریف کی وضاحت کے لئے جن چند ’’افعال‘‘ کا بل میں ذکر کیا گیا اُن میں سے کچھ کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے جیسے یہ بل گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کلچر کو فروغ دینے کا رستہ کھول سکتا ہے، خاندان اور شادی کے اداروں کو کمزور کر سکتا ہے۔ ایک شق کے مطابق اگر شکایت کنندہ چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی اپنے باپ، ماں، بھائی یا بڑی بہن کے متعلق شکایت کرتا ہے کہ اُس کی توہین کی گئی یا اُس کی توہین کی جاتی ہے تو یہ زدوکوب کرنے کے زمرے میں آئے گا جس کی سزا تین سال تک ہے اور جس کے نتیجے میں جس فرد کے خلاف شکایت کی گئی اُسے گھر سے بھی بے دخل ہونا پڑے گا۔ اس طرح اگر باپ، ماں، بھائی، بڑی بہن کو اپنے گھر کے کسی لڑکے یا لڑکی کے

بارے میں شک ہے کہ اُس کا بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ ہے تو اس کے لئے اُس لڑکے یا لڑکی کی نگرانی کی جاتی ہے، اُسے تربیت کے مقصد کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ تم گھر سے نہیں نکل سکتے یا نکل سکتی تو نگرانی کرنا اور اُس کو گھر سے نکلنے سے روکنا بھی اُس کے لئے جذباتی اور نفسیاتی زدوکوب کرنا بن جائے گا۔ اگر باپ نے، ماں نے، بڑی بہن یا بھائی نے اپنے ہی خاندان کے لڑکے لڑکی کو یہ بھی کہہ دیا کہ میں تمھیں سبق سکھاؤں گا اگر تم نے یہ کیا ۔۔۔ تو یہ جسمانی اور ذہنی طور پر تکلیف دینے کی وارننگ کے زمرے میں آئے گا جو اس بل کے مطابق قابل گرفت گھریلو سطح پر زدوکوب کرنا ہ و گا۔ اگر گھر کا کوئی فرد یہ شکایت کر دے کہ اُسے اُس کے باپ، شوہر، بھائی، ماں، بہن نے ایسا کیا اور اس میں جسمانی عنصر شامل نہ ہو تو بھی یہ اس بل کے تحت جرم تصور ہوگا۔ اس قانون میں کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں لیکن اس کے خدوخال کو دیکھ کر واضح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس کا اصل مقصد وہ نہیں جو بتایا جا رہا ہے بلکہ خاندانی نظام اورشادی کے بندھن کو کمزور کرنا اور بوائے فرینڈ گرل فرینڈ کلچر کو فروغ دینا ہے جس پر والدین، بڑے بھائی بہن کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہ ہو۔ آج کل سکولوں کالجوں کا کوئی حال نہیں۔ اگر آپ اپنے بچوں کو ڈسپلن کرنا چاہیں گے اور اُن پر تربیت کی غرض سے جائز سختی کریں گے، روک ٹوک کریں گے ، اُنہیں بوائےفرینڈ گرل فرینڈ کلچر سے بچائیں گے تو پھر آپ جذباتی، نفسیاتی یا زبانی زدوکوب کرنے کے مجرم قرار پا سکتے ہیں۔ اس بل کا سب سے خطرناک پہلو بچوں کو بوائے فرینڈ گرل فرینڈ کلچر اپنانے جبکہ ماں باپ کو قید میں بھیجنے، گھر سے بے دخل کرنے اور مجرموں کے ہاتھوں اور پائوں میں کڑے پہنانے کا ڈر پیدا کرنا ہے۔ بل پڑھ کر سوچتا ہوں کہ ہماری پارلیمنٹ کے ارکان کیا سوئے ہوئے ہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.