چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے کے اصول پر عمل پیرا شریف اور زر والے عمران خان کو رخصت کرنے کے لیے کس حد تک جائیں گے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) کورونا کی پہلی لہر اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور حکومت کے بہتر اقدامات کی وجہ سے پاکستانی عوام کے لئے خطرناک ثابت نہیں ہوئی۔ ع رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت دوسری لہر میں ایس اوپیز کی خلاف ورزی اور بے ہنگم اجتماعات کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے

جسے عمران خان بجا طور پر کفران نعمت قرار دے چکے ہیں‘نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپوزیشن پہلی لہر کے دوران کرفیو نما لاک ڈائون کا مطالبہ شدومد سے کرتی اور سندھ حکومت کے اقدامات کی زبردست مداح رہی جس نے پنجاب اور دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ سخت اقدامات کئے۔ اب بھی سندھ بالخصوص کراچی میں کورونا کا پھیلائو زیادہ ہے اور سندھ حکومت اس پر قابو پانے کے لئے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا چکی ہے۔ بلاول بھٹو کی ہمشیرہ اور آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کی تقریب انہی پابندیوں اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ وقوع پذیر ہوئی مگر عام شہریوں کے معاملے میں صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں مسلم لیگ(ن)‘ جمعیت علماء اسلام اور دیگراپوزیشن جماعتوں کے رہنما اس قدر سنگدل و سفاک واقع ہوئے ہیں کہ انہیں جلسوں اور ریلیوں میں پرجوش شرکت کی دعوت دے رہے ہیں جہاں ایس او پیز کی پابندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اپوزیشن کے سر پر عمران خان کی حکومت گرانے کا بھوت سوار ہے جس نے کرپشن مقدمات میں شریف خاندان اور زرداری خاندان کا ناطقہ بند کر رکھا ہے اور جوش انتقام میں کسی کو عوام کی صحت بلکہ زندگی سے کوئی سروکار نہیں۔ بعض اوقات آدمی اس بدگمانی کا شکار ہوتا ہے کہیں اپوزیشن لیڈر بالخصوص دونوں سابقہ حکمران خاندانوں کے سپوت واقعی کورونا کے پھیلائو میں دلچسپی تو نہیں رکھتے کہ ایران‘ اٹلی‘ امریکہ اور سپین کی طرح اموات ہوں اور وہ اسے عمران خان کی نااہلی ثابت کر کے اپنی خواہشات کی تکمیل کر سکیں۔

اپوزیشن تو کھل کر کہہ رہی ہے کہ اس کے نزدیک عمران خان کورونا سے زیادہ خطرناک ہے۔ مطلب واضح ہے کہ کورونا سے صرف جان جانے کا خطرہ ہے جبکہ عمران خان سدا حکمرانی کے خواہش مند افراد اور خاندانوں کے مال‘ اولاد اور سیاست کے لئے تباہ کن ۔جو لوگ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے کے اصول پر کاربند ہیں وہ عمران خان کی رخصتی کے لئے ہر دائو آزمائیں گے لیکن حیرت حکومت پر ہے جو ایک طرف کورونا کی تباہ کاریوں سے واقف اور روک تھام کے لئے سنجیدگی کی دعویدار ہے مگر ملتان میں قانون کی عملدراری کو یقینی بنا سکی نہ اپنے بلند بانگ دعوئوں کی لاج رکھ پائی اور نہ اپوزیشن کو فری ہینڈ دینے کی پرانی فراخدلانہ پالیسی پر کاربند رہی۔ پاکستان میں قانون کی مٹی پلید کرنے میں ہماری سیاسی جماعتوں کا اہم کردار رہا ہے۔ احتجاجی سیاست نے عوام کو قانون شکنی کی ترغیب دی اور بلا تخصیص ہر سیاسی رہنما نے ملکی قوانین ہی نہیں ریاست کو کمزور کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔ موجودہ حکومت نے مگر عوام سے قانون کی بلا تفریق و امتیاز عملداری کا عہد کیا اور عمران خان بار بار اپنے وعدے کی تکمیل کا یقین دلاتے ہیں‘ کورونا ایسا مہلک اور موذی مرض ہے جو نہ بڑے چھوٹے میں کوئی تفریق کرتا ہے نہ لیڈر اور کارکن میں امتیاز برتتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے نقطہ نظر اور پوائنٹ سکورنگ سے قطع نظر جملہ طبّی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سماجی فاصلے اور ماسک کی پابندی کے بغیر پھیلائو روکنا ممکن نہیں اور ہر طرح کے اجتماعات عوامی صحت کے لئے زہر قاتل ہیں‘ حکومت نے اگر اجتماع روکنے کا فیصلہ کیا تھا تو پھر آسمان گرتا یا زمین پھٹتی‘ اپنے فیصلے کی پابندی کراتی مگر پہلے گرفتاریوں اور پابندیوں پر اصرار اور آخری روز جلسہ کرنے کی اجازت‘ یہ کھلا تضاد ہے جس کے بل بوتے پر ملک میں قانون کا بلا تمیز اطلاق ممکن ہے نہ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد آسان۔ پنجاب حکومت اور ملتان کی پولیس و انتظامیہ میں جلسہ روکنے کی صلاحیت نہ تھی تو بڑھکیں مارنے‘ کنٹینر کھڑے کرنے‘ رکاوٹیں ڈالنے اور گرفتاریوں سے اپنی جگ ہنسائی کرانے کی ضرورت کیا تھی ماڑی سی تے لڑی کیوں سی؟ بزدار حکومت اور حکومتی مشیروں کو سوچنا ضرور چاہیے اپوزیشن اگر شکر گزار نہیں تو یہ اس کی احسان ناشناسی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.